🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. باب اسْتِحْبَابِ التَّعَوُّذِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ:
باب: تشہد اور سلام کے درمیان عذاب قبر اور عذاب جہنم اور زندگی اور موت اور مسیح دجال کے فتنے اور گناہ اور قرض سے پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 584 ترقیم شاملہ: -- 1319
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ حَرْمَلَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ، وَهِيَ تَقُولُ: هَلْ شَعَرْتِ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ، قَالَتْ: فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُودُ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ، أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ؟ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ، " يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ".
عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک یہودی عورت موجود تھی اور وہ کہہ رہی تھی: کیا تمہیں پتہ ہے کہ قبروں میں تمہارا امتحان ہو گا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوفزدہ ہو گئے اور فرمایا: یہودی کی آزمائش ہو گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: کچھ دن گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پتہ چلا مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1319]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک یہودی عورت موجود تھی اور وہ کہتی تھی: کیا تمہیں پتہ ہے یا احساس ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوفزدہ ہو گئے اور فرمایا: بس یہودی کی آزمائش ہو گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ کچھ دن گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں پتہ چلا ہے کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے؟ تو بعد میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1319]
ترقیم فوادعبدالباقی: 584
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 585 ترقیم شاملہ: -- 1320
وَحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ ذَلِكَ " يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے (یہودی عورت والے) اس (واقعے) کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1320]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1320]
ترقیم فوادعبدالباقی: 585
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 586 ترقیم شاملہ: -- 1321
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلاهما، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ، يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، قَالَتْ: فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أُنْعِمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " إِنَّ عَجُوزَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، دَخَلَتَا عَلَيَّ، فَزَعَمَتَا أَنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ، يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَقَالَ: " صَدَقَتَا، إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ "، قَالَتْ: فَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ فِي صَلَاةٍ، إِلَّا سَمِعْتُهُ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ابووائل (شقیق بن سلمہ) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: مدینہ کے یہودیوں کی بوڑھی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں میرے گھر آئیں اور انہوں نے کہا: قبروں والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ میں نے ان دونوں کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کے لیے ہاں تک کہنا گوارا نہ کیا، وہ چلی گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس مدینہ کی بوڑھی یہودی عورتوں میں سے دو بوڑھیاں آئی تھیں، ان کا خیال تھا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے۔ آپ نے (کچھ دن گزرنے کے بعد) فرمایا: ان دونوں نے سچ کہا تھا۔ (قبروں میں) ان (کافروں، گنہگاروں) کو ایسا عذاب ہوتا ہے کہ اسے مویشی بھی سنتے ہیں۔ اس کے بعد میں نے آپ کو دیکھا آپ ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1321]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرے پاس مدینہ کی دو بوڑھی یہودی عورتیں آئیں اور انہوں نے کہا: قبر والوں کو قبر میں عذاب ہوتا ہے، میں نے ان کو جھٹلایا اور ان کی تصدیق کرنا گوارا نہ کیا، وہ چلی گئیں اور میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس مدینہ کی یہودی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں آئیں اور کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا، انہیں ایسا عذاب ہوتا ہے کہ مویشی بھی سنتے ہیں، اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر نماز میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے پایا۔ «لَمْ أَنْعَمْ» میں نے اس کو اچھا نہ سمجھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1321]
ترقیم فوادعبدالباقی: 586
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 586 ترقیم شاملہ: -- 1322
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَفِيهِ قَالَتْ: وَمَا صَلَّى صَلَاةً بَعْدَ ذَلِكَ، إِلَّا سَمِعْتُهُ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
(ابووائل کے بجائے) اشعث کے والد (ابوشعثاء سلیم محاربی) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی۔ اور اس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے اس کے بعد جو نماز بھی پڑھی میں نے آپ سے سنا کہ آپ اس میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1322]
مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز نہیں پڑھی مگر اس صورت میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں قبر کے عذاب سے پناہ مانگی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1322]
ترقیم فوادعبدالباقی: 586
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں