🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. باب التنزه في الأبدان والثياب عن النجاسات
بدن اور کپڑوں کو نجاستوں سے پاک رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 140
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ يَدْعُو لَهُمْ، فَبَالَ عَلَيْهِ صَبِيُّ، فَأَتْبَعُ الْمَاءَ بَوْلَهُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا فرما دیں، چنانچہ ایک بچے نے آپ پر پیشاب کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب پر پانی چھڑک دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 222، صحيح مسلم: 286»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 141
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا" فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَعَجَّلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَنَهَاهُمْ وَقَالَ:" أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ ذَنُوبًا أَوْ سَجْلا مِنْ مَاءٍ" يَعْنِي بَوْلَهُ وَقَالَ:" إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں آیا، نماز پڑھنے کے بعد کہنے لگا: اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور اس رحم میں کسی اور کو شامل نہ کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: آپ نے تو کشادہ (چیز) کو تنگ کر دیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا، لوگ اس پر چڑھ دوڑے، آپ نے روک دیا اور فرمایا: پیشاب پر پانی کا ڈول بہا دیں، آپ کو آسانیاں کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے، سختیوں کے لیے نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 239/2، مسند الحميدي: 938، سنن أبى داود: 380، سنن النسائي: 1217، سنن الترمذي: 147، اس حديث كو امام ابن خزيمه رحمہ الله 298 نے ”صحيح“ كها هے، امام سفيان بن عيينه رحمہ الله اور امام زهري رحمہ اللہ نے سماع كي تصريح كر ركهي هے. امام بخاري رحمہ االله 2010 نے اس حديث كو ايك دوسري سند كے ساته ذكر كيا هے.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَتْ:" كُنْتُ أُطِيلُ ذَيْلِي فَأَمُرُّهُ بِالْمَكَانِ الْقَذَرِ وَالْمَكَانِ النَّظِيفِ، فَدَخَلَتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَتْهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ".
ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف کی ام ولد (حمیدہ) رحمہ اللہ بیان کرتی ہیں: میں اپنی چادر کا دامن لمبا رکھتی تھی اور پاک و پلید جگہوں سے گزرا کرتی تھی، چنانچہ میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس بابت پوچھا، تو انہوں نے بتایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اس کے بعد (پاک) زمین اسے پاک کر دے گی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مؤطّأ الإمام مالك: 24/1، مسند الإمام أحمد: 290/6، سنن أبى داود: 383، سنن الترمذي: 143، سنن ابن ماجه: 531، سند ام ولد ابراهيم بن عبدالرحمن بن عوف كي جهالت كي بنا پر ”ضعيف“ هے، اگلي حديث اس كا شاهد هے.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: ثَنَا زُهَيْرٌ ، وَشَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ لَنَا طُرُقًا مُنْتِنَةً فَتُمْطِرُ، فَقَالَ: " أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ أَطْيَبُ مِنْهَا؟" قَالَتْ: بَلَى، قَالَ:" فَهَذَا بِهَذَا" .
بنو عبد الاشہل کی ایک عورت بیان کرتی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ہمارے راستے گندے ہیں اور بارش برستی ہے (جس سے کیچڑ ہو جاتا ہے، تو ہم کیا کریں) فرمایا: کیا اس کے بعد کوئی صاف راستہ نہیں آتا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! (آتا ہے) فرمایا: یہ صاف راستہ اس کا متبادل ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند أحمد: 435/6، سنن أبى داود: 384، سنن ابن ماجه: 533»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں