🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

809. باب من فضائل عليّ بن أبي طالب رضی اللہ عنہ
باب: حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1556
1556 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَن رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرجَ إِلَى تَبُوكَ، وَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا فَقَالَ: أَتخَلفُنِي فِي الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ قَالَ: أَلاَ تَرْضى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هارونَ مِنْ موسى إِلاَّ أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک کے لیے تشریف لے گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا، علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ میرے لیے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام تھے؟ لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازي: 78 باب غزوة تبوك وهي غزوة العسرة»
وضاحت: امام نووی رحمہ اللہ مسلم کی شرح میں فرماتے ہیں کہ قاضی عیاض نے فرمایا ہے اس حدیث سے روافض اور امامیہ فرقے نے بلکہ تمام شیعہ جماعتوں نے دلیل لی ہے کہ خلافت حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حق تھا انہیں اس کی وصیت بھی کی گئی تھی۔ فرماتے ہیں پھر یہ فرقے خود اختلاف کا شکار ہو گئے ہیں۔ روافض نے تو تمام صحابہ کو کافر قرار دیا کیونکہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقدم نہیں رکھا اور بعض شیعوں نے مزید تجاوز کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی کافر قرار دیا کہ وہ اپنا حق طلب کرنے کے لیے کھڑے کیوں نہ ہوئے۔ یہ سب گھٹیا مذہب کے لوگ ہیں اور عقل کے اعتبار سے فاسد کہ ان کی بات کا رد کیا جائے یا ان سے مناظرہ کیا جائے۔ حالانکہ اس حدیث میں ان کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں کہ وہ سیّدناعلی رضی اللہ عنہ کی(اصحابِ ثلاثہ پر) فضیلت کو ثابت کر سکیں۔ کیونکہ اس میں کوئی ایسا اشارہ موجود نہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کسی سے افضل ہیں یا فلاں کے مثل ہیں۔ نہ اس میں یہ دلیل ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ ہوں گے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ بات اس وقت فرمائی تھی جب انہیں مدینہ میں امیر مقرر فرما کر خود باقی تمام صحابہ کو لے کر غزوہ تبوک کی طرف گئے تھے جس کی تائید یہ بات بھی کرتی ہے کہ ہارون علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ نہیں بنے تھے بلکہ وہ تو موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے۔ حضرت ہارون کو تو موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت اپنا جانشین بنایا تھا جب خود اپنے رب سے مناجات و گفتگو کے لیے میقات (طور پہاڑ) کو روانہ ہوئے تھے۔ (مرتب)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1557
1557 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، يَوْمَ خَيْبَرَ: لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلاً يَفتَحُ اللهُ عَلَى يَديْهِ فَقَامُوا يَرْجُونَ لِذلِكَ، أَيُّهُمْ يُعْطَى فَغَدَوْا وَكُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطِي فَقَالَ: أَيْنَ عَلِيٌّ فَقِيلَ: يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَأَمَرَ، فَدُعِي لَهُ، فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ، فَبَرَأَ مَكَانَهُ حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ فَقَالَ: نقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ: عَلَى رِسْلِكَ، حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ، فَوَاللهِ لأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا تھا: ”میں یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا۔“ اب سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھیے جھنڈا کسے ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو سب سرکردہ لوگ اسی امید میں رہے کہ کاش! انہیں کو مل جائے، لیکن آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا کہ وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن مبارک ان کی آنکھوں میں لگا دیا اور فوراً ہی وہ اچھے ہو گئے جیسے پہلے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ان (یہودیوں سے) اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک یہ ہمارے جیسے (مسلمان) نہ ہو جائیں، لیکن آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اطمینان سے ان کے میدان میں اتر کر انہیں اسلام کی دعوت دو اور ان کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں ان کی خبر کر دو (پھر اگر وہ نہ مانیں تو لڑنا)، اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1557]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 102 باب دعاء النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إلى الإسلام والنبوة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1558
1558 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ رضي الله عنه قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رضي الله عنه تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَيْبَرَ، وَكَانَ بِهِ رَمَدٌ فَقَالَ: أَنَا أَتَخَلَّفُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلِيٌّ، فَلَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ اللَّيْلَةِ الَّتِي فَتَحَهَا فِي صَبَاحِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ أَوْ قَالَ: لَيَأْخُذَنَّ غَدًا رَجُلٌ يُحِبُّهُ اللهُ وَرَسُولُهُ، أَوْ قَالَ: يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللهُ عَلَيْهِ فَإِذَا نَحْنُ بِعَلِيٍّ، وَمَا نَرْجُوهُ فَقَالُوا: هذَا عَلِيٌّ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوۂ خیبر کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، پھر انہوں نے کہا کہ کیا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوں گا؟ چنانچہ وہ نکلے اور آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ اس رات کی شام کو جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا ہے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسلامی پرچم اس شخص کو دوں گا“ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا): ”کل اسلامی پرچم اس شخص کے ہاتھ میں ہو گا جسے اللہ اور اس کے رسول اپنا محبوب رکھتے ہیں۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ: ”جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اس شخص کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں کوئی امید نہ تھی (کیونکہ وہ آشوبِ چشم میں مبتلا تھے) لوگوں نے کہا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا ان کو دیا، اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح فرمائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1558]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 121 باب ما قيل في لواء النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1559
1559 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَيْتَ فَاطِمَةَ، فَلَمْ يَجِدْ علِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ: أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ قَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَغَاضَبَنِي، فَخَرَجَ، فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لإِنْسَانٍ: انْظُرْ أَيْنَ هُوَ فَجَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ، قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ، وَأَصَابَهُ تُرَابٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ، وَيَقُولُ: قُمْ أَبا تُرَابٍ قُمْ أَبَا تُرَابٍ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے، دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ ناگواری پیش آگئی اور وہ مجھ پر خفا ہو کر کہیں باہر چلے گئے ہیں اور میرے یہاں قیلولہ بھی نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”علی کو تلاش کرو کہاں ہیں؟“ وہ آئے اور بتایا کہ وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے، چادر آپ کے پہلو سے گر گئی تھی اور جسم پر مٹی لگ گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جسم سے دھول جھاڑتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے: «قُمْ أَبَا تُرَابٍ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ» ”اٹھو ابو تراب! اٹھو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1559]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 58 باب نوم الرجال في المسجد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں