مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
325. في الإيماء في الصلاة
نماز میں اشارہ کرنے کا بیان
ترقیم عوامۃ: 8587 ترقیم الشثری: -- 8728
٨٧٢٨ - حدثنا غندر عن شعبة عن ابي إسحاق قال: رايت عمرو بن ميمون وهو يصلي (فاوما) (١) إلى رجل بيده.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، هـ]: (يومئ).
حدثنا غندر، عن شعبة، عن ابي إسحاق، قال:" رايت عمرو بن ميمون وهو يصلي فاوما إلى رجل بيده"
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن میمون کو نماز میں اشارہ کرتے دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 8728]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8728، ترقيم محمد عوامة 8587)
ترقیم عوامۃ: 8588 ترقیم الشثری: -- 8729
٨٧٢٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا الاعمش عن ابي سفيان عن جابر قال: صرع النبي ﷺ عن فرس له فوقع على جذع نخلة فانفكت قدمه فدخلنا عليه نعوده وهو يصلي في مشوبة (لعائشة) (١) (جالسا) (٢) فصلينا بصلاته ونحن قيام، ثم دخلنا عليه مرة اخرى وهو يصلي جالسا فصلينا بصلاته ونحن قيام فاوما إلينا ان اجلسوا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بعائشة).
(٢) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٣) حسن؛ أبو سفيان صدوق، أخرجه أحمد (١٤٢٠٥)، وأبو داود (٦٠٢)، وابن ماجة (٣٤٨٥)، وابن خزيمة (١٦١٥)، وابن حبان (٢١١٤)، والبخاري في الأدب (٩٦٠)، وأبو يعلى (١٨٩٦)، والدارقطني ١/ ٤٢٢، والبيهقي ٣/ ٧٩، وأصله في مسلم (٤١٣).
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ گھوڑے سے نیچے گرے اور کھجور کے ایک تنے پر لگے جس سے آپ کے پاؤں میں چوٹ آگئی۔ ہم آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ایک کمرے میں بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کھڑے کھڑے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کردی۔ پھر ہم دوسری مرتبہ آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کھڑے ہوکر آپ کی اقتداء شروع کردی تو آپ نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 8729]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8729، ترقيم محمد عوامة 8588)
ترقیم عوامۃ: 8589 ترقیم الشثری: -- 8730
٨٧٣٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام عن ابيه عن عائشة قالت: اشتكى رسول الله ﷺ فدخل عليه ناس من اصحابه يعودونه فصلى رسول الله ﷺ جالسا فصلوا بصلاته قياما فاشار إليهم ان اجلسوا فجلسوا (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح، أخرجه البخاري (٥٦٥٨)، ومسلم (٤١٢).
حدثنا عبدة بن سليمان ، عن هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: " اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل عليه ناس من اصحابه يعودونه، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا، فصلوا بصلاته قياما، فاشار إليهم ان اجلسوا، فجلسوا"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ بیمار ہوگئے تو آپ کے کچھ صحابہ آپ کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے۔ اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا تو آپ نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو آپ نے انہیں اشارے سے کہا کہ بیٹھ کر نماز پڑھں ی۔ چناچہ وہ بیٹھ گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 8730]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8730، ترقيم محمد عوامة 8589)
ترقیم عوامۃ: 8590 ترقیم الشثری: -- 8731
٨٧٣١ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن الزبير بن عدي عن إبراهيم انه سئل عن الإيماء في الصلاة فقال: إن في الصلاة لشغلا.
حدثنا ابن مهدي، عن سفيان، عن الزبير بن عدي، عن إبراهيم , انه سئل عن الإيماء في الصلاة؟ فقال:" إن في الصلاة لشغلا"
حضرت زبیربن عدی کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم سے نماز میں اشارہ کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز کی اپنی مصروفیت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 8731]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8731، ترقيم محمد عوامة 8590)