مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
123. من قال يوتر وإن أصبح وعليه قضاؤه
جو حضرات فرماتے ہیں کہ وتروں کی قضاء لازم ہے
ترقیم عوامۃ: 6858 ترقیم الشثری: -- 6962
٦٩٦٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا هشيم عن ابن عون عن الشعبي قال: لا تدع وترك ولو (تنصف) (١) النهار.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بنصف).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا هشيم، عن ابن عون، عن الشعبي، قال: " لا تدع وترك ولو تنصف النهار"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ تم اپنے وتر نہ چھوڑو خواہ آدھا دن گذر جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6962]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6962، ترقيم محمد عوامة 6858)
ترقیم عوامۃ: 6859 ترقیم الشثری: -- 6963
٦٩٦٣ - حدثنا علي بن مسهر عن ليث عن الشعبي وعطاء والحسن وطاوس ومجاهد قالوا: لا تدع الوتر وإن طلعت الشمس.
حدثنا علي بن مسهر، عن ليث، عن الشعبي، وعطاء، والحسن، وطاوس، ومجاهد، قالوا: " لا تدع الوتر وإن طلعت الشمس"
حضرت شعبی، حضرت عطاء، حضرت حسن، حضرت طاوس اور حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ وتر نہ چھوڑو خواہ سورج طلوع ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6963]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6963، ترقيم محمد عوامة 6859)
ترقیم عوامۃ: 6860 ترقیم الشثری: -- 6964
٦٩٦٤ - حدثنا ابو بكر عن ليث عن عطاء وطاوس انهما قالا: من لم يوتر حتى تطلع الشمس فليوتر.
حدثنا ابو بكر عن ليث، عن عطاء، وطاوس، انهما قالا: " من لم يوتر حتى تطلع الشمس ؛ فليوتر"
حضرت عطاء اور حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جس شخص نے وتر نہ پڑھے اور سورج طلوع ہوگیا تو وہ پھر بھی وتر پڑھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6964]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6964، ترقيم محمد عوامة 6860)
ترقیم عوامۃ: 6861 ترقیم الشثری: -- 6965
٦٩٦٥ - حدثنا وكيع (عن مسعر عن وبرة قال: سالت ابن عمر عن رجل اصبح ولم يوتر قال: ارايت لو) (١) نمت عن الفجر حتى تطلع الشمس اليس كنت تصلي كانه يقول: يوتر (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) صحيح.
حدثنا حدثنا وكيع، عن مسعر، عن وبرة، قال: سالت ابن عمر عن رجل اصبح ولم يوتر، قال:" ارايت لو نمت عن الفجر حتى تطلع الشمس، اليس كنت تصلي كانه يقول يوتر"
حضرت وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی نے صبح تک وتر نہ پڑھے تو وہ کیا کرے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم طلوع شمس تک فجر کی نماز نہ پڑھو تو کیا تم اسے قضاء نیں م کروگے؟ گویا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرمانا چاہتے تھے کہ وہ وتر پڑھے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6965]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6965، ترقيم محمد عوامة 6861)
ترقیم عوامۃ: 6862 ترقیم الشثری: -- 6966
٦٩٦٦ - حدثنا وكيع عن عباد بن منصور قال: سمعت سعيد بن جبير وسئل عن رجل نام عن الوتر حتى اصبح (فقال) (١) : يوتر من (القابلة) (٢) (وترين) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (وقال).
(٢) في [ب]: (من القائلة).
(٣) في [أ، ك، ز]: (وتران).
حدثنا وكيع، عن عباد بن منصور، قال:" سمعت سعيد بن جبير وسئل عن رجل نام عن الوتر حتى اصبح، فقال:" يوتر من القابلة وترين"
حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص صبح تک وتر نہ پڑھ سکے تو وہ کیا کرے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگلے دن دو وتر پڑھے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6966]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6966، ترقيم محمد عوامة 6862)
ترقیم عوامۃ: 6863 ترقیم الشثری: -- 6967
٦٩٦٧ - حدثنا حماد بن خالد عن مالك عن عبد الرحمن بن القاسم قال: اوتر ابي وقد طلع الفجر.
حدثنا حماد بن خالد، عن مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، قال: " اوتر ابي، وقد طلع الفجر"
حضرت عبدا لرحمن بن قاسم فرماتے ہیں کہ میرے والد نے فجر طلوع ہونے کے بعد وتر ادا کئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6967]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6967، ترقيم محمد عوامة 6863)
ترقیم عوامۃ: 6864 ترقیم الشثری: -- 6968
٦٩٦٨ - حدثنا محمد بن ابي عدي عن ابن عون عن محمد قال: قلت له: الرجل (ينام) (١) (فيصبح) (٢) (يوتر) (٣) بعد ما يصبح بركعة قال: لا اعلم به باسا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، هـ].
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [أ، ك]: (فيوتر).
حدثنا محمد بن ابي عدي، عن ابن عون، عن محمد، قال:" قلت له: الرجل ينام، فيصبح، فيوتر بعدما يصبح بركعة، قال: لا اعلم به باسا"
حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد سے سوال کیا کہ اگر کوئی آدمی سو جائے اور صبح کا وقت ہوجائے، کیا وہ صبح ہونے کے بعد ایک رکعت وتر پڑھ سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6968]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6968، ترقيم محمد عوامة 6864)
ترقیم عوامۃ: 6865 ترقیم الشثری: -- 6969
٦٩٦٩ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سالت حمادا عن رجل لم يوتر حتى طلعت الشمس فقال: احب إلي ان يوتر.
حدثنا غندر، عن شعبة، قال: سالت حمادا عن رجل لم يوتر حتى طلعت الشمس، فقال:" احب إلي ان يوتر" ,
حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے طلوع شمس تک وتر ادا نہ کئے ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ وہ وتر پڑھے۔ میں نے یہی سوال حضرت حکم سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ چاہے تو وتر نہ پڑھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6969]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6969، ترقيم محمد عوامة 6865)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 6970
٦٩٧٠ - وسالت (الحكم) (١) فقال: إن شاء لم يوتر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (الحاكم).
وسالت الحكم، فقال:" إن شاء لم يوتر"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6970، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 6866 ترقیم الشثری: -- 6971
٦٩٧١ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن خالد بن (ابي) (١) كريمة عن معاوية بن قرة قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله إني اصبحت ولم اوتر فقال:"إنما الوتر بالليل"، ثم قال: يا رسول الله إني اصبحت ولم اوتر فقال:"إنما الوتر بالليل"، ثم قال: إني اصبحت ولم اوتر قال في الثالثة او الرابعة:"فاوتر" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) مرسلٍ، أخرجه عبد الرزاق (٤٦٠٧)، وابن أبي عمر كما في المطالب (٦٣١)، كما رواه متصلا من حديث الأغر المزني الضياء في المختارة (١٤٩٩)، والطبراني (٨٩١)، والبيهقي ٢/ ٤٧٩.
حدثنا عبد الله بن إدريس ، عن خالد بن ابي كريمة ، عن معاوية بن قرة ، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله إني اصبحت، ولم اوتر، فقال:" إنما الوتر بالليل، ثم قال: يا رسول الله , إني اصبحت ولم اوتر , فقال: إنما الوتر بالليل، ثم قال: إني اصبحت ولم اوتر، قال: في الثالثة، او الرابعة: فاوتر"
حضرت معاویہ بن قرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے رسول! میں نے صبح کرلی اور میں نے وتر نہیں پڑھے۔ آپ نے فرمایا کہ وتر تو رات کو ہوتے ہیں۔ اس نے پھر کہا کہ میں نے صبح کردی اور وتر ادا نہیں کئے۔ آپ نے پھر فرمایا کہ وتر تو رات کو ہوتے ہیں۔ اس نے تیسری مرتبہ کہا کہ میں نے صبح کردی لیکن وتر نہیں پڑھے۔ آپ نے پھر فرمایا کہ وتر تو رات کو ہوتے ہیں۔ جب اس نے چوتھی مرتبہ وہی بات کی تو آپ نے فرمایا کہ پھر وتر پڑھ لو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 6971]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 6971، ترقيم محمد عوامة 6866)