مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
57. (في) الرجل إذا أهل بعمرة فأحصر
کوئی شخص عمرہ کا احرام باندھے اور وہ پھر محصور ہو جائے
ترقیم عوامۃ: 13241 ترقیم الشثری: -- 13543
١٣٥٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عمارة بن عمير عن عبد الرحمن بن يزيد، قال: خرجنا عمارا حتى إذا كنا بذات (الشقوق) (١) (٢) لدغ صاحب لنا، فاعترضنا الطريق (نسال) (٣) ما (يصنع) (٤) به، فإذا ابن مسعود في ركب، فقلنا لدغ صاحب لنا، فقال: اجعلوا بينكم وبين صاحبكم يوم امارة، (وليرسل) (٥) بالهدي، فإذا نحر الهدي فليحل وعليه العمرة (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ن]: (السقوف).
(٢) في [جـ]: زيادة (و).
(٣) في [أ، ب، جـ، ص، ز]: (يسأل)، وفي [ن]: (ليسأل).
(٤) في [أ، ن]: (يصغي)، وفي [ص]: (نصنع).
(٥) في [ن]: (يرسل).
(٦) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن عبد الرحمن بن يزيد، قال: خرجنا عمارا حتى إذا كنا بذات الشقوق لدغ صاحب لنا , فاعترضنا الطريق لنسال ما يصنع به , فإذا ابن مسعود في ركب , فقلنا: لدغ صاحب لنا, فقال: " اجعلوا بينكم وبين صاحبكم يوم امارة , وليرسل بالهدي , فإذا نحر الهدي فليحل وعليه العمرة"
حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمار کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے نکلے جب ہم ذات الشقوق جگہ پر پہنچے تو ہمارے ایک ساتھی کو سانپ نے ڈس لیا، ہم نے راستہ میں کسی ایسے شخص کو تلاش کرنا شروع کردیا جس سے اس کے متعلق دریافت کریں کہ اب اس کا کیا کریں؟ اچانک ہم نے دیکھا کہ حضرت ابن مسعود بھی قافلے میں ہیں، ہم نے عرض کیا ہمارے ساتھی کو سانپ نے ڈس لیا ہے؟ آپ نے فرمایا اپنے اور اپنے ساتھی کے درمیان کوئی دن خاص کرلو اور اس کی طرف سے قربانی کا جانور بھیجو، جب وہ جانور قربان ہوجائے تو وہ شخص اس دن حلال ہوجائے اس پر اس عمرہ کی قضاء ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13543]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13543، ترقيم محمد عوامة 13241)
ترقیم عوامۃ: 13242 ترقیم الشثری: -- 13544
١٣٥٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ايوب عن ابي العلاء بن الشخير، قال: خرجت (معتمرا) (١) (فلما) (٢) كنت ببعض الطريق (صرعت) (٣) عن راحلتي، فانكسرت رجلي، فارسلت إلى ابن عباس وابن عمر من (يسالهما) (٤) فقالا: إن العمرة ليس لها وقت كوقت الحج، لا تحل حتى (تطوف) (٥) بالبيت، ⦗٥١٦⦘ فاقمت (بالدثينة) (٦) خمسة اشهر او ثمانية اشهر (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (معتمر).
(٢) في [ص]: (فإذا).
(٣) سقط من: [ن].
(٤) في [جـ، ص، ز]: (يسلهما).
(٥) في [أ، ب، ص]: (يطوف).
(٦) في [أ، ن]: (بالرثينة).
(٧) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: ثنا حدثنا ابو بكر، قال: ثنا ابن علية، عن ايوب، عن ابي العلاء بن الشخير، قال: خرجت معتمرا , فلما كنت ببعض الطريق صرعت عن راحلتي فانكسرت رجلي , فارسلت إلى ابن عباس وابن عمر من يسالهما , فقالا:" إن العمرة ليس لها وقت كوقت الحج , لا تحل حتى تطوف بالبيت , فاقمت بالدثينة خمسة اشهر او ثمانية اشهر"
حضرت ابو العلاء بن الشخیر فرماتے ہیں کہ میں عمرہ کے ارادے سے نکلا، میں ابھی راستہ میں ہی تھا کہ میں سواری سے گرپڑا اور میری ٹانگ ٹوٹ گئی، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص کو بھیجا جو ان سے دریافت کرے، ان دونوں حضرات نے فرمایا: عمرہ کے لیے حج کی طرح کوئی وقت مقرر نہیں ہے، اس لیے وہ جب تک طواف نہ کرلے احرام نہ کھولے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں پانچ یا آٹھ ماہ مقام دثنیہ میں ہی رکا رہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13544]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13544، ترقيم محمد عوامة 13242)
ترقیم عوامۃ: 13243 ترقیم الشثری: -- 13545
١٣٥٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الله بن نمير عن حنظلة عن طاوس في المحرم (بعمرة) (١) اعترض له، قال: يبعث بهدي، ثم يحسب كم يسير، ثم يحتاط بايام ثم يحل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: (لعمرة).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا عبد الله بن نمير، عن حنظلة، عن طاوس، في المحرم لعمرة اعترض له , قال:" يبعث بهدي , ثم يحسب كم يسير , ثم يحتاط بايام , ثم يحل"
حضرت طاؤس اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو عمرہ کا احرام باندھے پھر اس کو کوئی عارضہ لاحق ہوجائے تو ھدی بھیج دے اور اندازہ کرے کہ ہدی کتنے دن میں پہنچ جائے گی اتنے دن ٹھہرا رہے اور پھر احرام کھول دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13545]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13545، ترقيم محمد عوامة 13243)