مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
56. ما قالوا في الجنازة، كيف يصنع بالسرير يرفع له شيء أم لا؟ وما يصنع فيه بالمرأة؟
میت کو چارپائی پر کیسے رکھیں گے؟ اس کا بیان
ترقیم عوامۃ: 11276 ترقیم الشثری: -- 11493
١١٤٩٣ - حدثنا ابو اسامة عن هشام عن ابيه ان اسماء بنت (عميس) (١) اول ⦗٥٢٣⦘ من احدثت النعش (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (عميل).
(٢) صحيح.
حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه:" ان اسماء بنت عميس اول من احدثت النعش"
حضرت ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیس پہلی خاتون ہیں جنہوں نے تابوت (چارپائی) ایجاد کی (متعارف کروائی)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11493]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11493، ترقيم محمد عوامة 11276)
ترقیم عوامۃ: 11277 ترقیم الشثری: -- 11494
١١٤٩٤ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن قيس (بن مسلم) (١) عن طارق بن شهاب إن ام ايمن امرت بالنعش للنساء (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ص]، وفي [ز]: (سليم)، وفي [أ، هـ، ب]: (بن سالم).
(٢) صحيح.
حدثنا حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن سفيان، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، ان ام ايمن " امرت بالنعش للنساء"
حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت ام ایمن نے عورتوں کے لیے تابوت (چارپائی) کا حکم فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11494]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11494، ترقيم محمد عوامة 11277)
ترقیم عوامۃ: 11278 ترقیم الشثری: -- 11495
١١٤٩٥ - حدثنا وكيع عن عمران بن حدير قال: مروا على ابي مجلز بنعش كبير فقال: رفعت اليهود والنصارى فخالفوهم.
حدثنا وكيع، عن عمران بن حدير، قال: مروا على ابي مجلز بنعش كبير فقال:" رفعت اليهود والنصارى فخالفوهم"
حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ ہم ابو مجلز کے پاس سے ایک بڑا تابوت (چارپائی) لے کر گذرے تو آپ نے فرمایا: یہود و نصاریٰ نے اس کو بلند کیا، پس تم لوگ ان کی مخالفت کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11495]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11495، ترقيم محمد عوامة 11278)
ترقیم عوامۃ: 11279 ترقیم الشثری: -- 11496
١١٤٩٦ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم قال: كانوا إذا كانت جنازة امراة اكفوا السرير فجافوا عنها بقوائمه وإذا كان رجل وضع على بطن السرير.
حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن إبراهيم، قال:" كانوا إذا كانت جنازة امراة اكفوا السرير فجافوا عنها بقوائمه، وإذا كان رجل وضع على بطن السرير"
حضرت ابراہیم فرماتے ہں ن کہ عورت کے جنازے کے تختے کے نیچے پائے لگا کر مرد اپنے اور تختے کے درمیان خلا پیدا کریں گے۔ مرد کے جنازے میں ایسا کرنے کی ضرورت نہیں البتہ اسے تختے کے درمیان میں رکھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 11496]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 11496، ترقيم محمد عوامة 11279)