اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
809. باب من فضائل عليّ بن أبي طالب رضی اللہ عنہ
باب: حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل
حدیث نمبر: 1557
1557 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، يَوْمَ خَيْبَرَ: لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلاً يَفتَحُ اللهُ عَلَى يَديْهِ فَقَامُوا يَرْجُونَ لِذلِكَ، أَيُّهُمْ يُعْطَى فَغَدَوْا وَكُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطِي فَقَالَ: أَيْنَ عَلِيٌّ فَقِيلَ: يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَأَمَرَ، فَدُعِي لَهُ، فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ، فَبَرَأَ مَكَانَهُ حَتَّى كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ شَيْءٌ فَقَالَ: نقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ: عَلَى رِسْلِكَ، حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الإِسْلاَمِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ، فَوَاللهِ لأَنْ يُهْدَى بِكَ رَجُلٌ وَاحِدٌ خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا تھا: ”میں یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا۔“ اب سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھیے جھنڈا کسے ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو سب سرکردہ لوگ اسی امید میں رہے کہ کاش! انہیں کو مل جائے، لیکن آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا کہ وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں بلایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن مبارک ان کی آنکھوں میں لگا دیا اور فوراً ہی وہ اچھے ہو گئے جیسے پہلے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ان (یہودیوں سے) اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک یہ ہمارے جیسے (مسلمان) نہ ہو جائیں، لیکن آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اطمینان سے ان کے میدان میں اتر کر انہیں اسلام کی دعوت دو اور ان کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں ان کی خبر کر دو (پھر اگر وہ نہ مانیں تو لڑنا)، اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1557]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 102 باب دعاء النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إلى الإسلام والنبوة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1557 in Urdu