اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
806. باب من فضائل أبي بكر الصديق رضی اللہ عنہ
باب: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 1540
1540 صحيح حديث أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنه، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا فِي الْغَارِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ تَحْتَ قَدَمَيْهِ لأَبْصَرَنَا فَقَالَ: مَا ظَنُّكَ، يَا أَبَا بَكْرٍ بِاثْنَيْنِ اللهُ ثَالِثُهُمَا
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم غار ثور میں چھپے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر مشرکین کے کسی آدمی نے اپنے قدموں پر نظر ڈالی تو وہ ضرور ہم کو دیکھ لے گا۔ اس پر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! ان دو کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1540]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 2 باب مناقب المهاجرين وفضلهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1541
1541 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَهِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ، وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَعَجِبْنَا لَهُ وَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هذَا الشَّيْخِ، يُخْبِرُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَيّرَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِه وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلاً مِنْ أُمَّتِي لاَتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، إِلاَّ خُلَّةَ الإِسْلاَمِ لا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِد خَوْخَةٌ إِلاَّ خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دیا کہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو وہ چاہے اسے اپنے لیے پسند کر لے یا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے (آخرت میں) اسے پسند کر لے، اس بندے نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والی چیز کو پسند کر لیا۔“ اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا: ”ہمارے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں۔“ (سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہمیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس رونے پر حیرت ہوئی، بعض لوگوں نے کہا: ان بزرگ کو دیکھیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں اور جو اللہ کے پاس ہے اس میں سے کسی کے پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ماں باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ان دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ اس بات سے واقف تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر صرف ایک ابوبکر ہیں۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا جانی بنا سکتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، البتہ اسلامی رشتہ ان کے ساتھ کافی ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ اب کھلا ہوا باقی نہ رکھا جائے سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازے کے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1541]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 63 كتاب مناقب الأنصار: 45 باب هجرة النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأصحابه إلى المدينة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1542
1542 صحيح حديث عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ: عَائِشَةُ فَقُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ قَالَ: أَبُوهَا، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَعَدَّ رِجَالاً
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوۂ ذات السلاسل کے لیے بھیجا (عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ سب سے زیادہ محبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس سے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے۔“ میں نے پوچھا: اور مردوں میں؟ فرمایا: ”اس کے باپ سے۔“ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: ”عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) سے۔“ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1542]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (لو كنت متخذًا خليلاً»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1543
1543 صحيح حديث جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمِ، قَالَ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِع إِلَيْهِ قَالَتْ: أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ كَأَنَّهَا تَقولُ: الْمَوْتَ قَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: إِنْ لَمْ تَجِدِيني فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”پھر آنا۔“ اس نے کہا: اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم مجھے نہ پا سکو تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلی آنا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1543]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 62 كتاب فضائل أصحاب النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 5 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لو كنت متخذًا خليلاً»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1544
1544 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلاَةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبهَا فَضَرَبَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهذَا؛ إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحَرْثِ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ فَقَالَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهذَا، أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ وَبَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ فَذَهَبَ مِنْهَا بَشَاةٍ، فَطَلَبَ حَتَّى كَأَنَّهُ اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: هذَا، اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي، فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لاَ رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ قَالَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”ایک شخص (بنی اسرائیل کا) اپنی گائے ہانکے لیے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہو گیا اور پھر اسے مارا۔ اس گائے نے (بقدرتِ الٰہی) کہا کہ ہم جانور سواری کے لیے نہیں پیدا کیے گئے۔ ہماری پیدائش تو کھیتی کے لیے ہوئی ہے۔ لوگوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“! گائے بات کرتی ہے۔ پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی۔ حالانکہ یہ دونوں وہاں موجود بھی نہیں تھے۔ اسی طرح ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور ریوڑ میں سے ایک بکری اٹھا کر لے جانے لگا۔ چرواہا دوڑا اور اس نے بکری کو بھیڑیے سے چھڑا لیا۔ اس پر بھیڑیا (بقدرتِ الٰہی) بولا: آج تو تم نے مجھ سے اسے چھڑا لیا لیکن درندوں والے دن میں (قربِ قیامت) اسے کون بچائے گا جس دن میرے سوا اور کوئی اس کا چرواہا نہ ہوگا؟ لوگوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“! بھیڑیا باتیں کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو اس بات پر ایمان لایا اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1544]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان»
وضاحت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرات شیخین کی قوت ایمان پر یقین تھا، اسی لیے آپ نے ان کو اس پر ایمان لانے میں شریک فرمایا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس نے گائے اور بھیڑئیے کو کلام کرنے کی طاقت دے دی۔ اس میں دلیل ہے کہ جانوروں کا استعمال ان ہی کاموں کے لیے ہونا چاہیے جن میں بطور عادت وہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ (فتح الباری)
الحكم على الحديث:
«صحیح»