اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
847. باب فضل الصحابة ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم
باب: صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کی فضیلت
حدیث نمبر: 1646
1646 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِىء أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادة»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے، اور اس کے بعد ایسے لوگوں کا زمانہ آئے گا جو قسم سے پہلے گواہی دیں گے اور گواہی سے پہلے قسم کھائیں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1646]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجہ البخاري في: 52 کتاب الشہادات: 9 باب لا یشہد علی شہادۃ جَوْرٍ إذا أُشْھِدَ۔»
وضاحت: حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہمارے بزرگ شہادت اور عہد کا لفظ زبان سے نکالنے پر ہمیں مارا کرتے تھے۔ کہ کہیں قسم کھانے کی عادت نہ پڑ جائے۔ موقع بے موقع قسم کھانے کی عادت بہتر نہیں ہے۔ قسم میں احتیاط لازمی ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1646 in Urdu