🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

860. باب نَصْرِ الأَخِ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا
باب: ظالم اور مظلوم بھائی کی مدد کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1669
1669 صحيح حَديثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ الله رضي الله عنهما. قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ، فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَار! فقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا لَلأَنصار! وَقَالَ المُهَاجِرِيِّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ! فَسَمِعَ ذَاكَ رَسُولُ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: «مَا بَالُ دَعْوَى جَاهِلِيَّةٍ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ الله! كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ المُهَاجِرِينَ رَجُلاً مِنَ الأَنصَارِ. فَقَالَ: «دَعُوهَا، فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ» . فَسَمِعَ بِذَلِكَ عَبْدُ الله بْنُ أُبَيِّ، فَقَالَ: فَعَلوهَا؟ أَمَا وَالله! لَئِنْ رَجَعْنَا إِلى المَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ.فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ يَا رَسُولَ الله! دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هاذَا المُنَافِقِ. فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُ. لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ»
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم ایک غزوہ (تبوک) میں تھے۔ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کو لات مار دی۔ انصاری نے کہا کہ اے انصاریو! دوڑو اور مہاجر نے کہا اے مہاجرین! دوڑو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے سنا اور فرمایا: ”کیا قصہ ہے؟ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو لات مار دی ہے۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح جاہلیت کی پکار کو چھوڑ دو کہ یہ نہایت ناپاک باتیں ہیں۔“ عبد اللہ بن ابی نے بھی یہ بات سنی تو کہا کہ اچھا یہاں تک نوبت پہنچ گئی۔ خدا کی قسم! ﴿جب ہم مدینہ لوٹیں گے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا﴾ [سورة المنافقون: 8] ۔ اس کی خبر آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کو ختم کر دوں۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کرا دیتے ہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كِتَابُ البِرِّ والصِّلَةِ وَالآدَابِ/حدیث: 1669]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجہ البخاري في: 65 کتاب التفسیر: 63 سورۃ المنافقون: 5 باب قولہ ﴿سواء علیہم أستغفرت لہم أم لم تستغفرلہم﴾۔»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں