اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
757. باب استحباب قتل الوزغ
باب: گرگٹ کا مارنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1443
1443 صحيح حديث أُمِّ شَرِيكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا بِقَتْلِ الأَوْزَاغِ
سیدنا ام شریک رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم دیا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1443]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 59 كتاب بدء الخلق: 15 باب خير مال المسلم غنم يتبع بها شعف الجبال»
وضاحت: راوي حدیث:… حضرت غزیہ بنت جابر بن حکیم رضی اللہ عنہ کی کنیت ام شریک العامریہ انصاریہ تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا آپ ہبہ کیا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا تھا۔ پھر نکاح نہیں کیا حتیٰ کہ فوت ہو گئیں۔ مکہ میں ہی اسلام قبول کیا تھا۔ خفیہ طور پر قریش کی عورتوں کو اسلام کی دعوت دیتی رہیں۔ حتیٰ کہ ان کا یہ راز ظاہر ہو گیا اور مکہ والوں نے پکڑ کر کہا کہ اگر تیری قوم نہ ہوتی تو ہم تیرے ساتھ یہ یہ کرتے لیکن اب تجھے تیری قوم کے حوالے کرتے ہیں۔ تمام کتب صحاح ستہ میں ان کی روایات موجود ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1444
1444 صحيح حديث عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلْوَزَغِ فُوَيْسِقٌ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو ”موذی“ کہا تھا، لیکن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مارنے کا بھی حکم دیا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب السلام/حدیث: 1444]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 28 كتاب جزاء الصيد: 7 باب ما يقتل المحرم من الدواب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»