🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
806. باب من فضائل أبي بكر الصديق رضی اللہ عنہ
باب: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1544
1544 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلاَةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبهَا فَضَرَبَهَا فَقَالَتْ: إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهذَا؛ إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحَرْثِ فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ بَقَرَةٌ تَكَلَّمُ فَقَالَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهذَا، أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ وَبَيْنَمَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ إِذْ عَدَا الذِّئْبُ فَذَهَبَ مِنْهَا بَشَاةٍ، فَطَلَبَ حَتَّى كَأَنَّهُ اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: هذَا، اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي، فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لاَ رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ قَالَ: فَإِنِّي أُومِنُ بِهذَا أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمَا هُمَا ثَمَّ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”ایک شخص (بنی اسرائیل کا) اپنی گائے ہانکے لیے جا رہا تھا کہ وہ اس پر سوار ہو گیا اور پھر اسے مارا۔ اس گائے نے (بقدرتِ الٰہی) کہا کہ ہم جانور سواری کے لیے نہیں پیدا کیے گئے۔ ہماری پیدائش تو کھیتی کے لیے ہوئی ہے۔ لوگوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“! گائے بات کرتی ہے۔ پھر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی۔ حالانکہ یہ دونوں وہاں موجود بھی نہیں تھے۔ اسی طرح ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور ریوڑ میں سے ایک بکری اٹھا کر لے جانے لگا۔ چرواہا دوڑا اور اس نے بکری کو بھیڑیے سے چھڑا لیا۔ اس پر بھیڑیا (بقدرتِ الٰہی) بولا: آج تو تم نے مجھ سے اسے چھڑا لیا لیکن درندوں والے دن میں (قربِ قیامت) اسے کون بچائے گا جس دن میرے سوا اور کوئی اس کا چرواہا نہ ہوگا؟ لوگوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“! بھیڑیا باتیں کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تو اس بات پر ایمان لایا اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی۔ حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1544]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 54 باب حدثنا أبو اليمان»
وضاحت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرات شیخین کی قوت ایمان پر یقین تھا، اسی لیے آپ نے ان کو اس پر ایمان لانے میں شریک فرمایا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس نے گائے اور بھیڑئیے کو کلام کرنے کی طاقت دے دی۔ اس میں دلیل ہے کہ جانوروں کا استعمال ان ہی کاموں کے لیے ہونا چاہیے جن میں بطور عادت وہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ (فتح الباری)

الحكم على الحديث:
«صحیح»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1544 in Urdu