Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب بَيَانِ صِفَةِ مَنِيِّ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ وَأَنَّ الْوَلَدَ مَخْلُوقٌ مِنْ مَائِهِمَا:
باب: مرد اور عورت کی منی کی خصوصیات اور یہ کہ بچہ ان دونوں کے پانی سے پیدا ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 315 ترقیم شاملہ: -- 716
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ ، يَعْنِي أَخَاهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ، قَالَ: " كُنْتُ قَائِمًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ حِبْرٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، فَدَفَعْتُهُ دَفْعَةً كَادَ يُصْرَعُ مِنْهَا، فَقَالَ: لِمَ تَدْفَعُنِي؟ فَقُلْتُ: أَلَا تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّمَا نَدْعُوهُ بِاسْمِهِ الَّذِي سَمَّاهُ بِهِ أَهْلُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اسْمِي مُحَمَّدٌ الَّذِي سَمَّانِي بِهِ أَهْلِي "، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَنْفَعُكَ شَيْءٌ إِنْ حَدَّثْتُكَ؟ "، قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنَيَّ، فَنَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مَعَهُ، فَقَالَ: " سَلْ "، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُمْ فِي الظُّلْمَةِ دُونَ الْجِسْرِ "، قَالَ: فَمَنْ أَوَّلُ النَّاسِ إِجَازَةً؟ قَالَ: " فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ "، قَالَ الْيَهُودِيُّ: فَمَا تُحْفَتُهُمْ حِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: " زِيَادَةُ كَبِدِ النُّونِ "، قَالَ: فَمَا غِذَاؤُهُمْ عَلَى إِثْرِهَا؟ قَالَ: " يُنْحَرُ لَهُمْ ثَوْرُ الْجَنَّةِ الَّذِي كَانَ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِهَا "، قَالَ: فَمَا شَرَابُهُمْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: " مِنْ عَيْنٍ فِيهَا، تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا "، قَالَ: صَدَقْتَ، قَال: وَجِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْ شَيْءٍ لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ، إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ رَجُلٌ، أَوْ رَجُلَانِ، قَالَ: " يَنْفَعُكَ إِنْ حَدَّثْتُكَ "، قَالَ: أَسْمَعُ بِأُذُنَيَّ، قَالَ: جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْوَلَدِ، قَالَ: " مَاءُ الرَّجُلِ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ أَصْفَرُ، فَإِذَا اجْتَمَعَا فَعَلَا مَنِيُّ الرَّجُلِ مَنِيَّ الْمَرْأَةِ، أَذْكَرَا بِإِذْنِ اللَّهِ، وَإِذَا عَلَا مَنِيُّ الْمَرْأَةِ مَنِيَّ الرَّجُلِ آنَثَا بِإِذْنِ اللَّهِ "، قَالَ الْيَهُودِيُّ: لَقَدْ صَدَقْتَ وَإِنَّكَ لَنَبِيٌّ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَذَهَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ سَأَلَنِي هَذَا عَنِ الَّذِي سَأَلَنِي عَنْهُ، وَمَا لِي عِلْمٌ بِشَيْءٍ مِنْهُ حَتَّى أَتَانِيَ اللَّهُ بِهِ ".
ابوتوبہ نے، جو ربیع بن نافع ہیں، ہم سے حدیث بیان کی، کہا: معاویہ بن سلام نے ہمیں اپنے بھائی زید سے حدیث سنائی، کہا: انہوں نے ابوسلام سے سنا، کہا: مجھ سے ابواسماء رحبی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث سنائی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا تھا ایک یہودی عالم (حبر) آپ کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! آپ پر سلام ہو، میں نے اس کو اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا۔ اس نے کہا: مجھے دھکا کیوں دیتے ہو؟ میں نے کہا: تم یا رسول اللہ! نہیں کہہ سکتے؟ یہودی نے کہا: ہم تو آپ کو اسی نام سے پکارتے ہیں جو آپ کے گھر والوں نے آپ کا رکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً میرا نام محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے جو میرے گھر والوں نے رکھا ہے۔ یہودی بولا: میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: اگر میں تمہیں کچھ بتاؤں گا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہو گا؟ اس نے کہا: میں اپنے دونوں کانوں سے توجہ سے سنوں گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھڑی، جو آپ کے پاس تھی، زمین پر آہستہ آہستہ ماری اور فرمایا: پوچھو۔ یہودی نے کہا: جس دن زمین دوسری زمین سے بدلے گی اور آسمان (بھی) بدلے جائیں گے تو لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پل (صراط) سے (ذرا) پہلے اندھیرے میں ہوں گے۔ یہودی نے پوچھا: سب سے پہلے جنت میں کون داخل ہو گا؟ آپ نے فرمایا: فقرائے مہاجرین۔ یہودی نے پوچھا: جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کو کیا پیش کیا جائے گا؟ تو آپ نے فرمایا: مچھلی کے جگر کا زائد حصہ۔ اس نے کہا: اس کے بعد ان کا کھانا کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ان کے لیے جنت میں بیل ذبح کیا جائے گا جو اس کے اطراف میں چرتا پھرتا ہے۔ اس نے کہا: اس (کھانے) پر ان کا مشروب کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: اس (جنت) کے سلسبیل نامی چشمے سے۔ اس نے کہا: آپ نے سچ کہا، پھر کہا: میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جسے اہل زمین سے محض ایک بنی جانتا ہے یا ایک دو اور انسان۔ آپ نے فرمایا: اگر میں تمہیں بتا دیا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہو گا؟ اس نے کہا: میں کان لگا کر سنوں گا۔ اس نے کہا: میں آپ سے اولاد کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا: مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد، جب دونوں ملتے ہیں اور مرد کا مادہ منویہ عورت کی منی سے غالب آ جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جاتی ہے تو اللہ عزوجل کے حکم سے دونوں کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی۔ یہودی نے کہا: آپ نے واقعی صحیح فرمایا اور آپ یقیناً نبی ہیں، پھر وہ پلٹ کر چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا اس وقت تک مجھے اس میں سے کسی چیز کا کچھ علم نہ تھا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا علم عطا کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 716]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا تھا تو ایک یہودی عالم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: السلام علیک، اے محمد! میں نے اس کو اس قدر زور سے دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا تو اس نے کہا، مجھے دھکا کیوں دیتے ہو؟ میں نے کہا: تو اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں کہتا؟ یہودی نے کہا، ہم تو آپ کو اس نام سے پکارتے ہیں، جو اس کا اس کے گھر والوں نے رکھا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا نام محمد ہے، جو میرے گھر والوں نے رکھا ہے۔ یہودی بولا، میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا اگر میں تمہیں کچھ بتاؤں تو تجھے اس سے فائدہ ہو گا؟ اس نے کہا، میں اپنے دونوں کانوں سے سنوں گا (یعنی توجہ سے سنوں گا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھڑی سے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، زمین پر لکیر کھینچی اور فرمایا: پوچھ۔ یہودی نے کہا، جب زمین و آسمان دوسری زمین اور آسمان سے بدل دیے جائیں گے تو لوگ اس وقت کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پل صراط سے قریب اندھیروں میں ہوں گے۔ اس نے کہا، سب سے پہلے کون لوگ گزریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فقیر مہاجرین۔ یہودی نے کہا، ان کو کیا تحفہ ملے گا؟ جب وہ جنت میں داخل ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مچھلی کے جگر کا ٹکڑا۔ اس نے کہا، اس کے بعد ان کی خوراک کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے لیے جنت کا وہ بیل ذبح کیا جائے گا، جو اس کے اطراف میں چرتا تھا۔ اس نے کہا، اس کے بعد ان کا مشروب کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کا چشمہ، جس کا نام سلسبیل ہے۔ اس نے کہا، آپ نے سچ فرمایا، پھر کہا، میں آپ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں، جسے اہل زمین سے نبی یا ایک دو آدمیوں کے سوا کوئی نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے تمہیں بتا دیا تو تجھے فائدہ ہو گا؟ اس نے کہا، غور سے سنوں گا، اس نے کہا، میں آپ سے اولاد کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد کا پانی (منی) سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد، جب دونوں مل جاتے ہیں، اور مرد کا پانی عورت کی منی پر غالب آ جاتا ہے تو وہ اللہ کے حکم سے مذکر پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی، مرد کی منی پر غالب آ جاتی ہے تو وہ اللہ کے حکم سے مونث بنتی ہے۔ یہودی نے کہا، آپ نے واقعی صحیح فرمایا، اور آپ نبی ہیں پھر واپس پلٹ کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا کہ میں سوال کے وقت اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے بارے میں بتایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 716]
ترقیم فوادعبدالباقی: 315
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 315 ترقیم شاملہ: -- 717
وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: زَائِدَةُ كَبِدِ النُّونِ، وَقَالَ: أَذْكَرَ، وَآنَثَ، وَلَمْ يَقُلْ: أَذْكَرَا، وَآنَثَا.
یحییٰ بن حسان نے ہمیں خبر دی کہ ہمیں معاویہ بن سلام نے اسی اسناد کے ساتھ اسی طرح حدیث سنائی، سوائے اس کے کہ (یحییٰ نے) قائماً (کھڑا تھا) کے بجائے قاعداً (بیٹھا تھا) کہا اور (زیادۃ کبدالنون کے بجائے) زائدۃ کبد النون کہا (معنی ایک ہی ہے) اور انہوں نے اذکر و آنت (اس کے ہاں بیٹا اور بیٹی کی ولادت ہوتی ہے) کے الفاظ کہے، اور اذکر و آنثا (ان دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اور ان دونوں کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 717]
یہی روایت مجھے عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی رحمہ اللہ نے یحییٰ بن حسان رحمہ اللہ کے واسطہ سے معاویہ بن سلام رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے اس طرح سنائی، صرف اتنا فرق ہے کہ اوپر والی روایت میں «قائماً» (کھڑا تھا) ہے اور اس میں «قاعداً» (بیٹھا تھا) اوپر لفظ (زیادہ) اور یہاں «زائدة» «أذكرا» اور «آنثا» کی جگہ «ذكر» اور «آنث» ہے، معنی ایک ہی ہے۔ «أذكرا»، «أذكر» مذکر ہونا۔ «آنثا»، «آنث» مونث ہونا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 717]
ترقیم فوادعبدالباقی: 315
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں