صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب فِي عِيَادَةِ الْمَرْضَى:
باب: بیماروں کی خبر گیری کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 925 ترقیم شاملہ: -- 2138
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَدْبَرَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَخَا الْأَنْصَارِ، كَيْفَ أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ؟ " فَقَالَ: صَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ؟ " فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ، مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ وَلَا خِفَافٌ وَلَا قَلَانِسُ وَلَا قُمُصٌ، نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتَّى جِئْنَاهُ، فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْلِهِ، حَتَّى دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ.
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا، اس نے آپ کو سلام کہا اور پھر وہ انصاری پشت پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصار کے بھائی (انصاری)! میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے؟“ اس نے عرض کی: ”وہ اچھا ہے۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون اس کی عیادت کرے گا؟“ پھر آپ اٹھے اور آپ کے ساتھ ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے، ہم دس سے زائد لوگ تھے، ہمارے پاس جوتے نہ تھے نہ موزے، نہ ٹوپیاں اور نہ قمیص ہی۔ ہم اس شوریلی زمین پر چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے، ان کی قوم کے لوگ ان کے ارد گرد سے پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو آپ کے ساتھ تھے، (ان کے) قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2138]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انصاری آدمی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا اور پھر پشت پھیر کر چل دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انصاری! میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”بہتر ہے۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کون اس کی عیادت کے لیے جائے گا؟“ پھر آپ کھڑے ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، ہم دس سے زائد افراد تھے، ہمارے پاس جوتے تھے نہ ہی موزے، نہ ٹوپیاں تھیں اور نہ ہی قمیص۔ ہم اس شوریلی زمین پر چل کر ان کے پاس پہنچ گئے، اور ان کی قوم کے لوگ ان کے ارد گرد سے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ جانے والے قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2138]
ترقیم فوادعبدالباقی: 925
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة