🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. من كان يكره أن يصلي قاعدا إلا من عذر
مقصورہ (امام اور خطیب کے لئے مخصوص کمرے) میں نمار کے جواز کا حکم
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4639 ترقیم الشثری: -- 4677
٤٦٧٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا (١) عبدة عن عبيد الله عن نافع قال: ما رايت ابن عمر يصلي جالسا إلا من مرض (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (نا).
(٢) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا عبدة، عن عبيد الله، عن نافع، قال: " ما رايت ابن عمر يصلي جالسا إلا من مرض"
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سوائے بیماری کے کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4677]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4677، ترقيم محمد عوامة 4639)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4640 ترقیم الشثری: -- 4678
٤٦٧٨ - حدثنا معتمر عن مبارك عن عبد الله بن مسلم بن يسار عن ابيه قال: إني لاكره ان يراني الله اصلي له قاعدا من غير مرض.
حدثنا معتمر، عن مبارك، عن عبد الله بن مسلم بن يسار، عن ابيه، قال: " إني لاكره ان يراني الله اصلي له قاعدا من غير مرض"
حضرت مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس حال میں دیکھیں کہ میں بغیر بیماری کے اس کے لئے بیٹھ کر نماز پڑھوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4678]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4678، ترقيم محمد عوامة 4640)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4641 ترقیم الشثری: -- 4679
٤٦٧٩ - حدثنا وكيع قال (حدثنا) (١) سفيان عن عمرو بن ميمون (بن مهران) (٢) عن ابيه انه سئل ما حد المريض ان يصلي جالسا فقال: حده لو كانت (دنيا) (٣) تعرض له لم يقم إليها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ]: (ثنا).
(٢) في [ب] سقط: (بن مهران).
(٣) في [أ]: (كلمة غير واضحة).

حدثنا وكيع، قال: نا سفيان، عن عمرو بن ميمون بن مهران، عن ابيه، انه سئل ما حد المريض ان يصلي جالسا؟ فقال:" حده لو كانت دنيا تعرض له لم يقم إليها"
حضرت میمون بن مہران سے سوال کیا گیا کہ مرض کی وہ کون سی حالت ہے جس میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کی گنجائش ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مریض اس حال کو پہنچ جائے کہ اگر ساری دنیا بھی اسے پیش کی جائے تو وہ اسے حاصل کرنے کے لئے کھڑا نہ ہوسکے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4679]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4679، ترقيم محمد عوامة 4641)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں