المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
45. باب ما جاء في ترك دعاء المشركين قبل القتال
قتال سے پہلے مشرکین کو (اسلام کی) دعوت دینے کے ترک کا بیان
حدیث نمبر: 1047
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: ثنا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ مُعَاذٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى أَسْأَلُهُ، هَلْ كَانَتِ الدَّعْوَةُ قَبْلَ الْقِتَالِ؟ فَكَتَبَ إِلَيَّ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ الإِسْلامِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تَسْقِي عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ فَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا"، حَدَّثَنِي بِهَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ.
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع کو یہ پوچھنے کے لیے خط لکھا کہ کیا قتال سے پہلے دعوت دینا ضروری ہے؟ تو انہوں نے مجھے لکھ بھیجا کہ یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنی مصطلق پر حملہ کیا تو وہ بالکل غافل تھے اور ان کے مویشی پانی پی رہے تھے، آپ نے انہیں قتل کیا، ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کیا، جویریہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا بھی انہی قیدیوں میں سے تھیں۔ یہ حدیث مجھے سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی ہے جو خود اس لشکر میں شامل تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2541، صحیح مسلم: 1730»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح