اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
955. باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل بقبر الرجل فيتمنى أن يكون مكان الميت من البلاء
باب: قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ انسان مصائب سے تنگ آ کر کسی قبر کو دیکھ کر خواہش کرنے لگے گا کہ کاش میں اس میت کی جگہ قبر میں ہوتا
حدیث نمبر: 1842
1842 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا: کاش! میں بھی اسی کی جگہ ہوتا۔ (یعنی لوگ موت کی آرزو کریں گے)“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 92 كتاب الفتن: 22 باب لا تقوم الساعة حتى يغبط أهل القبور»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1843
1843 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا ایک حقیر حبشی تباہ کر دے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1843]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 25 كتاب الحج: 47 باب قول الله تعالى (جعل الله الكعبة البيت الحرام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1844
1844 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تَقُوم السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ قبیلہ قحطان میں ایک ایسا شخص پیدا نہیں ہوگا جو لوگوں پر اپنی لاٹھی کے زور سے حکومت کرے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1844]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 7 باب ذكر قحطان»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1845
1845 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ، وَلاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے لڑائی نہ کرلو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرلو گے جن کے چہرے تہہ شدہ ڈھالوں جیسے ہوں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1845]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 96 باب قتال الذين ينتعلون الشعر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1846
1846 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَة رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُهْلِكُ النَّاسَ هذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ: لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس قبیلہ قریش کے بعض آدمی لوگوں کو ہلاک و برباد کر دیں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ایسے وقت کے لیے آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش! لوگ ان سے بس الگ ہی رہتے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1846]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1847
1847 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: هَلَكَ كِسْرَى، ثُمَّ لاَ يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ وَقَيْصَرٌ لَيَهْلِكَنَّ، ثُمَّ لاَ يَكُونُ قَيْصَرٌ بَعْدَهُ وَلَتُقْسَمَنَّ كُنَوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسریٰ (ایران کا بادشاہ) ہلاک ہو گیا، اب اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں آئے گا اور قیصر (روم کا بادشاہ) بھی ہلاک و برباد ہو گیا، اور اس کے بعد (شام میں) کوئی قیصر باقی نہیں رہ جائے گا۔ اور ان کے خزانے اللہ کے راستے میں تقسیم ہوں گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 157 باب الحرب خَدْعة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1848
1848 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلاَ كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ، فَلاَ قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسِي بَيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللهِ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہ ہو گا اور جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1848]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 57 كتاب فرض الخمس: 8 باب قول النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أحلت لكم الغنائم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1849
1849 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: تُقَاتِلُكمُ الْيَهُودُ فَتسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ يَقُولُ الْحَجَرُ: يَا مُسْلِمُ هذَا يَهُودِيٌ وَرَائِي، فَاقْتُلْهُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا: ”تم یہودیوں سے ایک جنگ کرو گے اور اس میں ان پر غالب آ جاؤ گے، اس وقت یہ کیفیت ہوگی کہ (اگر کوئی یہودی جان بچانے کے لیے کسی پہاڑ میں چھپ جائے گا تو) پتھر بولے گا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ میں چھپا ہوا ہے، اسے قتل کر دے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1849]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1850
1850 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبًا مِنْ ثَلاَثِينَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللهِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تقریباً تیس جھوٹے دجال پیدا نہ ہو لیں، ان میں ہر ایک کا یہی گمان ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1850]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 61 كتاب المناقب: 25 باب علامات النبوة في الإسلام»
الحكم على الحديث:
«صحیح»