🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

51. من قال يزكيه إذا استفاده
بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جس وقت فائدہ ہو اسی وقت زکوٰۃ ادا کرے سال گزرنا ضروری نہیں ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10325 ترقیم الشثری: -- 10511
١٠٥١١ - حدثنا ابو بكر قال: (حدثنا) (١) (معتمر) (٢) (عن) (٣) برد عن مكحول قال: إذا كان للرجل (شهر) (٤) يزكي فيه (فاصاب) (٥) مالا فانفقه فليس عليه (زكاة) (٦) ما انفق، ولكن ما وافى الشهر الذي يزكي فيه ماله زكاه، (فإن) (٧) كان ليس له شهر يزكي فيه فاستفاد مالا فليزكه حين يستفيده.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [ص، هـ]: (معمر).
(٣) في [ح]: (قال: حدثنا).
(٤) في [ح]: (شهرا).
(٥) في [ص]: (فأضاف).
(٦) في [ص]: (الزكاه).
(٧) في [ص]: (وإن).

حدثنا ابو بكر، حدثنا معتمر، عن برد، عن مكحول، قال: " إذا كان للرجل شهر يزكي فيه فاصاب مالا فانفقه فليس عليه زكاة ما انفق، ولكن ما وافى الشهر الذي يزكي فيه ماله زكاه , فإن كان ليس له شهر يزكي فيه فاستفاد مالا فليزكه حين يستفيده"
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی مہینے میں زکوٰۃ ادا کرے پھر اسی مہینے اس کو کچھ اور مال ملے اور وہ اس کو خرچ کر دے تو جو مال اس نے خرچ کیا ہے اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ لیکن جس مہینے اس نے زکوٰۃ ادا کی اور اس کو کچھ مال ملا جو پورا مہینہ اس کے پاس رہا تو اس پر زکوٰۃ ادا کرنی پڑے گی۔ اور اگر جس مہینے اس نے زکوٰۃ ادا نہیں کی اس مہینے اس کو کچھ مال ملا تو جس وقت اس کو فائدہ ہوا اسی وقت اس پر زکوٰۃ ادا کرنا پڑے گی۔ (اس پر سال گذرنا شرط نہیں ہے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10511]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10511، ترقيم محمد عوامة 10325)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10326 ترقیم الشثری: -- 10512
١٠٥١٢ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن عكرمة عن ابن عباس في الرجل يستفيد مالا قال: يزكيه حين يستفيده (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن عكرمة، عن ابن عباس ، في الرجل يستفيد مالا قال:" يزكيه حين يستفيده"
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ کسی آدمی کو کچھ مال ملتا ہے (دوران سال اس پر زکوٰۃ ہے کہ نہیں؟) آپ نے فرمایا جس وقت اس کو فائدہ ہو اسی وقت زکوٰۃ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10512]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10512، ترقيم محمد عوامة 10326)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10327 ترقیم الشثری: -- 10513
١٠٥١٣ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري انه كان يقول: إذا استفاد الرجل مالا فاراد ان ينفقه قبل مجيء شهر زكاته فليزكه، (ثم) (١) لينفقه وإن كان لا يريد ان ينفق فليزكه (مع) (٢) ماله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ح].
(٢) في [أ، ب]: (من).

حدثنا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، انه كان يقول: " إذا استفاد الرجل مالا فاراد ان ينفقه قبل مجيء شهر زكاته فليزكه ثم لينفقه، وإن كان لا يريد ان ينفق فليزكه مع ماله"
حضرت امام زہری ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کو مال ملے اور جس مہینے وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہے اس سے قبل ہی اس مال کو خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کو چاہئے کہ پہلے اس کی زکوٰۃ ادا کر دے پھر خرچ کرے اور اگر زکوٰۃ کے مہینے سے قبل خرچ کرنے کا ارادہ نہ ہو تو اس مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر اکٹھے ہی وقت پر زکوٰۃ ادا کرے۔ (اس مال پر سال گزرنے کا انتظار نہ کرے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10513]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10513، ترقيم محمد عوامة 10327)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں