صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
54. باب مَعْرِفَةِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ يُصَلِّيهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ:
باب: عصر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے ان کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 834 ترقیم شاملہ: -- 1933
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ، والْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا، وَسَلْهَا، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُمَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَكُنْتُ أَصْرِفُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَنْهَا، قَالَ كُرَيْبٌ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُمَا، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَنْهَى، عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَ: فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: " يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ، فَشَغَلُونِي، عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، عبدالرحمان بن ازہر، مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا کہ ہم سب کی طرف سے انہیں سلام عرض کرنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعت کے بارے میں پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ یہ (دو رکعتیں) پڑھتی ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے روکا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو ان سے روکا کرتا تھا۔ کریب نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا تھا، میں نے ان تک پہنچایا۔ انہوں نے جواب دیا: ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو۔ میں نکل کر ان حضرات کے پاس لوٹا اور انہیں ان کے جواب سے آگاہ کیا۔ ان حضرات نے مجھے وہی پیغام دے کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیج دیا، جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا، اس پر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ آپ ان دو رکعتوں سے روکتے تھے، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا، ہاں، آپ نے جب یہ دو رکعتیں پڑھیں تھیں، اس وقت آپ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے، پھر (عصر پڑھ کر) آپ (میرے گھر میں) داخل ہوئے، جبکہ میرے پاس انصار کے قبیلے بنو حرام کی کچھ عورتیں موجود تھیں، آپ نے یہ دو رکعتیں ادا (کرنی شروع) کیں، تو میں نے آپ کے پاس خادمہ بھیجی اور (اس سے) کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک جانب جا کر کھڑی ہو جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کرو کہ اے اللہ کے رسول! ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں آپ سے سنتی رہی ہوں کہ آپ (عصر کے بعد) ان دو رکعتوں سے منع فرماتے تھے اور اب میں آپ کو پڑھتے ہوئے دیکھ رہی ہوں؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھ سے اشارہ فرمائیں، تو پیچھے ہٹ (کر کھڑی ہو) جانا۔ اس لڑکی نے ایسے ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا، وہ آپ سے پیچھے ہٹ (کر کھڑی ہو) گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا، تو فرمایا: ”اے ابو امیہ (حذیفہ بن مغیرہ مخزومی) کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے، تو (معاملہ یہ ہے کہ) بنو عبدالقیس کے کچھ افراد اپنی قوم کے اسلام (لانے کی اطلاع) کے ساتھ میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے ظہر کی بعد کی دو رکعتوں سے مشغول کر دیا، یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔“ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1933]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمان بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا اور سب نے مجھے کہا کہ ہم سب کی طرف سے انھیں سلام عرض کرنا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعت کے بارے میں سوال کرنا اور ان سے پوچھنا ہمیں یہ خبر ملی ہے کہ آپ دو رکعتیں پڑھتی ہیں۔ جبکہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے روکتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مل کر لوگوں کو ان سے (پھیرنے کے لیے) ان کے پڑے پر مارتا تھا، کریب کہتے ہیں: میں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان حضرات نے جو پیغام د ے کر مجھے بھیجا تھا میں نے ان تک پہنچایا۔ انھوں (عائشہ) نے جواب دیا، ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھیے۔ میں ان حضرات کے پاس واپس آیا اور انھیں ان کے جواب سے آگاہ کیا۔ ان حضرات نے مجھے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف اس پیعام کے ساتھ بھیجا جس کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا تھا، اس پر ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جواب دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دو رکعت سے روکتے تھے، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رکعات پڑھتے دیکھا، ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس وقت پڑھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھ کو میرے پاس تشریف لائے، اور میرے پاس انصار کے قبیلہ بنو حرام کے کی کچھ عورتیں بیٹھیں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعتوں کو پڑھنا شروع کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خادمہ بھیجی اور میں نے کنیزسے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں جا کرکھڑی ہو جانا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنا، ام سلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتی ہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دو رکعتوں کے پڑھنے سے منع فرما رہے تھے اور اب میں آپ کو پڑھتے ہوئےدیکھ رہی ہوں؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ سے اشارہ سے پیچھے ہٹائیں تو ہٹ جانا، تو اس لونڈی نے ایسے ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو وہ آپ سے پیچھے ہٹ گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”اے ابو امیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے، صورت حال یہ ہے کہ میرے پاس عبدالقیس خاندان کے کچھ افراد اپنی قوم کے اسلام لانے کی اطلاعدینے آئے اور انھوں نے مجھے ظہر کی بعد کی دورکعتوں سے مشغول کردیا، یہ وہی دو رکعتیں ہیں۔“ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1933]
ترقیم فوادعبدالباقی: 834
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 835 ترقیم شاملہ: -- 1934
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وقُتَيْبَةُ وعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، " أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ "، فَقَالَتْ: " كَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ، ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا ". قَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ: قَالَ إِسْمَاعِيلُ: " تَعْنِي دَاوَمَ عَلَيْهَا ".
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، اور علی بن حجر نے اسماعیل بن جعفر سے حدیث بیان کی، ابن ایوب نے کہا: ہمیں اسماعیل نے حدیث سنائی، کہا مجھے محمد بن ابی حرملہ نے خبر دی، انہوں نے کہا، مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دو رکعتیں (ظہر کے بعد) عصر سے پہلے پڑھتے تھے، پھر ایک دن ان کے پڑھنے سے مشغول ہو گئے یا انہیں بھول گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عصر کے بعد پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قائم رکھا کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز (ایک دفعہ) پڑھ لیتے تو اسے قائم رکھتے تھے۔ یحییٰ بن ایوب نے کہا: اسماعیل نے کہا (اثبتہا اسے قائم رکھتے تھے) سے مراد ہے: آپ اس پر ہمیشہ عمل فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1934]
ابو سلمہ کی روایت ہے کہ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا ان دورکعتوں کے بارے میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں (ظہر کے بعد) عصر سے پہلے پڑھتے تھے، پھر ایک دن ان سے مشغول ہو گئے یا انہیں بھول گئے تو آپ ن انہیں عصر کے بعد پڑھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیشہ پڑھا، کیونکہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز شروع کرتے تو اس پر دوام فرماتے تھے۔ اسماعیل کہتے ہیں، ”أثبته“ کا معنی ہے ”داوم عليه“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہمیشگی کرتے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1934]
ترقیم فوادعبدالباقی: 835
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 835 ترقیم شاملہ: -- 1935
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ ".
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1935]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1935]
ترقیم فوادعبدالباقی: 835
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 835 ترقیم شاملہ: -- 1936
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إسحاق الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَاتَانِ مَا تَرَكَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي قَطُّ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً: رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ".
عبدالرحمان بن اسود نے اپنے والد اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: دو نمازیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں انہیں رازداری سے اور اعلانیہ کبھی ترک نہیں کیا: دو رکعتیں فجر سے پہلے اور دو رکعتیں عصر کے بعد۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1936]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ دو نمازیں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کبھی بھی میرے ہاں چھپے اور کھلے ترک نہیں کیا، فجر سے پہلے دو رکعت اور عصر کے بعد دو رکعت۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1936]
ترقیم فوادعبدالباقی: 835
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 835 ترقیم شاملہ: -- 1937
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إسحاق ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، ومَسْرُوقٍ ، قَالَا: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا كَانَ يَوْمُهُ الَّذِي كَانَ يَكُونُ عِنْدِي، إِلَّا صَلَّاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ".
ابواسحاق نے اسود اور مسروق سے روایت کی، ان دونوں نے کہا: ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے کہا: کوئی دن جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہوتے تھے ایسا نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں۔ ان کی مراد عصر کے بعد کی دو رکعتوں سے تھی۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1937]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ جس دن بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری میرے ہاں ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں دورکعت یعنی عصر کے بعد دو رکعت پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1937]
ترقیم فوادعبدالباقی: 835
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة