🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

314. من كان يأمر بتعليم المناسك
جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14923 ترقیم الشثری: -- 15335
١٥٣٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن ابي نجيح عن مجاهد ﴿واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى﴾ [البقرة: ١٢٥] ، (قال) (١) : هو الحج كله.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ز]: زيادة (قال).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا ابن عيينة، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد " واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى سورة البقرة آية 125 هو الحج كله"
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی } یہ تمام کا تمام حج ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15335]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15335، ترقيم محمد عوامة 14923)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14924 ترقیم الشثری: -- 15336
١٥٣٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن التيمي عن ابي (مجلز) (١) قال: كان مع ابن عمر فلما طلعت الشمس امر براحلته فرحلت، وارتحل ⦗٤٠٥⦘ من منى (فسار) (٢) ، قال: (فإن) (٣) كان (لاعجبنا) (٤) إليه (اسفهنا) (٥) رجل كان يحدثه عن النساء ويضحكه، قال: فلما صلى العصر وقف بعرفة فجعل يرفع يديه او قال: يمد، قال: ولا ادري لعله قد قال: دون اذنيه -وجعل يقول: الله اكبر ولله الحمد الله اكبر ولله الحمد (الله اكبر ولله الحمد) (٦) لا إله إلا الله وحده له الملك وله الحمد، اللهم اهدني بالهدى (وقني) (٧) بالتقوى واغفر لي في الآخرة والاولى، ثم يرد يديه فيسكت كقدر ما كان إنسان قارئا بفاتحة الكتاب، ثم يعود فيرفع يديه ويقول مثل ذلك، فلم يزل يفعل ذلك حتى افاض، قال: فكان سيره إذا راى سعة العنق، وإذا راى (مضيقا) (٨) امسك، وإذا اتى جبلا من تلك الجبال وقف عند كل جبل منها (كقدر) (٩) ما اقول او يقول القائل (وقفت) (١٠) يداها ولم تقف رجلاها (قال) (١١) ، ثم نزل نزلة بالطريق فانطلق واتبعته فقلت: لعله يفعل شيئا من السنة، فقال: إنما اذهب حيث تعلم فجاء فتوضا على رسله ثم ركب، ولم يصل حتى اتى جمعا فاقام فصلى المغرب ثم (انفتل) (١٢) إلينا فقال: الصلاة جامعة (ولم يتجوز بينهما ⦗٤٠٦⦘ بشيء، قلت: ولم يكن بينهما إقامة إلا قوله: الصلاة جامعة) (١٣) او قال: اذان إلا (ذاك) (١٤) ؟ قال: لا، ثم صلى العشاء ركعتين فصلى خمس ركعات للمغرب والعشاء (ولم) (١٥) يتطوع (او قال) (١٦) الم) (١٧) يتجوز بينهما بشيء، [ثم دعا بطعام فقال: من كان يسمع صوتنا فلياتنا، قال: كانه يرى ان (ذاك كذاك) (١٨) (ينبغي) (١٩) ، (٢٠) ، ثم باتوا ثم صلى بنا الصبح (بسواد) (٢١) و (ليس) (٢٢) في السماء (نجم) (٢٣) اعرفه (إلا) (٢٤) اراه، وقرا بعبس وتولى ولم يقنت قبل الركوع ولا بعده، ثم وقف فذكر من دعائه في هذا الموقف كما فعل في موقفه بالامس، ثم (امضى) (٢٥) سيره إذا راى سعة: العنق وإذا راى مضيقا امسك (٢٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: (حجاز).
(٢) في [أ، ب، ز]: (فصار).
(٣) في [ب، ن]: (فإنه).
(٤) في [ب، ن]: (عجيبًا).
(٥) في [ز]: (سفهنا).
(٦) سقط من: [ب، ن].
(٧) في [جـ، ز]: (وقني)، وفي [أ، ب، ن]: (ووفقني).
(٨) في [ن]: (مضيفًا)، وفي [أ، جـ، ز]: (مضيق).
(٩) في [ب، ن]: (بقدر).
(١٠) سقط من: [ب، ن].
(١١) زيادة في: [جـ].
(١٢) في [ص]: (القتل).
(١٣) سقط من: [أ، ب، ن].
(١٤) في [أ، جـ]. (ذاك)، وفى [ز]: (ذواك).
(١٥) في [أ، جـ، ص، ز]: (لم).
(١٦) في [ص]: (وقال).
(١٧) سقطت من: [ز].
(١٨) في [ز]: (ذاك كذلك)، وفي [جـ]: (ذلك كذلك).
(١٩) في [س]: (سعى).
(٢٠) سقط ما بين المعكوفين من: [ص].
(٢١) في [أ]: (بسوار)، وفي [ن]: (بسور)، وفي [ص]: (براد).
(٢٢) سقط من: [ن].
(٢٣) في [ز]: (نجم).
(٢٤) في [ن]: (لا).
(٢٥) في [ن]: (أفضى)، وفي [أ، جـ، ز]: (أفاض).
(٢٦) صحيح.

0
حضرت ابو مجلز سے مروی ہے کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے، جب سورج طلوع ہوا تو انھوں نے سواری کا حکم فرمایا تو ان کے لیے سواری لائی گئی اور وہ منیٰ سے اس پر سوار ہو کر چل پڑے، راوی فرماتے ہیں کہ پس اگر کوئی بات ہمیں عجیب لگتی تھی تو وہ ہماری نادانی کی وجہ سے تھی، ایک شخص تھا جو ان سے خواتین کے متعلق باتیں کرتا تھا اور ان کو ہنساتا تھا، راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ نے نماز عصر ادا کی تو وقوف عرفہ کیا اور اپنے ہاتھوں کو اٹھایا، یا پھر فرمایا کہ ہاتھوں کو پھیلایا، راوی فرماتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ شاید یوں کہا ہو کہ کانوں سے نیچے تک اٹھایا اور یہ پڑھنے لگے: اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ، اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ، اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، اللَّہُمَّ اہْدِنِی بِالْہُدَی، وَقِنِی بِالتَّقْوَی، وَاغْفِرْ لِی فِی الآخِرَۃِ وَالأُولَی، پھر اپنے ہاتھ نیچے کرلیے اور اتنی دیر خاموش رہے جتنی دیر میں کوئی شخص سورة الفاتحہ پڑھ لیتا ہے پھر لوٹے اور ہاتھوں کو بلند کیا اور پھر وہ دعائیں مانگیں، پھر آپ مسلسل اسی طرح کرتے رہے یہاں تک کہ آپ منیٰ کی طرف لوٹ گئے۔ راوی فرماتے ہیں کہ جب آپ کھلی جگہ دیکھتے تو تیز چلتے اور جب جگہ کی تنگی کو دیکھتے تو رک جاتے، پھر ان پہاڑیوں میں سے کسی پہاڑ پر آتے تو ہر پہاڑ پر اتنی دیر کھڑے ہوتے جتنی دیر میں کوئی شخص یوں کہے: اس کے ہاتھ رک گئے ہیں لیکن اس کی ٹانگیں نہیں رکیں، راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ راستے میں اترے اور پھر چل پڑے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا، میں نے کہا کہ شاید وہ سنت کاموں میں سے کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، انھوں نے فرمایا کہ میں بیشک گیا ہوں اس طور پر کہ تمہیں تعلیم دوں، پھر آپ آئے اور آہستہ اور توقف کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ سواری پر سوار ہوگئے اور مزدلفہ آنے تک نماز نہیں پڑھی، پھر وہاں پر آپ نے مغرب کی نماز ادا کی اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: الصلاۃ جامعۃ کہ نماز مشترکہ ہے اس کے درمیان کسی چیز سے تجاوز نہ کیا جائے (نفل نہ پڑھے جائیں)۔ C میں نے عرض کیا کہ ان کے درمیان (دو نمازوں کے) اقامت نہ ہو سوائے اس قول کے کہ الصلاۃ جامعۃ؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر عشاء کی دو رکعتیں ادا فرمائیں، پھر آپ نے مغرب اور عشاء کے لیے پانچ رکعتیں ادا کیں اور ان کے درمیان نفل ادا نہیں کیے، پھر کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ جو ہماری آواز سن رہا ہے پس وہ ہمارے پاس آجائے، راوی فرماتے ہیں کہ گویا کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اسی طرح کرنا مناسب ہے، پھر وہاں پر آپ نے رات گزاری، پھر آپ نے ہمیں فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھائی کہ آسمان پر کوئی ستارہ موجود نہ تھا جس کو دیکھا جاتا، اور سورة عبس وتولٰی تلاوت فرمائی اور قنوت نہیں پڑھی نہ رکوع سے پہلے نہ بعد میں، پھر ٹھہرے رہے اور اس جگہ کی دعائیں ذکر فرمائیں جیسا کہ گذشتہ دن عرفات میں ذکر کیں تھیں، پھر آپ چل پڑے، آپ اس طرح چل رہے تھے کہ اگر وسعت دکھیتے تو تیز چلتے اور جب تنگی دیکھتے تو ٹھہر جاتے۔ E راوی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی کہ بیشک وہ وادی جو منیٰ کے سامنے ہے جس کو وادی محسّر کہا جاتا ہے وہاں پر اترا جائے گا۔ F پھر جب اس پر آئے تو اپنے پاؤں سے سواری کو ایڑی لگائی تو میں سمجھ گیا کہ وہ تیز چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں انھوں نے سواری کو تھکا دیا، تو میں نے اپنی سواری کو تیز دوڑایا۔ پھر انھوں نے جمرہ کی رمی فرمائی پھر اگلے دن بھی جمرہ کی رمی کی، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ مجھ سے کہا زوال سے عصر تک (رمی کرو) پھر آگے ہوئے یہاں تک کہ وہ جمرہ اولیٰ اور دوسرے جمرہ کے درمیان ہوگئے، پھر دعاؤں کا ذکر کیا جس طرح (پیچھے) دو جگہوں پر (موقفین میں) ذکر کیا تھا، مگر اس دعا میں ان الفاظ کا بھی اضافہ کیا کہ وأصلح لی یا واتمم لنا مناسکنا، راوی کہتے ہیں کہ اس جگہ اتنی دیر ٹھہرے جتنی دیر میں کوئی شخص سور v ہ یوسف کی تلاوت کرلے پھر درمیانے جمرہ کی رمی کی پھر اسی طرح دعاؤں کا ذکر کیا اور اسی طرح اتنی دیر قیام کیا۔ G راوی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم یا حضرت نافع سے دریافت کیا کہ وہ خاموشی میں بھی کچھ پڑھا کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ سنت میں تو کچھ نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15336]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15336، ترقيم محمد عوامة 14924)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 15337
١٥٣٣٧ - قال: وكان ابن عباس اخبرني ان الوادي الذي بين يديه منى الذي يدعى محسرا يوضع، فلما اتى عليه ركض برجله فعرفت انه اراد ان ⦗٤٠٧⦘ (يوضع) (١) فاعيته راحلته (فاوضعته) (٢) (فرمى) (٣) الجمرة فلما كان الغد رمى الجمرة قال: احسبه قال لي: (بهاجرة) (٤) (٥) ، ثم تقدم حتى كان بينهما وبين الوسطى فذكر من دعائه (مثل دعائه) (٦) في الموقفين إلا انه زاد: واصلح لي او قال: (واتمم) (٧) لنا مناسكنا قال: وكان قيامه كقدر ما كان إنسان فيما (يرى) (٨) قارئا سورة يوسف، (ثم) (٩) رمى الجمرة الوسطى، ثم تقدم فذكر من دعائه نحو ذلك (و) (١٠) من قيامه (نحو ذلك) (١١) (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (يوضع).
(٢) في [أ، ز، ن]: (فأوضعه).
(٣) في [ز]: (قومي).
(٤) في [ن]: (لها حرة).
(٥) سقط من: [أ، ب، ز].
(٦) في [أ، ن]: (نحو ذلك).
(٧) في [جـ]: (وأتم).
(٨) في [ز]: (نرى).
(٩) سقط من: [ز].
(١٠) سقط من: [أ، ب، ز].
(١١) زيادة في: [جـ، ص، ز].
(١٢) صحيح.

0
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15337، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 15338
١٥٣٣٨ - قال: فقلت لسالم او نافع: هل كان يقول في سكوته شيئا؟ قال: اما من السنة فلا.
0
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15338، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14925 ترقیم الشثری: -- 15339
١٥٣٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن ابيه قال: دخلنا على جابر بن عبد الله (فسال عن القوم؟) (١) حتى انتهى إلي فقلت: انا محمد ⦗٤٠٨⦘ ابن علي بن حسين، فاهوى بيده إلى راسي فنزع (زري) (٢) الاعلى، ثم نزع (زري) (٣) الاسفل، ثم وضع (كفه) (٤) بين (ثديي) (٥) وانا يومئذ غلام شاب فقال: مرحبا بك يا ابن اخي سل عم شئت، فسالته وهو اعمى وجاء وقت الصلاة، (فقام في نساجة) (٦) ملتحفا بها، كلما وضعها على منكبه رجع طرفاها إليه من صغرها، ورداؤه إلى جنبه على المشجب، فصلى بنا فقلت: اخبرني عن حجة رسول الله ﷺ. فقال (بيده) (٧) فعقد تسعا (فقال) (٨) : إن رسول الله ﷺ مكث تسع سنين (لا) (٩) يحج ثم اذن في الناس (بالحج) (١٠) في العاشرة: ان رسول الله ﷺ حاج، فقدم المدينة بشر كثير كلهم يلتمس ان ياتم برسول الله ﷺ ويعمل مثل عمله، فخرجنا معه حتى اتينا ذا الحليفة، فولدت اسماء بنت عميس محمد بن ابي بكر، فارسلت إلى رسول الله ﷺ (في المسجد) (١١) كيف اصنع؟ (قال) (١٢) : اغتسلي واستذفري بثوب واحرمي. فصلى رسول الله ﷺ (١٣) في ⦗٤٠٩⦘ المسجد (فركب) (١٤) (القصواء) (١٥) حتى إذا استوت به (راحلته) (١٦) على البيداء نظرت إلى مدى بصري من بين يديه من راكب وماش، وعن يمينه مثل ذلك (وعن يساره مثل ذلك، ومن خلفه مثل ذلك) (١٧) ورسول الله ﷺ (بين اظهرنا) (١٨) وعليه ينزل القرآن وهو يعرف تاويله (وما) (١٩) عمل به من شيء عملنا به، فاهل بالتوحيد:"لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك" واهل الناس بهذا الذي يهلون به، (فلم يرد عليهم رسول الله ﷺ) (٢٠) شيئا (منه) (٢١) ولزم رسول الله ﷺ تلبيته، وقال جابر: [لسنا (ننوي) (٢٢) إلا الحج] (٢٣) ، لسنا نعرف العمرة حتى إذا اتينا البيت معه استلم الركن (فرمل) (٢٤) ثلاثا ومشى اربعا، ثم (نفذ) (٢٥) إلى مقام إبراهيم فقرا: ﴿واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى﴾ [البقرة: ١٢٥] ، فجعل المقام بينه وبين البيت (٢٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ن]: (فقال من القوم).
(٢) في [ص]: (زريبي).
(٣) في [ص]: (زريبي).
(٤) في [أ، جـ، ص، ز، ن]: (كنيه).
(٥) في [ص، ز]: (ثرى).
(٦) في [ن]: (فقال في الساحة)، وفي [أ]: (فقام في الساحة).
(٧) في [أ، ز]: (هذه).
(٨) في [جـ]: (قال).
(٩) في [جـ، ص]: (لم).
(١٠) سقط من: [جـ، ص، ز].
(١١) زيادة في: [جـ، ص، ز].
(١٢) في [جـ، ص]: (فقال).
(١٣) سقط من: [ز].
(١٤) في [ب، ف]: (ثم ركب).
(١٥) في [أ، جـ، ص، ز]: (القصوى).
(١٦) في [ف]: (ناقته).
(١٧) سقط من: [أ، ن].
(١٨) في [ز]: (عن أظهرنا).
(١٩) في [جـ، ص]: (فما).
(٢٠) في [جـ، ص، ز]: (فلم يرد رسول اللَّه ﷺ عليهم).
(٢١) سقط من: [أ، ن].
(٢٢) في [ز]: (ننولى).
(٢٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ص].
(٢٤) في [أ، جـ]: (فرما).
(٢٥) في [ب، ن]: (تقدم).
(٢٦) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٢١٨)، وأحمد (١٤٤٤٠).

