مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
36. الإمام يقرأ (بسورة) فيها سجدة فلا يسجد
اگر امام ایسی سورت پڑھے جس میں آیت سجدہ ہے اور وہ سجدہ نہ کرے تو مقتدی کو کیا کرنا چاہئے ا
ترقیم عوامۃ: 4428 ترقیم الشثری: -- 4458
٤٤٥٨ - [حدثنا وكيع عن ابي خلدة قال: قلت لابي العالية: صليت في مسجد بني فلان فقرا إمامهم السجدة فلم يسجد؟ قال: افلا سجدت؟] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ، ك]: تكرر هذا الخبر في آخر الباب.
حدثنا وكيع، عن ابي خلدة، قال: قلت لابي العالية: صليت في مسجد بني فلان فقرا إمامهم السجدة فلم يسجد، قال:" افلا سجدت"
حضرت ابو خلدہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو العالیہ کو بتایا کہ میں نے فلاں لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھی ہے، ان کے امام نے آیت سجدہ کی تلاوت کی لیکن سجدہ نہیں کیا۔ حضرت ابوا لعالیہ نے فرمایا کہ تم نے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ [مصنف ابن ابي شيبه/باب سجود التلاوة/حدیث: 4458]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4458، ترقيم محمد عوامة 4428)
ترقیم عوامۃ: 4429 ترقیم الشثری: -- 4459
٤٤٥٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن (سعد) (١) بن إبراهيم انه سمع (عبد الرحمن) (٢) الاعرج يقول: كان ابو هريرة يسجد في ﴿إذا السماء انشقت﴾، فإذا قرئت وكان خلف الإمام فلما يسجد الإمام (قال) (٣) : فيومئ براسه ابو هريرة (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [د، هـ]: (سعيد).
(٢) في [أ، ب]: (عبد اللَّه).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) صحيح.
حدثنا حدثنا غندر، عن شعبة، عن سعد بن إبراهيم، انه سمع عبد الرحمن الاعرج يقول: كان ابو هريرة يسجد في" إذا السماء انشقت" , فإذا قرئت وكان خلف الإمام فلم يسجد الإمام، قال:" فيومئ براسه ابو هريرة"
حضرت عبد الرحمن اعرج کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ سورة الانشقاق میں سجدہ کیا کرتے تھے۔ اگر وہ کسی کے پھے رت نماز پڑھتے اور امام سورة الانشقاق کی تلاوت کرتے ہوئے سجدہ نہ کرتا تو حضرت ابوہریرہ سر کو جھکا کر اشارہ کرلیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/باب سجود التلاوة/حدیث: 4459]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4459، ترقيم محمد عوامة 4429)
ترقیم عوامۃ: 4430 ترقیم الشثری: -- 4460
٤٤٦٠ - حدثنا عبد الاعلى عن محمد بن إسحاق عن ابي عمرو مولى المطلب (انه) (١) حدثهم قال: إني لقاعد مع ابن عمر يوم الجمعة إلى حجرة عائشة وطارق يخطب الناس على المنبر (وقرا: والنجم) (٢) فلما فرغ وقع ابن عمر ساجدا وسجدنا معه وما يتحرك الآخر (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (أنهم).
(٢) في [أ]: (وقرأ النجم)، وفي [جـ، ك]: (فقرأ النجم).
(٣) في [ب]: زيادة (معه).
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي عمرو مولى المطلب، وانظر: الجرح والتعديل ٩/ ٤١٠، والكنى للبخاري (٤٧٣)، والمقتنى ١/ ٤٣٦، والثقات ٥/ ٥٦٨، والخبر أخرجه الدولابي في الكنى ٢/ ٧٨٤ (١٣٦٣).
حدثنا حدثنا عبد الاعلى، عن محمد بن إسحاق، عن ابي عمرو مولى المطلب انه حدثهم، قال: إني لقاعد مع ابن عمر يوم الجمعة إلى حجرة عائشة وطارق يخطب الناس على المنبر " وقرا" والنجم" فلما فرغ وقع ابن عمر ساجدا وسجدنا معه وما يتحرك الآخر"
حضرت ابو عمر مولی المطلب فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ مسجد میں بیٹھا تھا۔ حضرت طارق لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ انہوں نے سورة النجم کی تلاوت کی۔ اسے سن کر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا۔ اور اس بدنصیب (طارق خطیب) نے کوئی حرکت نہ کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/باب سجود التلاوة/حدیث: 4460]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4460، ترقيم محمد عوامة 4430)