🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

221. من كره ذلك؟
جن حضرات نے مسجد میں عورتوں کی حاضری کو مکروہ قرار دیا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7696 ترقیم الشثری: -- 7824
٧٨٢٤ - حدثنا وكيع ثنا مسعر عن سلمة بن كهيل عن ابي عمرو الشيباني، قال: قال عبد الله: ما صلت امراة صلاة قط افضل من صلاة تصليها في بيتها إلا ان تصلي عند المسجد الحرام، إلا عجوز في منقليها يعني (خفيها) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (حقها)، وفي [ك]: (خفها).
(٢) صحيح.

حدثنا حدثنا وكيع، ثنا مسعر، عن سلمة بن كهيل، عن ابي عمرو الشيباني، قال: قال عبد الله : " ما صلت امراة صلاة قط افضل من صلاة تصليها في بيتها إلا ان تصلي عند المسجد الحرام، إلا عجوز في منقليها، يعني: خفيها"
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ کسی عورت نے اپنے کمرے سے بہتر کسی جگہ نماز نہیں پڑھی، البتہ وہ عورت جو مسجد حرام میں نماز پڑھے۔ البتہ کوئی بوڑھی عورت پھٹے ہوئے موزوں کے ساتھ آئے تو اس کے لئے جائز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7824]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7824، ترقيم محمد عوامة 7696)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7697 ترقیم الشثری: -- 7825
٧٨٢٥ - حدثنا وكيع ثنا إسرائيل عن عبد الاعلى عن سعيد بن جبير عن عبد الله ابن عباس ان امراة (سالته) (١) عن الصلاة في المسجد يوم الجمعة (فقال) (٢) : صلاتك في مخدعك افضل من صلاتك في بيتك، وصلاتك في بيتك افضل من صلاتك في حجرتك، وصلاتك في حجرتك افضل من صلاتك في مسجد قومك (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ك]: (سألت).
(٢) في [أ]: (قال).
(٣) ضعيف؛ لضعف عبد الأعلى.

حدثنا حدثنا وكيع، ثنا إسرائيل، عن عبد الاعلى، عن سعيد بن جبير، عن عبد الله بن عباس :" ان امراة سالته عن الصلاة في المسجد يوم الجمعة؟ فقال: صلاتك في مخدعك افضل من صلاتك في بيتك، وصلاتك في بيتك افضل من صلاتك في حجرتك، وصلاتك في حجرتك افضل من صلاتك في مسجد قومك"
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے جمعہ کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تمہارے لئے اپنے پردے میں نماز پڑھنا اپنے کمرے میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، اپنے کمرے میں نماز پڑھنا اپنے گھر مں ن نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور اپنے گھر میں نماز پڑھنا اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7825]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7825، ترقيم محمد عوامة 7697)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7698 ترقیم الشثری: -- 7826
٧٨٢٦ - حدثنا وكيع ثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن ابي الاحوص، قال: قال عبد الله: المراة عورة واقرب ما تكون من ربها إذا كانت في قعر بيتها فإذا خرجت استشرفها الشيطان (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا حدثنا وكيع، ثنا سليمان بن المغيرة، عن حميد بن هلال، عن ابي الاحوص، قال: قال عبد الله : " المراة عورة، واقرب ما تكون من ربها إذا كانت في قعر بيتها، فإذا خرجت ؛ استشرفها الشيطان"
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ عورت چھپانے کی چیز ہے، وہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کی تہہ میں ہوتی ہے اور جب وہ باہر آتی ہے تو شیطان اسے جھانکتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7826]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7826، ترقيم محمد عوامة 7698)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7699 ترقیم الشثری: -- 7827
٧٨٢٧ - حدثنا وكيع ثنا سفيان عن ابي فروة الهمدانى عن ابي عمرو الشيباني قال: رايت ابن مسعود يحصب النساء يخرجهن من المسجد يوم الجمعة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا حدثنا وكيع، ثنا سفيان، عن ابي فروة الهمداني، عن ابي عمرو الشيباني، قال:" رايت ابن مسعود يحصب النساء ؛ يخرجهن من المسجد يوم الجمعة"
حضرت ابو عمرو شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود جمعہ کے دن عورتوں کو مسجد سے نکالنے کے لیے کنکریاں مارتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7827]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7827، ترقيم محمد عوامة 7699)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7700 ترقیم الشثری: -- 7828
٧٨٢٨ - حدثنا وكيع ثنا إياس بن دغفل، قال: سئل الحسن عن امراة جعلت عليها ان اخرج زوجها من السجن ان تصلي في كل مسجد تجمع فيه الصلاة بالبصرة ركعتين، (فقال) (١) الحسن: تصلي في مسجد قومها، فإنها لا تطيق ذلك، لو ادركها عمر ابن الخطاب لاوجع راسها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (قال).
حدثنا وكيع، ثنا إياس بن دغفل، قال:" سئل الحسن عن امراة جعلت عليها، إن اخرج زوجها من السجن، ان تصلي في كل مسجد تجمع فيه الصلاة بالبصرة ركعتين؟ فقال الحسن:" تصلي في مسجد قومها ؛ فإنها لا تطيق ذلك. لو ادركها عمر بن الخطاب لاوجع راسها"!
حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر اس کا خاوند جیل سے آزاد ہوگیا تو وہ بصرہ کی ہر اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھے گی جس میں جماعت ہوتی ہے۔ اس نذر کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا وہ اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھے، کیونکہ وہ اپنی اس نذر کو پوری کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اگر حضرت عمر اسے دیکھتے تو اس کے سر پر مارتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7828]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7828، ترقيم محمد عوامة 7700)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7701 ترقیم الشثری: -- 7829
٧٨٢٩ - حدثنا ابو الاحوص عن سعيد بن مسروق عن ابي عمرو الشيباني قال: سمعت (رب) (١) هذه الدار -يعني ابن مسعود- حلف فبالغ في اليمين ما صلت ⦗١٣٩⦘ امراة صلاة احب إلى الله من صلاة في بيتها إلا في حج (او عمرة) (٢) إلا امراة قد ايست من البعولة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يد).
(٢) سقط من: [أ].
(٣) صحيح.

حدثنا حدثنا ابو الاحوص، عن سعيد بن مسروق، عن ابي عمرو الشيباني، قال:" سمعت رب هذه الدار، يعني: ابن مسعود حلف فبالغ في اليمين: ما صلت امراة صلاة احب إلى الله من صلاة في بيتها إلا في حج او عمرة، إلا امراة قد ايست من البعولة"
حضرت ابو عمر و شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے اس گھر کے مالک یعنی حضرت ابن مسعود کو فرماتے ہوئے سنا، انہوں نے بھرپور قسم کھا کر فرمایا کہ عورت کی کوئی نماز اللہ کو اس نماز سے زیادہ محبوب نہیں جسے وہ اپنے کمرے میں پڑھے۔ البتہ حج وعمرہ کی نماز اس سے مستثنیٰ ہے اور ایسی عورت جو خاوند کے قابل نہ رہی ہو وہ بھی اس سے مستثنیٰ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7829]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7829، ترقيم محمد عوامة 7701)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7702 ترقیم الشثری: -- 7830
٧٨٣٠ - حدثنا زيد بن (حباب) (١) ثنا ابن لهيعة حدثتي عبد الحميد بن المنذر (الساعدي) (٢) عن ابيه عن جدته ام حميد قالت: قلت يا رسول الله يمنعنا ازواجنا ان (نصلي) (معك) (٣) ونحب الصلاة معك فقال رسول الله ﷺ:"صلاتكن في بيوتكن افضل من صلاتكن في حجركن وصلاتكن في حجركن افضل من صلاتكن في الجماعة" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (خباب).
(٢) في [أ، ع]: (الساعي).
(٣) سقط من: [أ].
(٤) مجهول؛ عبد الحميد وأبوه مجهولان، أخرجه الطبراني ٢٥/ (٣٥٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٣٧٩)، وابن الأثير في أسد الغابة ٧/ ٣٢٣، والبيهقي ٣/ ١٣٢، كما أخرجه أحمد (٢٧٠٩٠)، وابن حبان (٢٢١٧)، وابن خزيمة (١٦٨٩)، وابن عبد البر في الاستيعاب ٤/ ٤٤٦.

حدثنا زيد بن حباب ، ثنا ابن لهيعة ، حدثني عبد الحميد بن المنذر الساعدي ، عن ابيه ، عن جدته ام حميد ، قالت: قلت: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم يمنعنا ازواجنا ان نصلي معك ونحب الصلاة معك؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " صلاتكن في بيوتكن افضل من صلاتكن في حجركن، وصلاتكن في حجركن افضل من صلاتكن في الجماعة"
حضرت ام حمید فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یار سول اللہ! ہمارے خاوند اس بات سے منع کرتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھیں، حالانکہ ہمیں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے لئے اپنے کمروں میں نماز پڑھنا گھر میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور گھروں میں نماز پڑھنا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7830]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7830، ترقيم محمد عوامة 7702)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7703 ترقیم الشثری: -- 7831
٧٨٣١ - حدثنا حفص عن الاعمش عن إبراهيم، قال: كان لإبراهيم ثلاث نسوة فلم يكن يدعهن يخرجن إلى جمعة ولا جماعة.
حدثنا حفص، عن الاعمش، عن إبراهيم، قال:" كان لإبراهيم ثلاث نسوة فلم يكن يدعهن يخرجن إلى جمعة ولا جماعة"
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم کی تین بیویاں تھیں وہ انہیں جمعہ اور جماعت میں شریک نہ ہونے دیتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7831]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7831، ترقيم محمد عوامة 7703)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں