صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
32. باب اسْتِحْبَابِ الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ لِمَنْ يَمْضِي إِلَى جَمَاعَةٍ وَيَنَالُهُ الْحَرُّ فِي طَرِيقِهِ:
باب: سخت گرمی میں ظہر ٹھنڈے وقت پڑھنے کا بیان اس کے لئے جو جماعت کے ساتھ نماز کے لئے جائے اور راہ میں گرمی زیادہ محسوس کرے۔
ترقیم عبدالباقی: 615 ترقیم شاملہ: -- 1395
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ".
لیث نے ابن شہاب سے، انہوں نے (سعید) بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی شدید ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی لپٹوں (گرمی کے پھیلاؤ) میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1395]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شدید گرمی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت، دوزخ کی بھاپ یا آتش دوزخ کے جوش سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1395]
ترقیم فوادعبدالباقی: 615
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 615 ترقیم شاملہ: -- 1396
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ سَوَاءً.
یونس نے بتایا، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ اور سعید بن مسیب نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بالکل اسی طرح جیسے سابقہ حدیث میں ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1396]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1396]
ترقیم فوادعبدالباقی: 615
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 615 ترقیم شاملہ: -- 1397
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ عَمْرٌ: وَأَخْبَرَنَا، وَقَالَ الآخَرَانِ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَسَلْمَانَ الأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ الْيَوْمُ الْحَارُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، قَالَ عَمْرٌو : وَحَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ "، قَالَ عَمْرٌو : وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ ذَلِكَ.
عمرو (بن حارث بن یعقوب انصاری) نے خبر دی کہ بکیر (بن عبداللہ مخزومی) نے انہیں بسر بن سعید اور سلیمان اغر سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرم دن ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں (پڑھو) کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی لپٹوں میں سے ہے۔“ عمرو نے کہا: اور مجھے ابویونس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو ٹھنڈے وقت تک مؤخر کرو کیونکہ گرمی کی سختی جہنم کی گرمی کے پھیلاؤ (لپٹوں) میں سے ہے۔“ عمرو نے کہا: مجھے ابن شہاب نے بھی (سعید) بن مسیب اور ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے اسی طرح اوپر ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1397]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرم دن ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں لے جاؤ، کیونکہ گرمی کی شدت آتش دوزخ کے جوش کے سبب سے ہے۔“ عمرو نے کہا، مجھےابو یونس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو ٹھنڈے وقت تک موٴخر کرو کیونکہ گرمی کی سختی جہنم کی گرمی کے انتشار کی بنا پر ہے۔ عمرو نے کہا، مجھےابن شہاب نے ابن مسّیب اور ابو سلمہ سے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت اوپر کے مفہوم والی سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1397]
ترقیم فوادعبدالباقی: 615
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 615 ترقیم شاملہ: -- 1398
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ هَذَا الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ".
علاء نے اپنے والد (عبدالرحمن بن یعقوب) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گرمی آتش دوزخ کی لپٹوں میں سے ہے، اس لیے نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1398]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گرمی، آتش دوزخ کے جوش سے ہے، اس لیے نماز ٹھنڈے وقت پر پڑھا کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1398]
ترقیم فوادعبدالباقی: 615
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 615 ترقیم شاملہ: -- 1399
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدُوا عَنِ الْحَرِّ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ".
ہمام بن منبہ نے کہا: یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں سے (ایک) یہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نمازوں میں گرمی سے بچنے کے لیے (وقت) ٹھنڈا ہونے دو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1399]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے لیے گرمی کو ٹھنڈے وقت میں لے جاؤ، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی آگ کے جوش کی بنا پر ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1399]
ترقیم فوادعبدالباقی: 615
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 616 ترقیم شاملہ: -- 1400
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُهَاجِرًا أَبَا الْحَسَنِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظُّهْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْرِدْ أَبْرِدْ، أَوَ قَالَ: انْتَظِرِ، انْتَظِرِ، وَقَالَ: " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ "، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ.
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مؤذن ظہر کی اذان دینے لگا تو آپ نے فرمایا: ”(وقت کو) ٹھنڈا ہونے دو، ٹھنڈا ہونے دو۔“ یا فرمایا: ”انتظار کرو، انتظار کرو۔“ اور فرمایا: ”بلاشبہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹوں میں سے ہے، اس لیے جب گرمی شدید ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت تک مؤخر کرو۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: (نماز میں اتنی تاخیر کی گئی) حتی کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1400]
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے ظہر کی اذان دینا چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھنڈا وقت ہونے دو، ٹھنڈا وقت ہونے دو۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انتظار کرو، انتظار کرو۔“ اور فرمایا: ”گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ کے سبب سے ہے، اس لیے جب گرمی شدید ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔“ ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے، حتیٰ کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1400]
ترقیم فوادعبدالباقی: 616
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 617 ترقیم شاملہ: -- 1401
وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَهْوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ ".
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ نے اپنے رب کے حضور شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے۔ تو اللہ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت عطا کر دی: ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں، گرمی اور سردی کے موسم میں جو تم شدید ترسین گرمی اور شدید ترسین سردی محسوس کرتے ہو تو یہ وہی (چیز) ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1401]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ نے اپنے آقا کے حضور شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرے بعض حصے نے بعض کو کھا لیا تو اس کو دو سانس لینے کی اجازت دے دی گئی یا اللہ نے اجازت دے دی۔ ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں، گرمی اور سردی میں جو تم گرمی اور سردی کی شدت محسوس کرتے ہو وہ اسی کا نتیجہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1401]
ترقیم فوادعبدالباقی: 617
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 617 ترقیم شاملہ: -- 1402
وحَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، وَذَكَرَ أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا، فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ ".
اسود بن سفیان کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یزید نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت تک مؤخر کر کے پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہوتی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) ذکر فرمایا: ”(جہنم کی) آگ نے اپنے رب کے حضور شکایت کی تو اللہ نے اسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دی: ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1402]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی ہو تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا، آگ نے اپنے رب کے حضور شکایت کی تو اس نے اسے سال میں دو سانس لینے کی اجازت دے دی، ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1402]
ترقیم فوادعبدالباقی: 617
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 617 ترقیم شاملہ: -- 1403
وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَتِ النَّارُ: رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأْذَنْ لِي أَتَنَفَّسْ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ بَرْدٍ أَوْ زَمْهَرِيرٍ، فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ، وَمَا وَجَدْتُمْ مِنْ حَرٍّ أَوْ حَرُورٍ فَمِنْ نَفَسِ جَهَنَّمَ ".
محمد بن ابراہیم نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”آگ نے عرض کی: اے میرے رب! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے، مجھے سانس لینے کی اجازت مرحمت فرما۔ تو (اللہ نے) اسے دو سانس لینے کی اجازت دی: ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں۔ تم جو سردی یا ٹھنڈک کی شدت پاتے ہو، وہ جہنم کی سانس سے ہے اور جو تم حرارت یا گرمی کی شدت پاتے ہو تو وہ (بھی) جہنم کی سانس سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1403]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگ نے عرض کی، اے میرے رب! میرے بعض نے بعض کو کھا لیا تو مجھے سانس لینے کی اجازت مرحمت فرمائیے تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دے دی، ایک سانس سردی میں اور ایک سانس گرمی میں، تو تم جو سردی یا ٹھنڈ کی شدت پاتے ہو وہ جہنم کی سانس سے ہے اور جو تم گرمی یا گرمی کی شدت پاتے ہو تو وہ جہنم کی سانس سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1403]
ترقیم فوادعبدالباقی: 617
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة