صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
42. باب فَضْلِ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ وَبَيَانِ التَّشْدِيدِ فِي التَّخَلُّفِ عَنْهَا:
باب: نماز باجماعت کی فضیلت اور اس کے ترک پر ندامت اور اس کے فرض کفایہ ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 651 ترقیم شاملہ: -- 1482
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ . ح، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَثْقَلَ صَلَاةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ، لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ ".
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافقوں کے لیے سب سے بھاری نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر ان لوگوں کو پتہ چل جائے جو ان میں (خیر و برکت) ہے تو چاہے انہیں گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے، ضرور آئیں۔ اور میں نے سوچا تھا کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں، پھر کسی شخص کو کہوں وہ لوگوں کو جماعت کرائے، پھر میں کچھ اشخاص کو ساتھ لے کر، جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں، ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے، پھر ان کے گھروں کو ان پر آگ سے جلا دوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1482]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافقوں کے لیے سب سے بھاری اور دشوار نماز، عشاء اور فجر کی نماز ہے اگر ان لوگوں کو ان کی خیروبرکت اور ثواب کا یقین ہو جائے تو ان کے لیے ضرور آئیں اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے اور میں نے ارادہ کیا، میں نماز کھڑی کرنے کا حکم دوں، پھر کسی آدمی کو کہوں وہ لوگوں کو جماعت کرائے، پھر میں کچھ مردوں کو ساتھ لے کر جاؤں جن کے پاس لکڑیوں کے گٹھے ہوں تو ان لوگوں کو جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1482]
ترقیم فوادعبدالباقی: 651
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 651 ترقیم شاملہ: -- 1483
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي، أَنْ يَسْتَعِدُّوا لِي بِحُزَمٍ مِنْ حَطَبٍ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ تُحَرَّقُ بُيُوتٌ عَلَى مَنْ فِيهَا ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، پھر انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں، ان میں سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا تھا کہ اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ وہ میری خاطر لکڑی کے گٹھے تیار کریں، پھر کسی آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر گھروں کو ان کے (بے نماز) باسیوں سمیت جلا دیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1483]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ وہ میرے لیے لکڑی کے گٹھے تیار کریں، پھر کسی آدمی کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دوں، پھر گھروں کو ان میں موجود لوگوں سمیت جلادوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1483]
ترقیم فوادعبدالباقی: 651
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 651 ترقیم شاملہ: -- 1484
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ وَكِيعٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
یزید بن اصم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی طرح حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1484]
یزید بن اصم نے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1484]
ترقیم فوادعبدالباقی: 651
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 652 ترقیم شاملہ: -- 1485
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ سَمِعَهُ مِنْهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ ".
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے جو جمعے سے پیچھے رہ جاتے ہیں، فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ کسی آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر ان لوگوں کے گھروں کو ان پر (اس سمیت) جلا دوں جو جمعے سے پیچھے رہتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1485]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں جو پیچھے رہے تھے جاتے ہیں۔ فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ کسی آدمی کو لوگوں کی جماعت کرانے کا حکم دوں، پھر ان لوگوں کو جو جمعہ سے پیچھے رہتے ہیں، ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1485]
ترقیم فوادعبدالباقی: 652
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة