مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
63. الجمعة يؤخرها الإمام حتى يذهب وقتها
اگر امام جمعه کو اتنا مؤخر کر دے کہ وقت جانے لگے تو کیا کیا جائے؟
ترقیم عوامۃ: 5526 ترقیم الشثری: -- 5595
٥٥٩٥ - حدثنا ابو بكر قال حدثنا ابن علية عن ابن عون عن محمد قال: اطال بعض الامراء الخطبة (فانكيت) (١) يدي حتى ادميتها ثم قمت واخذتني السياط فمضيت فخرجت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فاتكيت)، وفي [أ]: (فاذكيت).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا ابن علية، عن ابن عون، عن محمد، قال: " اطال بعض الامراء الخطبة فانكيت يدي حتى ادميتها، ثم قمت واخذتني السياط، فمضيت، فخرجت"
حضرت محمد فرماتے ہیں کہ ایک امیر نے ایک مرتبہ خطبہ بہت لمبا کردیا تو میں نے اپنے ہاتھ کا پھوڑا پھاڑ دیا جس سے خون نکلنے لگا۔ میں اس بہانے سے اٹھا (تاکہ جاکر اپنی نماز پڑھ لوں) اتنے میں اس کے دربانوں نے مجھے پکڑ لیا۔ لیکن میں بھی پھر چلتا رہا اور باہر نکل گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5595]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5595، ترقيم محمد عوامة 5526)
ترقیم عوامۃ: 5527 ترقیم الشثری: -- 5596
٥٥٩٦ - حدثنا ابن علية عن سوار عن عبد الواحد بن (صبرة) (١) ان سالما حدث القاسم بن محمد قال: لما قدم علينا الامير (جاءت الجمعة) (٢) فجمع (بنا) (٣) فما زال يخطب ويقرا الكتب حتى مضى وقت الجمعة ولم ينزل يصلي، فقال له القاسم: فما قمت فصليت قال: لا والله خشيت ان يقال رجل من آل عمر قال: فما صليت قاعدا، قال: لا قال: فما اومات، قال: [لا (قال) (٤) : ثم ما زال يخطب ويقرا حتى مضى وقت العصر (ولم ينزل يصلي) (٥) (فقال) (٦) له القاسم: فما قمت صليت، قال: لا قال: فما صليت قاعدا، قال: لا قال: فما اومات قال: لا] (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (سبرة).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) سقط: (بنا).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) زيادة من: [ب، جـ]، وفي [ز]: (لم يزل).
(٦) في [أ، ب، ط، هـ]: (قال).
(٧) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
حدثنا ابن علية، عن سوار، عن عبد الواحد بن صبرة , ان سالما حدث القاسم بن محمد، قال: " لما قدم علينا الامير جاءت الجمعة فجمع بنا فما زال يخطب ويقرا الكتب حتى مضى وقت الجمعة، ولم ينزل يصلي، فقال له القاسم: فما قمت فصليت؟، قال: لا والله، خشيت ان يقال رجل من آل عمر، قال: فما صليت قاعدا؟، قال: لا، قال: فما اومات؟، قال: لا، قال:، ثم ما زال يخطب ويقرا حتى مضى وقت العصر ولم ينزل يصلي، قال له القاسم: فما قمت صليت؟، قال: لا، قال: فما صليت قاعدا؟، قال: لا، قال: فما اومات؟، قال: لا"
حضرت عبد الواحد بن سبرہ کہتے ہیں کہ حضرت سالم نے ایک مرتبہ حضرت قاسم بن محمد کو بتایا کہ جب ہمارا امیر ہمارے پاس آیا اور اس نے ہمیں جمعہ پڑھایا تو وہ اتنی دیر تقریر کرتا رہا اور خطوط پڑھتا رہا کہ جمعہ کا وقت نکل گیا لیکن اس نے نیچے اتر کر نماز نہیں پڑھائی۔ یہ سن کر حضرت قاسم نے ان سے کہا کہ پھر آپ نے کھڑے ہوکر اپنی نماز نہیں پڑھی؟ سالم نے کہا نہیں، خدا کی قسم! مجھے یہ ڈر تھا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر کی اولاد میں سے ایک آدمی نے یوں کیا ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز نہیں پڑھی؟ سالم نے کہا نہیں۔ حضرت قاسم نے پوچھا کہ آپ نے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھی؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر حضرت سالم نے بتایا کہ وہ تقریر کرتا رہا اور خط پڑھتا رہا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت بھی گذر گیا لیکن اس نے اتر کر نماز نہیں پڑھائی۔ حضرت قاسم نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے اٹھ کر نماز نہیں پڑھی؟ انہوں نے کہا نہیں۔ قاسم نے پوچھا کہ آپ نے بیٹھ کر بھی نماز نہیں پڑھی؟ انہوں نے کہا نہیں۔ قاسم نے پوچھا کہ کیا آپ نے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھی؟ انہوں نے کہا نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5596]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5596، ترقيم محمد عوامة 5527)
ترقیم عوامۃ: 5528 ترقیم الشثری: -- 5597
٥٥٩٧ - [حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن إبراهيم بن المهاجر عن ابي بكر بن عمرو بن عتبة الزهري قال: اخر الحجاج الجمعة فلما (صلى) (١) صلاها معه ابو جحيفة ثم قام فوصلها بركعتين ثم قال: يا ابا بكر اشهدك ⦗١٧١⦘ انها العصر] (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة من [جـ، ز].
