🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. باب فَضْلِ صَلاَتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهِمَا:
باب: صبح اور عصر کی نماز کی فضیلت اور ان کی محافظت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 632 ترقیم شاملہ: -- 1432
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ، كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ".
ابوزناد نے اعراج سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے تمہارے درمیان آتے ہیں اور فجر کی نماز اور عصر کی نماز کے وقت وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں، پھر جنہوں نے تمہارے درمیان رات گزاری ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتے ہیں، ان سے ان کا رب پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے: تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ جواب دیتے ہیں: ہم انہیں (اس حالت میں) چھوڑ کر آئے ہیں کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس (کل عصر کے وقت) اس حالت میں پہنچے تھے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1432]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس فرشتے رات اور دن کے وقت باری، باری آتے ہیں اور فجر کی نماز اور عصر کی نماز کے وقت وہ اکھٹے ہو جاتے ہیں، پھر جنہوں نے رات گزاری ہوتی ہے وہ اوپر چلے جاتے ہیں تو ان سے ان کا رب پوچھتا ہے، حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے، تم میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ تو وہ جواب دیتے ہیں ہم ان کو (صبح) چھوڑ کر آئے ہیں جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس (عصر کے وقت) پہنچے تھے جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1432]
ترقیم فوادعبدالباقی: 632
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 632 ترقیم شاملہ: -- 1433
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالْمَلَائِكَةُ يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ.
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے تمہارے پاس آتے ہیں۔ (اس حدیث میں ملائکہ کا لفظ «یتعاقبون» سے پہلے ہے۔) (باقی روایت ابوزناد کی روایت کے مانند ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1433]
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے تمہارے پاس یکے بعد دیگرے آتے ہیں (یعنی ملائکہ کا لفظ یتعاقبون سے پہلے ہے) آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1433]
ترقیم فوادعبدالباقی: 632
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 633 ترقیم شاملہ: -- 1434
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ يَقُولُ: " كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، يَعْنِي الْعَصْرَ، وَالْفَجْرَ، ثُمَّ قَرَأَ جَرِيرٌ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا سورة طه آية 130 ".
زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں قیس بن ابی حازم نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف نظر کی اور فرمایا: سنو! تم لوگ اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے، جس طرح اس پورے چاند کو دیکھ رہے ہو، اس کے دیکھنے میں تمہیں بیتھر نہ لگے گا، اگر تم یہ کر سکو کہ سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز میں (مصروفیت، سستی وغیرہ سے) مغلوب نہ ہو (تو تمہیں یہ نعمت عظمیٰ مل جائے گی۔) آپ کی مراد عصر اور فجر کی نماز سے تھی، پھر جریر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: «وسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل غروبہا» اور اپنے رب کی حمد کی تسبیح بیان کرو، سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1434]
حضرت جریرہ بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: ہاں تم یقیناً اپنے رب کو دیکھو گے، جس طرح اس چاند (ماہ کامل) کو دیکھ رہے ہو، اس کے دیکھنے میں تمہارا اژدھام (بھیڑ) نہیں ہو گا یا کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی پس اگر تم یہ کر سکو کہ سورج نکلنے سے پہلے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے کی نماز کے سلسلہ میں مغلوب نہ ہو (نہ ہارو) یعنی عصر اور فجر کی نماز کی پابندی کرو، پھر جریر نے یہ آیت پڑھی، ﴿وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا﴾ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کر سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے۔ (طہٰ: ۱۳۰) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1434]
ترقیم فوادعبدالباقی: 633
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 633 ترقیم شاملہ: -- 1435
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَوَكِيعٌ ، بهذا الإسناد، وَقَالَ: أَمَا إِنَّكُمْ سَتُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّكُمْ، فَتَرَوْنَهُ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، وَقَالَ: ثُمَّ قَرَأَ وَلَمْ يَقُلْ جَرِيرٌ.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے عبداللہ بن نمیر، ابواسامہ اور وکیع سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی، اس میں ہے: سنو! تم لوگ یقیناً اپنے رب کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور اس کو اسی طرح دیکھو گے، جس طرح اس پورے چاند کو دیکھتے ہو۔ پھر روایت نے (ثم قراء جریر کے بجائے) «ثم قرأ» (پھر انہوں نے پڑھا) کہا اور جریر رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1435]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں ہے: ہاں تم یقیناً اپنے رب کے سامنے پیش کیے جاؤ گے تو اسے اس طرح دیکھو گے، جس طرح اس چاند کو دیکھتے ہو، پھر راوی نے قرأ کے بعد جریر کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1435]
ترقیم فوادعبدالباقی: 633
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 634 ترقیم شاملہ: -- 1436
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، وَمِسْعَرٍ ، وَالْبَخْتَرِيِّ بْنِ الْمُخْتَارِ ، سَمِعُوهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، يَعْنِي الْفَجْرَ، وَالْعَصْرَ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ الرَّجُلُ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي.
اسماعیل بن ابی خالد، مسعر اور بختری بن مختار نے یہ روایت ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ سے سنی، انہوں نے اپنے والد (حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ شخص ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا جو سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے۔ یعنی فجر اور عصر کی نمازیں۔ اس پر بصرہ کے ایک آدمی نے ان سے کہا: کیا آپ نے یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس آدمی نے کہا: میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بھی یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ میرے دونوں کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1436]
ابو بکر بن عمارہ بن رویبہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب سے پہلے نماز پڑھتا ہے وہ ہرگز آگ میں داخل نہیں ہو گا، یعنی جو عصر اور مغرب پڑھتا ہے تو ان سے ایک بصری آدمی نے پوچھا: کیا تو نے یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں، تو اس آدمی نے کہا: میں شہادت دیتا ہوں میں نے بھی یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، میرے کانوں نے اسے سنا اور میرے دل نے اس کو سمجھ کر یاد رکھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1436]
ترقیم فوادعبدالباقی: 634
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 634 ترقیم شاملہ: -- 1437
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَلِجُ النَّارَ مَنْ صَلَّى، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا "، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ، قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ، لَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُهُ بِالْمَكَانِ الَّذِي سَمِعْتَهُ مِنْهُ.
عبدالملک بن عمیر نے حضرت عمارہ بن رویبہ کے بیٹے سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان سورج نکلنے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا۔ اور ان کے پاس بصرہ کا ایک باشندہ بھی موجود تھا، اس نے پوچھا: کیا آپ نے یہ حدیث براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اور میں اس کی شہادت دیتا ہوں۔ اس آدمی نے کہا: اور میں بھی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اسی جگہ ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا جہاں آپ نے ان سے سنا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1437]
حضرت ابو بکر بن عمارہ بن رویبہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھتا ہے، وہ آگ میں داخل نہیں ہو گا۔ اور ان کے پاس بصرہ کا باشندہ تھا۔ تو اس نے پوچھا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست یہ حدیث سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میں اس پر شہادت دیتا ہوں، اس نے کہا اور میں بھی شہادت دیتا ہوں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے ایسی جگہ سے سنا، جہاں سے میں اسے سن سکتا تھا، یا اس جگہ میں نے سنا، جہاں تو نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1437]
ترقیم فوادعبدالباقی: 634
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 635 ترقیم شاملہ: -- 1438
وحَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ الضُّبَعِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ".
ہداب بن خالد ازدی نے کہا: ہمیں ہمام بن یحییٰ نے حدیث سنائی، کہا: مجھے ابوجمرہ ضبعی نے ابوبکر (بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے حدیث سنائی اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو ٹھنڈے وقتوں کی نمازیں ادا کیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ (دن کا ٹھنڈا وقت عصر کا اور رات کا سب سے ٹھنڈا وقت فجر کا ہوتا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1438]
ابو بکر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو ٹھنڈے وقت کی نمازیں پڑھیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1438]
ترقیم فوادعبدالباقی: 635
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 635 ترقیم شاملہ: -- 1439
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَنَسَبَا أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَا ابْنُ أَبِي مُوسَى.
بشر بن سری اور عمر بن عاصم دونوں نے کہا: ہم سے ہمام نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے ابوبکر کا نسب بیان کیا اور کہا: ابن ابی موسیٰ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1439]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1439]
ترقیم فوادعبدالباقی: 635
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں