🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. باب يَجِبُ إِتْيَانُ الْمَسْجِدِ عَلَى مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ:
باب: جو اذان سنتا ہے اس پر مسجد میں پہنچنا لازم ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 653 ترقیم شاملہ: -- 1486
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ كلهم، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلٌ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى، دَعَاهُ، فَقَالَ: " هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَجِبْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی لانے والا نہیں جو (ہاتھ سے پکڑ کر) مجھے مسجد میں لے آئے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اسے اجازت دی جائے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لے۔ آپ نے اسے اجازت دے دی، جب وہ واپس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تم نماز کا بلاوا (اذان) سنتے ہو؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: تو اس پر لبیک کہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1486]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے مسجد میں لانے والا کوئی آدمی نہیں ہے تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی۔ کہ اسے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی جب اس نے پشت پھیر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تم نماز کے لیے بلاوا سنتے ہو؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے قبول کرو، یعنی نماز کے لیے آؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 653
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں