المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
69. باب إباحة أطعمة العدو من غير قسم
تقسیم سے پہلے دشمن کی کھانے پینے کی چیزوں کے استعمال کی اجازت
حدیث نمبر: 1072
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: ثنا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، قَالَ: بَعَثَنِي أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ طَعَامِ خَيْبَرَ، أَخَمَّسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لا، كَانَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ، كَانَ أَحَدُنَا يَأْخُذُ مِنْهُ حَاجَتَهُ" .
محمد بن ابی مجالد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مسجد والوں نے مجھے سیدنا عبد الله بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو میں نے ان سے خیبر کی اشیائے خوردنی کے متعلق پوچھا: کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان میں سے خمس لیا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں! معاملہ بڑا آسان تھا، ہم میں سے ہر آدمی اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لیتا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/354، 355، سنن أبي داود: 2704، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (2/126) نے بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح