صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ:
باب: میت پر رونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 922 ترقیم شاملہ: -- 2134
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: غَرِيبٌ وَفِي أَرْضِ غُرْبَةٍ، لَأَبْكِيَنَّهُ بُكَاءً يُتَحَدَّثُ عَنْهُ، فَكُنْتُ قَدْ تَهَيَّأْتُ لِلْبُكَاءِ عَلَيْهِ، إِذْ أَقَبَلَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الصَّعِيدِ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي، فَاسْتَقْبَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا أَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ " فَكَفَفْتُ عَنِ الْبُكَاءِ، فَلَمْ أَبْكِ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، میں نے (دل میں) کہا: پردیسی، پردیس میں (فوت ہو گیا) میں اس پر ایسا روؤں گی کہ اس کا خوب چرچا ہو گا، چنانچہ میں نے اس پر رونے کی تیاری کر لی کہ اچانک بالائی علاقے سے ایک عورت آئی، وہ (رونے میں) میرا ساتھ دینا چاہتی تھی کہ اسے سامنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم شیطان کو اس گھر میں (دوبارہ) داخل کرنا چاہتی ہو جہاں سے اللہ نے اس کو نکال دیا ہے؟“ دو بار (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے) تو میں رونے سے رک گئی اور نہ روئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2134]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے، تو میں نے دل میں سوچا: ”پردیسی، پردیس میں فوت ہو گیا، میں اس پر اتنا روؤں گی کہ اس کا چرچا ہو گا“، اس لیے میں نے اس پر رونے اور گریہ کرنے کی تیاری کر لی کہ اچانک مدینہ کے بالائی علاقے سے میرا ساتھ دینے اور مجھے مدد دینے کے لیے ایک عورت آئی، اور اسے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ چاہتی ہو کہ جس گھر سے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو نکال دیا ہے اس میں شیطان کو پھر سے داخل کر دو؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو بار فرمائی، تو میں رونے سے رک گئی اور نہ روئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2134]
ترقیم فوادعبدالباقی: 922
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 923 ترقیم شاملہ: -- 2135
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ إِحْدَى بَنَاتِهِ تَدْعُوهُ وَتُخْبِرُهُ، أَنَّ صَبِيًّا لَهَا أَوِ ابْنًا لَهَا فِي الْمَوْتِ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ: ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَأَخْبِرْهَا أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ "، فَعَادَ الرَّسُولُ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمْ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنَّةٍ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ".
حماد بن زید نے عاصم احول سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کی بیٹیوں میں سے ایک نے آپ کو بلاتے ہوئے اور اطلاع دیتے ہوئے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ اس کا بچہ۔۔۔ یا اس کا بیٹا۔۔۔ موت (کے عالم) میں ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیام لانے والے سے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا کر ان کو بتاؤ کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا تھا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے، اور ان کو بتا دو کہ وہ صبر کریں اور اجر و ثواب کی طلب گار ہوں۔“ پیام رساں دوبارہ آیا اور کہا: انہوں نے (آپ کو) قسم دی ہے کہ آپ ان کے پاس ضرور تشریف لائیں۔ کہا: اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، آپ کے سامنے بچے کو پیش کیا گیا جبکہ اس کا سانس اکھڑا ہوا تھا، (جسم اس طرح مضطرب تھا) جیسے اس کی جان پرانے مشکیزے میں ہو تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑیں، اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں ہی پر رحم فرماتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2135]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سے ایک نے آپ کو بلانے کے لیے پیغام بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ ان کا بچہ یا بیٹا قریب المرگ ہے (مر رہا ہے)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بر سے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا کر ان کو بتاؤ کہ «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى» ”اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا ہے، اور ہر چیز کا اس کے ہاں ایک وقت مقرر ہے، اس لیے انہیں کہو کہ وہ صبر کریں اور ثواب کی نیت رکھیں“۔“ پیغام بر دوبارہ آیا اور اس نے کہا: انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دی ہے کہ آپ ان کے پاس ضرور پہنچیں، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد بن عبادہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچہ پیش کیا گیا جس کا سانس اکھڑا ہوا تھا، گویا وہ پرانی مشک میں ہے اور اس سے آواز پیدا ہو رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”یہ رحمت و شفقت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ بھی اپنے انہی بندوں پر رحم فرماتا ہے جو رحم دل اور مہربان ہوتے ہیں“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2135]
ترقیم فوادعبدالباقی: 923
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 923 ترقیم شاملہ: -- 2136
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، جَمِيعًا، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ حَمَّادٍ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ.
ابن فضیل اور ابومعاویہ ہر ایک نے عاصم احول سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کی مانند) حدیث بیان کی، البتہ حماد کی حدیث زیادہ مکمل اور زیادہ لمبی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2136]
اور امام صاحب اپنے بعض دوسرے اساتذہ سے مذکورہ سند سے ہی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں حماد کی مذکورہ روایت کامل اور طویل ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2136]
ترقیم فوادعبدالباقی: 923
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 924 ترقیم شاملہ: -- 2137
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَجَدَهُ فِي غَشِيَّةٍ، فَقَالَ: " أَقَدْ قَضَى "، قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا، فَقَالَ: " أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ، وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ، وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ، أَوْ يَرْحَمُ ".
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اپنی بیماری میں مبتلا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی عیادت کے لیے ان کے پاس تشریف لے گئے۔ جب آپ ان کے ہاں داخل ہوئے تو انہیں غشی کی حالت میں پایا، آپ نے پوچھا: ”کیا انہوں نے اپنی مدت پوری کر لی (وفات پا گئے ہیں)؟“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! نہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے بھی رونا شروع کر دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نہیں سنتے کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے غم پر سزا نہیں دیتا بلکہ اس۔۔۔ آپ نے اپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2137]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ایک دفعہ بیمار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کی معیت میں ان کی عیادت کے لیے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس اندر تشریف لائے تو انہیں سخت تکلیف میں دیکھا، یا انہیں گھر والوں کی بھیڑ میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا ختم ہو چکے ہیں؟“ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نہیں۔ ابھی فوت نہیں ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ان کی کیفیت دیکھ کر) رونے لگے، جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے دیکھا تو وہ بھی رو پڑے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم سن نہیں رہے؟ یعنی اچھی طرح سن لو، اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو اور دل کے رنج و غم پر تو سزا نہیں دیتا، لیکن اس کی (غلط روی پر، یعنی زبان سے نوحہ اور ماتم کرنے پر) سزا بھی دیتا ہے اور اس کے ( «إِنَّا لِلّٰهِ» پڑھنے پر اور دعا واستغفار کرنے پر) رحمت بھی فرماتا ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2137]
ترقیم فوادعبدالباقی: 924
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة