🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. في زكاة الدين
قرض پر زکوٰۃ کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10356 ترقیم الشثری: -- 10542
١٠٥٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) هشام عن محمد عن عبيدة قال: سئل (علي) (٢) عن الرجل يكون له الدين (الظنون) (٣) (ايزكيه) (٤) ؟ فقال: إن كان (صادقا) (٥) فليزكه لما مضى إذا قبضه (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (أخبرنا).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [ز، ح، ك]: (الظنون) وفي [ص]: (الصون).
(٤) في [ص]: (انزلته).
(٥) في [ص]: (صادفًا).
(٦) صحيح.

حدثنا حدثنا يزيد بن هارون، قال: حدثنا هشام، عن محمد، عن عبيدة، قال: سئل علي عن الرجل يكون له الدين الظنون، ايزكيه؟ فقال:" إن كان صادقا فليزكه لما مضى إذا قبضه"
حضرت عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدمی کا کسی پر قرض ہو لیکن واپسی یقینی نہ ہو تو کیا وہ اسکی زکوٰۃ ادا کرے گا؟ آپ نے ارشاد فرمایا اگر مدیون سچا ہو تو قبضہ کے بعد جتنی مدت گذر گئی ہے اسکی زکوٰۃ ادا کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10542]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10542، ترقيم محمد عوامة 10356)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 10357 ترقیم الشثری: -- 10543
١٠٥٤٣ - حدثنا حماد بن خالد عن ابن ابي ذئب عن عثمان (بن ابي عثمان) (١) قال: قلت للقاسم بن محمد: إن لنا قرضا و (٢) دينا فنزكيه؟ قال: نعم. كانت عائشة تامرنا (ان) (٣) نزكي ما في البحر. وسالت سالما، فقال مثل ذلك (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ص].
(٢) في [أ، ب، ز] زيادة: (قرضًا).
(٣) سقط من: [أ، ب، ح، ص، ز].
(٤) مجهول؛ لجهالة عثمان بن أبي عثمان.

حدثنا حدثنا حماد بن خالد، عن ابن ابي ذئب، عن عثمان بن ابي عثمان، قال: قلت للقاسم بن محمد: إن لنا قرضا وقرضا ودينا فنزكيه؟ قال:" نعم، كانت عائشة تامرنا ان نزكي ما في البحر" وسالت سالما فقال: مثل ذلك
حضرت عثمان بن ابو عثمان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد سے دریافت فرمایا: میرا کچھ قرضہ معین مدت کیلئے ہے اور کچھ کا وقت معین نہیں تو کیا ہم زکوٰۃ ادا کریں اس پر؟ آپ نے فرمایا جی ہاں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ جو کچھ سمندر میں ہو اس پر زکوٰۃ ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے بھی یہی سوال پوچھا تو آپ نے بھی اسی طرح جواب ارشاد فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10543]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10543، ترقيم محمد عوامة 10357)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں