مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
94. في الرجل يشك في الطواف وفي (رمي) الجمار (ما) (يصنع)
کسی شخص کو طواف یا رمی کرتے وقت شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟
ترقیم عوامۃ: 13524 ترقیم الشثری: -- 13839
١٣٨٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن الحارث عن علي قال: إذا طفت بالبيت فلم تدر اتممت ام لم (تتمم) (١) فاتم ما شككت، فإن الله لا يعذب على الزيادة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ص]: (تتم).
(٢) ضعيف؛ لحال الحارث.
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا ابو الاحوص، عن ابي إسحاق، عن الحارث، عن علي ، قال: " إذا طفت بالبيت فلم تدر اتممت ام لم تتمم؟ فاتم ما شككت , فإن الله لا يعذب على الزيادة"
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب طواف کرتے ہوئے شک ہوجائے اور معلوم ہو کہ طواف مکمل ہوا کہ نہیں؟ تو جو شک ہے اس کو پورا کر دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ طواف کرنے پر عذاب نہیں دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13839]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13839، ترقيم محمد عوامة 13524)
ترقیم عوامۃ: 13525 ترقیم الشثری: -- 13840
١٣٨٤٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبدة (بن) (١) سليمان عن عبد الملك (عن عطاء) (٢) قال: إذا شك الرجل في الطواف فلم يدر طاف ام لم (يطف) (٣) فليستقبل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ن].
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [ص]: (يطفه).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا عبدة بن سليمان، عن عبد الملك، عن عطاء، قال: " إذا شك الرجل في الطواف فلم يدر طاف , ام لم يطف فليستقبل"
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کسی شخص کو طواف میں شک پڑجائے کہ اس نے طواف کیا کہ نہیں تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا وہ دوبارہ طواف کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13840]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13840، ترقيم محمد عوامة 13525)
ترقیم عوامۃ: 13526 ترقیم الشثری: -- 13841
١٣٨٤١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن ابي (مجلز) (١) قال: رميت الجمار فلم ادر بكم رميت؟ فسالت ابن عمر، فلم يجبني، فمر بي ابن الحنفية، فسالته، فقال: (يا) (٢) (٣) عبد الله ليس شيء اعظم علينا من الصلاة وإذا نسي احدنا اعاد (فاخبرت) (٤) ابن عمر، فقال: إنهم اهل بيت مفهمون (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: (مجاز).
(٢) تكرار في [جـ].
(٣) في [ص]: زيادة (أبا).
(٤) في [ص]: (فافأخبرت).
(٥) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا وكيع، عن عمران بن حدير، عن ابي مجلز، قال: " رميت الجمار فلم ادر بكم رميت؟ فسالت ابن عمر فلم يجبني , فمر بي ابن الحنفية فسالته , فقال: يا عبد الله ليس شيء اعظم علينا من الصلاة , وإذا نسي احدنا اعاد , فاخبرت ابن عمر , فقال: إنهم اهل بيت مفهمون"
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ میں جمرات کی رمی کے دوران بھول گیا کہ میں نے کتنی رمی کی ہے، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا تو آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، پھر میرے پاس سے حضرت ابن الحنفیہ گذرے تو میں نے ان سے دریافت کیا؟ آپ نے فرمایا کہ اے عبد اللہ! ہمارے نزدیک نماز سے معظم کوئی شیء نہیں ہے جب ہم میں سے کوئی شخص نماز میں بھول جائے تو وہ نماز کا اعادہ کرتا ہے، حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس جواب کی خبر دی تو آپ نے فرمایا: بیشک وہ اہل بیت میں سے ہیں امور صحیح طور پر ان کو سمجھائے گئے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 13841]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13841، ترقيم محمد عوامة 13526)