اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
859. باب تَحْرِيمِ الظُّلْمِ
باب: ظلم کرنا حرام ہے
حدیث نمبر: 1666
1666 صحيح حَدِيثُ عَبْدِ الله بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما. عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ القِيَامَةِ»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم، قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ/حدیث: 1666]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 46 کتاب المظالم: 8 باب الظلم ظلمات یوم القیامۃ۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1667
1667 صحيح حَدِيثُ عَبْدِ الله بْنِ عُمَرَ رضي الله عنهما، أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ. وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ الله فِي حَاجَتِهِ. وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِم كُرْبَةً، فَرَّجَ الله عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ القِيَامَةِ. وَمَنْ سَتَر مُسْلِمًا، سَتَرَهُ الله يَوْمَ القِيَامَة»
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، پس وہ اس پر ظلم نہ کرے اور نہ (اس پر) ظلم ہونے دے، جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ/حدیث: 1667]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 46 کتاب المظالم: 3 باب لا یظلم المسلمُ لِمُسْلِمٍ وَلَا یُسلِمُہُ۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1668
1668 صحيح حدِيثُ أَبِي مُوسى رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الله لَيُمْلِي للظَّالِمِ، حَتَّى إِذَا أَخَطَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ» قَالَ: قَرَأَ {وَكَطالِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ القُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ}
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے، لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔“ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں، بے شک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے﴾ [سورة هود: 102] ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ/حدیث: 1668]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 65 کتاب التفسیر: 11 سورۃ ہود: 5 باب کذلک أخذ ربک إذا أخذ القری۔»
الحكم على الحديث:
«صحیح»