🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ هَلْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ لِعِلَّةٍ:
باب: کیا مسجد سے کسی ضرورت کی وجہ سے اذان یا اقامت کے بعد بھی کوئی شخص نکل سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ انْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ انْصَرَفَ، قَالَ: عَلَى مَكَانِكُمْ، فَمَكَثْنَا عَلَى هَيْئَتِنَا حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً، وَقَدِ اغْتَسَلَ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، وہ صالح بن کیسان سے، وہ ابن شہاب سے، وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن حجرے سے) باہر تشریف لائے، اقامت کہی جا چکی تھی اور صفیں برابر کی جا چکی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مصلے پر کھڑے ہوئے تو ہم انتظار کر رہے تھے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ ہم اسی حالت میں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لائے، تو سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 639]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گھر سے باہر تشریف لائے جب نماز کے لیے اقامت ہو چکی تھی اور صفیں بھی درست کر لی گئی تھیں، حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مصلے پر کھڑے ہو گئے تو ہم آپ کے «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہنے کا انتظار کرنے لگے، لیکن آپ نے ہم سے فرمایا: تم اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو۔ اور خود واپس تشریف لے گئے، چنانچہ ہم سب اپنی اپنی جگہ پر کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ تھوڑی دیر بعد جب ہمارے پاس دوبارہ تشریف لائے تو آپ کے سر پر پانی ٹپک رہا تھا کیونکہ آپ نے غسل فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 639]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں