المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
13. ما جاء في التباعد للخلاء
قضائے حاجت کے لیے (آبادی سے) دور جانے کا بیان
حدیث نمبر: 27
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ" وَكَانَ إِذَا ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ أَبْعَدَ فِي الْمَذْهَبِ" .
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر کے دوران میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے بہت دور جایا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 27]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: سنن أبى داود: 1، سنن النسائي: 17، سنن الترمذي: 20، سنن ابن ماجه: 331، اس حديث كو امام ترمذي رحمہ اللہ نے ”حسن صحيح“ اور امام ابن خزيمه رحمہ اللہ 50، نے ”صحيح“ كها هے. امام حاكم رحمہ اللہ 1/ 140، نے امام مسلم رحمہ اللہ كي شرط پر ”صحيح“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ اللہ نے ان كي موافقت كي هے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن