اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
956. باب ذكر ابن صياد
باب: ابن صیاد کا بیان
حدیث نمبر: 1851
1851 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَعَ النَبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ يَوْمَئِذٍ ابْنُ صَيَّادٍ يَحْتَلِمُ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آمَنْتُ بِاللهِ وَرُسُلِهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاَذَا تَرَى قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْسأْ فَلَنْ تَعْدُو قَدْرَكَ قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ يَكُنْهُ، فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ، فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت جن میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، ابن صیاد (یہودی لڑکا) کے یہاں جا رہی تھی۔ آخر بنو مغالہ (ایک انصاری قبیلے) کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ان لوگوں نے اسے پا لیا، ابن صیاد بالغ ہونے کے قریب تھا۔ اسے (رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا) پتہ نہ چلا، حتیٰ کہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کے قریب پہنچ کر) اپنا ہاتھ اس کی پیٹھ پر مارا اور فرمایا: «أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟» ”کیا تو اس کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھا اور پھر کہنے لگا: «أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ» ”ہاں! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے نبی ہیں۔“ اس کے بعد اس نے آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: «أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟» ”کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ آپ نے اس کا جواب (صرف اتنا) دیا: «آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ» ”میں اللہ اور اس کے (سچے) انبیاء پر ایمان لایا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: «مَاذَا تَرَى؟» ”تو کیا دیکھتا ہے؟“ اس نے کہا: «يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ» ”میرے پاس ایک خبر سچی آتی ہے تو دوسری جھوٹی بھی۔“ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: «خُلِطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ» ”حقیقتِ حال تجھ پر مشتبہ ہو گئی ہے۔“ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: «إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا» ”اچھا! میں نے تیرے لیے اپنے دل میں ایک بات سوچی ہے (بتا وہ کیا ہے؟)“ ابن صیاد بولا: «هُوَ الدُّخُّ» ”دھواں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ» ”ذلیل ہو! کمبخت! تو اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ سکے گا۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ» ”یا رسول اللہ! مجھے اجازت ہو تو میں اس کی گردن مار دوں۔“ لیکن آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ» ”اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اس پر قادر نہیں ہو سکتے اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کی جان لینے میں کوئی خیر نہیں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1851]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 178 باب كيف يعرض الإسلام على الصبي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1852
1852 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّذِي فِيهِ ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَ النَّخْلَ، طَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهُوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ، أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فِي قَطِيفَةٍ لَهُ، فِيهَا رَمْزَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ: أَيْ صَافِ (وَهُوَ اسْمُهُ) فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (ایک مرتبہ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کھجور کے باغ میں تشریف لائے جس میں ابن صیاد موجود تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہو گئے تو کھجور کے تنوں کی آڑ لیتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھنے لگے۔ آپ چاہتے یہ تھے کہ اسے آپ کی موجودگی کا احساس نہ ہو سکے اور آپ اس کی باتیں سن لیں۔ ابن صیاد اس وقت اپنے بستر پر ایک چادر اوڑھے پڑا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ اتنے میں اس کی ماں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا کہ آپ کھجور کے تنوں کی آڑ لے کر آگے آ رہے ہیں اور اسے آگاہ کر دیا کہ ”اے صاف!“ یہ اس کا نام تھا۔ ابن صیاد یہ سنتے ہی اچھل پڑا۔ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کی ماں نے اسے یوں ہی رہنے دیا ہوتا تو حقیقت کھل جاتی۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1852]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 178 باب كيف يعرض الإسلام على الصبي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 1853
1853 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي النَّاسِ، فَأَثْنى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: إِنِّي أُنْذِرُ كُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ قَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ وَلكِنْ سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی جو اس کی شان کے لائق تھی، پھر دجال کا ذکر فرمایا اور فرمایا: ”میں بھی تمہیں اس کے (فتنوں سے) ڈراتا ہوں، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس کے فتنوں سے نہ ڈرایا ہو، نوح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا، لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہوں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی، اور وہ بات یہ ہے کہ دجال کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1853]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 178 باب كيف يعرض الإسلام على الصبي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»