اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
847. باب فضل الصحابة ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم
باب: صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت
حدیث نمبر: 1645
1645 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخدْرِيِّ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَأْتِي زَمَانَ يَغْزو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحَ عَلَيْهِ ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ فَيُقَال: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَالُ: نَعَمْ فَيُفْتَحُ ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ فَيُقَالُ: فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ صَاحِبَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيقَالُ: نَعَم فَيُفْتَحُ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی فوج جہاد پر ہو گی، پوچھا جائے گا کہ کیا فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہو؟ کہا جائے گا کہ ہاں، تو (دعا کے لیے انہیں آگے بڑھا کے) ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا اس وقت اس کی تلاش ہو گی کہ کوئی ایسے بزرگ مل جائیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت اٹھائی ہو (یعنی تابعی)، ایسے بھی بزرگ مل جائیں گے اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ (سپاہیوں سے) پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسے بزرگ ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے شاگردوں کی صحبت اٹھائی ہو (یعنی تبع تابعی)؟ کہا جائے گا کہ ہاں، اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1645]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد والسير: 76 باب من استعان بالضعفاء والصالحين في الحرب»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1646
1646 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِىء أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادة»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، اور اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1646]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجہ البخاري في: 52 کتاب الشہادات: 9 باب لا یشہد علی شہادۃ جَوْرٍ إذا أُشْھِدَ۔»
وضاحت: حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہمارے بزرگ شہادت اور عہد کا لفظ زبان سے نکالنے پر ہمیں مارا کرتے تھے۔ کہ کہیں قسم کھانے کی عادت نہ پڑ جائے۔ موقع بے موقع قسم کھانے کی عادت بہتر نہیں ہے۔ قسم میں احتیاط لازمی ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1647
1647 صحيح حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضي الله عنهما، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِين يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِين يَلُونَهُمْ» قَالَ عِمْرَانُ: لاَ أَدْرِي، أذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدُ، قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْماً يَخُونُونَ وَلاَ يُؤْتَمَنونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلاَ يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلاَ يَفُونَ، وَيَظْهَرَ فِيهِمُ السِّمَنُ»
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ (صحابہ) ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے (تابعین)، پھر وہ لوگ جو ان کے بھی بعد آئیں گے (تبع تابعین)۔“ عمران رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نہیں جانتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو زمانوں کا (اپنے بعد) ذکر فرمایا یا تین کا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بعد ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو چور ہوں گے، جن میں دیانت کا نام نہ ہوگا، ان سے گواہی دینے کے لیے نہیں کہا جائے گا، لیکن وہ گواہیاں دیتے پھریں گے، نذریں مانیں گے، لیکن پوری نہیں کریں گے اور موٹاپا ان میں عام ہوگا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1647]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 52 کتاب الشہادات: 9 باب لا یشہد علی شہادۃ جور إذا أُشہد۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»