مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
39. (باب) في فضل شراب العائض
حائضہ عورت کے پینے سے بچے ہوئے پانی کا حکم
ترقیم عوامۃ: 363 ترقیم الشثری: -- 363
٣٦٣ - حدثنا معتمر بن سليمان عن عمران بن حدير: ان امراة يزيد بن الشخير شربت وهي حائض، فتوضا به يزيد.
حدثنا معتمر بن سليمان، عن عمران بن حدير، ان امراة يزيد بن الشخير" شربت وهي حائض فتوضا به يزيد"
حضرت عمران بن حدیر کہتے ہیں کہ یزید بن شخیر کی بیوی حیض کی حالت میں تھیں، انہوں نے ایک برتن سے پانی پیا، تو ان کے بچے ہوئے پانی سے یزید بن شخیر نے وضو کرلیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 363]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 363، ترقيم محمد عوامة 363)
ترقیم عوامۃ: 364 ترقیم الشثری: -- 364
٣٦٤ - حدثنا معتمر بن سليمان عن (سلم) (١) بن ابي الذيال عن الحسن قال: سالته عن الرجل يتوضا بفضل شراب الحائض؟ فلم ير به باسا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، هـ]: (مسلم).
حدثنا معتمر بن سليمان، عن سلم بن ابي الذيال، عن الحسن، قال:" سالته عن الرجل يتوضا بفضل شراب الحائض، فلم ير به باسا"
حضرت حسن بصری سے حائضہ عورت کے پینے سے بچے ہوئے پانی سے مرد کے وضو کا حکم پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ”اس میں کوئی حرج نہیں“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 364]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 364، ترقيم محمد عوامة 364)
ترقیم عوامۃ: 365 ترقیم الشثری: -- 365
٣٦٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن عبد الملك عن عطاء: انه سئل عن الحائض تشرب من الماء ايتوضا به؟ فقال: نعم لا باس به.
حدثنا محمد بن فضيل، عن عبد الملك، عن عطاء، انه سئل عن الحائض تشرب من الماء ايتوضا به؟ فقال:" نعم لا باس به"
حضرت عطاء سے حائضہ عورت کے پینے سے بچے ہوئے پانی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا اس سے وضو کرنا جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 365]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 365، ترقيم محمد عوامة 365)
ترقیم عوامۃ: 366 ترقیم الشثری: -- 366
٣٦٦ - حدثنا عبدة بن سليمان عن ابن (ابي) (١) عروبة عن قتادة قال: قال عمر: ليس (حيضتها) (٢) في فيها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [خ].
(٢) في [د]: (حيضها).
(٣) منقطع؛ قتادة لا يروي عن عمر.
حدثنا حدثنا عبدة بن سليمان، عن ابن ابي عروبة، عن قتادة، قال: قال عمر : " ليس حيضتها في فيها"
حضرت عمر فرماتے ہیں کہ عورت کا حیض اس کے منہ میں تو نہیں ہوتا (اس لئے اس کا پس ماندہ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 366]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 366، ترقيم محمد عوامة 366)
ترقیم عوامۃ: 367 ترقیم الشثری: -- 367
٣٦٧ - حدثنا هشيم قال: (حدثنا) (١) مغيرة عن إبراهيم: انه كان لا يرى باسا بفضل وضوء الحائض، ويكره سؤرها من الشراب.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [د]: (أنا) وفي [ك]: (أخبرنا).
حدثنا هشيم، قال: حدثنا مغيرة، عن إبراهيم، انه كان " لا يرى باسا بفضل وضوء الحائض، ويكره سؤرها من الشراب"
حضرت ابراہیم حائضہ عورت کے طہارت کے لئے استعمال کردہ پانی کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے البتہ اس کے پینے سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 367]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 367، ترقيم محمد عوامة 367)
ترقیم عوامۃ: 368 ترقیم الشثری: -- 368
٣٦٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر قال: لا باس بسؤر الحائض والجنب والمشرك.
حدثنا وكيع، عن سفيان، عن جابر، عن عامر، قال: " لا باس بسؤر الحائض والجنب والمشرك"
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حائضہ، جنبی اور مشرک کے پس ماندہ پانی کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 368]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 368، ترقيم محمد عوامة 368)
ترقیم عوامۃ: 369 ترقیم الشثری: -- 369
٣٦٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن ابن ابي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن: انهما لم يريا بفضل شرابها باسا. يعني: المراة.
حدثنا عبدة بن سليمان، عن ابن ابي عروبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، والحسن انهما " لم يريا بفضل شرابها باسا، يعني المراة"
حضرت سعید بن المسیب اور حضرت حسن بصری عورت کے بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 369]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 369، ترقيم محمد عوامة 369)