(٢) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٣) مجهول؛ لجهالة أبي بكر بن عمرو بن عتبة، وأخرجه بنحوه أبو يعلى (٨٨٦).
حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن حسن بن صالح، عن إبراهيم بن المهاجر، عن ابي بكر بن عمرو بن عتبة الزهري، قال: " اخر الحجاج الجمعة فلما صلى صلاها معه ابو جحيفة، ثم قام فوصلها بركعتين، ثم قال: يا ابا بكر , اشهدك انها العصر"
حضرت ابوبکر بن عمرو بن عتبہ زہری فرماتے ہیں کہ حجاج نے جمعہ کو مؤخر کیا، جب اس نے نماز پڑھائی تو حضرت ابوجحیفہ نے اس کے ساتھ بھی نماز پڑھی اور پھر بعد میں دو رکعتیں بھی پڑھیں۔ پھر فرمایا اے ابوبکر! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ یہ عصر کی نماز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5597]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5597، ترقيم محمد عوامة 5528)
ترقیم عوامۃ: 5529 ترقیم الشثری: -- 5598
٥٥٩٨ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن إبراهيم بن مهاجر قال: (كان) (١) الحجاج يؤخر الجمعة فكنت (اصلي انا) (٢) وإبراهيم وسعيد بن جبير (نصلي) (٣) الظهر ثم نتحدث وهو يخطب ثم نصلي معهم ثم نجعلها نافلة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط: (كان) في [ب].
(٢) في [أ، ب، هـ]: (أنا أصلي).
(٣) في [أ، ب، ز، جـ]: (نصلي)، وفي [هـ]: (فصليا).
حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن حسن، عن إبراهيم بن مهاجر، قال:" كان الحجاج يؤخر الجمعة فكنت اصلي انا وإبراهيم، وسعيد بن جبير نصلي الظهر، ثم نتحدث وهو يخطب، ثم نصلي معهم، ثم نجعلها نافلة"
حضرت ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حجاج جمعہ کی نماز کو بہت مؤخر کیا کرتا تھا، اس وجہ سے میں، حضرت ابراہیم اور حضرت سعید بن جبیر ظہر کی نماز پڑھ لیتے تھے اور اس کے خطبے کے دوران باتیں کرتے تھے۔ پھر ہم لوگوں کے ساتھ نفل کی نیت سے نماز پڑھا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5598]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5598، ترقيم محمد عوامة 5529)
ترقیم عوامۃ: 5530 ترقیم الشثری: -- 5599
٥٥٩٩ - حدثنا ابن فضيل عن الاعمش عن مسلم قال: كانت اجلس مع مسروق وابي عبيدة زمن زياد فإذا دخل وقت الصلاة قاما فصليا ثم يجلسان حتى إذا اذن (١) المؤذن وخرج الإمام قاما فصليا معه ويفعلانه في العصر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [ب] (فرج).
حدثنا ابن فضيل، عن الاعمش، عن مسلم، قال:" كنت اجلس مع مسروق، وابي عبيدة زمن زياد، فإذا دخل وقت الصلاة قاما فصليا، ثم يجلسان حتى إذا اذن المؤذن وخرج الإمام، قاما فصليا معه، ويفعلانه في العصر"
حضرت مسلم فرماتے ہیں کہ میں زیاد کے زمانے میں حضرت مسروق اور حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا۔ جب نماز کا وقت آتا تو وہ دونوں کھڑے ہو کر نماز پڑھتے پھر بیٹھ جاتے۔ پھر جب مؤذن اذان دیتا تو امام نکلتا تو وہ کھڑے ہوکر اس کے ساتھ بھی نماز پڑھتے تھے اور ایسا وہ عصر کے وقت کیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5599]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5599، ترقيم محمد عوامة 5530)
ترقیم عوامۃ: 5531 ترقیم الشثری: -- 5600
٥٦٠٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابي هاشم ان الحجاج اخر الصلاة فاوما ابو وائل وهو جالس.
حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي هاشم:" ان الحجاج اخر الصلاة، فاوما ابو وائل وهو جالس"
حضرت ابو ہاشم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حجاج نے نماز کو مؤخر کیا تو حضرت ابو وائل نے بیٹھے بیٹھے اشارے سے نماز پڑھ لی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5600]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5600، ترقيم محمد عوامة 5531)
ترقیم عوامۃ: 5532 ترقیم الشثری: -- 5601
٥٦٠١ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن عبد الله بن عثمان (بن) (١) خثيم (عن) (٢) القاسم بن عبد الرحمن عن ابيه ان الوليد (٣) بن عقبة اخر الصلاة بالكوفة وانا جالس مع ابي في المسجد فقام عبد الله (فثوب) (٤) بالصلاة فصلى للناس ⦗١٧٢⦘ فارسل إليه الوليد بن عقبة ما حملك على ما صنعت اجاءك من امير المؤمنين امر فيما (قبلنا) (٥) فسمع وطاعة ام ابتدعت ما صنعت اليوم قال: لم ياتني من امير المؤمنين امر ومعاذ الله ان اكون ابتدعت، ابى الله ورسوله ان ننتظرك بصلاتنا وانت في حوائجك (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عن).
(٢) في [أ، ب]: (بن).
(٣) من هنا يبدأ خرم البياض في [ب] إلى حديث رقم (٥٧٠٠).
(٤) في [هـ]: (فنور).
(٥) في [ز]: (قلنا).
(٦) صحيح.
حدثنا حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن ابيه:" ان الوليد بن عقبة اخر الصلاة بالكوفة وانا جالس مع ابي في المسجد، فقام عبد الله فثوب بالصلاة، فصلى للناس، فارسل إليه الوليد بن عقبة ما حملك على ما صنعت؟ اجاءك من امير المؤمنين امر فيما قبلنا، فسمع وطاعة، ام ابتدعت ما صنعت اليوم؟، قال: لم ياتني من امير المؤمنين امر ومعاذ الله ان اكون ابتدعت , ابى الله ورسوله ان ننتظرك بصلاتنا وانت في حوائجك"
حضرت قاسم بن عبد الرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے کوفہ میں نماز میں تاخیر کردی۔ میں مسجد میں اپنے والد کے ساتھ بیٹھا تھا کہ حضرت عبد اللہ کھڑے ہوئے اور نماز کا اعلان کرکے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ ولید بن عقبہ نے پیغام بھیج کر انہیں بلوایا اور ان سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ اگر امیر المؤمنین کی طرف سے آپ کے پاس کوئی حکم آیا ہے تو ہم اسے سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں اور اگر ایسا نہیں تو پھر آپ نے آج بدعت کا ارتکاب کیا ہے؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ میرے پاس امیر المؤمنین کی طرف سے کوئی حکم نہیں آیا اور میں بدعت کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس بات کا انکار ہے کہ ہم نماز کے لئے تمہارا انتظار کرتے رہیں اور تم اپنے کاموں میں مشغول رہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5601]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5601، ترقيم محمد عوامة 5532)
ترقیم عوامۃ: 5533 ترقیم الشثری: -- 5602
٥٦٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد عن الزبرقان قال: قلت لشقيق إن الحجاج (يميت) (١) الجمعة قال: (تكتم) (٢) (علي) (٣) (قال) (٤) قلت: نعم قال: صلها في بيتك لوقتها ولا تدع الجماعة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (يجيب).
(٢) في [أ]: (يكتم).
(٣) زيادة: في [أ، جـ، ز] (علي).
(٤) سقط من: [أ، جـ، ز].
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا محمد بن عبيد، عن الزبرقان، قال:" قلت لشقيق إن الحجاج يميت الجمعة، قال: تكتم علي؟، قال: قلت: نعم، قال: صلها في بيتك لوقتها، ولا تدع الجماعة"
حضرت زبرقان فرماتے ہیں کہ میں نے شقیق سے کہا کہ حجاج ہمارا جمعہ ضائع کرادیتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم راز رکھو تو تمہیں ایک بات کہوں؟ میں نے کہا ہاں راز رکھوں گا۔ انہوں نے فرمایا کہ نماز کو اس کے وقت میں گھر میں پڑھ لیا کرو اور اسے جماعت کے لئے نہ چھوڑو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمعة/حدیث: 5602]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 5602، ترقيم محمد عوامة 5533)