0
حضرت جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، آپ نے لوگوں سے سوال کرنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس پہنچ گئے، میں نے عرض کیا کہ میں محمد بن علی رضی اللہ عنہ بن حسین ہوں، آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا، پھر میرا اوپر والا بٹن کھولا اور پھر اس کے نیچے والا بٹن کھولا اور اپنا ہاتھ مبارک میرے سینہ پر رکھا میں اس وقت نوجوان تھا، فرمایا اے میرے بھتیجے آپ کو خوش آمدید، پوچھ جو پوچھنا چاہتا ہے؟ میں نے ان سے دریافت کیا اس حال میں کہ وہ نابینا تھے، (اتنے میں) نماز کا وقت ہوگیا تو وہ بےسلہ ہوا کپڑا اوڑھ کر کھڑے ہوگئے، جب بھی اس کو کندھے پر ڈالتے تو وہ چھوٹا ہونے کی وجہ سے اس کے کونے واپس ان کی طرف آتے، اور ان کی چادر ہینگر پر لٹکی ہوئی تھی، پھر انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی، (نماز کے بعد) میں نے عرض کیا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیں؟ آپ نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے نو کا عدد بنایا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو سال تک بغیر حج کیے مدینہ منورہ میں رہے، پھر دس ہجری کو لوگوں میں اعلان کردیا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں، (یہ سن کر) بہت سارے لوگ مدینہ منورہ آنا شروع ہوگئے ہر کوئی یہ چاہتا تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کا سفر کرے اور آپ کے عمل کی طرح عمل کرے، پھر ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، انھوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مسجد میں پیغام بھیجا کہ میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: غسل کرلو اور (شرم گاہ) پر کپڑا باندھ لو اور پھر احرام باندھ لو۔ C آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھائی اور پھر قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہوگئے، پھر جب آپ کی اونٹنی مقام بیدا پر پہنچی تو میں نے اپنے آگے دیکھا لوگوں کو جن میں کچھ سوار اور کچھ پیدل ہیں، اور داہنی طرف بھی اسی طرح اور بائیں طرف بھی اسی طرح اور پیچھے بھی اسی طرح اس حال میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان تھے اور آپ پر قرآن نازل ہو رہا تھا اور وہ اس کی تفسیر جانتے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی عمل نہیں کیا مگر ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ عمل کیا، پھر توحید کا تلبیہ پڑھا (جس کے الفاظ یہ ہیں)، لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لاَ شَرِیکَ لَکَ لوگوں نے بھی انہی الفاظ کے ساتھ تلبیہ پڑھا پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر کسی بات کو رد نہ فرمایا اس میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ کو لازم فرمایا۔ جابر ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں نے صرف حج کی نیت کی ہوئی تھی ہمیں عمرے کے بارے میں معلوم نہ تھا، یہاں تک کہ جب ہم لوگ بیت اللہ آئے رکن کا استلام کیا اور طواف کیا جس میں تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکر چل کر پورے کیے پھر مقام ابراہیم کے بارے میں حکم نافذ کیا اور قرآن پاک کی آیت { وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھٖمَ مُصَلًّی } تلاوت فرمائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ابراھیم کو اپنے اور بیت اللہ درمیان رکھا، میرے والد فرماتے تھے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس کا ذکر کیا ہو مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلاوت فرمائی دو رکعتوں میں { قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، قُلْ ٰٓیاََیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ } پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکن کی طرف لوٹے اور اس کا استلام فرمایا: پھر دروازے سے صفا کی طرف نکلے پھر جب آپ صفا کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے { اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ } تلاوت فرمائی (اور فرمایا کہ) میں اس سے ابتداء کروں گا جس سے اللہ تعالیٰ نے ابتداء کی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا سے ابتداء کی اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھا (جو نظر آ رہا تھا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف رخ کیا اور ان الفاظ میں اللہ کی توحید اور بڑائی بیان کی، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ، أَنْجَزَ وَعدَہُ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ، وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ پھر اس کے درمیان دعا فرمائی پھر اسی طرح (یہی دعا) تین بار مانگی۔ E پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مروہ کی طرف اترے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ ع [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15339]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15339، ترقيم محمد عوامة 14925)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 15340
١٥٣٤٠ - فكان ابي يقول: ولا اعلمه ذكره إلا عن النبي ﷺ كان يقرا في الركعتين: ﴿قل هو الله احد﴾ و ﴿قل ياايها الكافرون﴾ (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل، قال الخطيب في الفصل للوصل المدرج (٢/ ٦١٧)، (كان يحيى بن سعيد يدرج في روايته أيضًا أحرفًا ويجعلها مرفوعة وهي أن النبي ﷺ صلى عند مقام إبراهيم ركعتين وقرأ فيهما بـ ﴿قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ و ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾، وذكر قراءة هاتين السورتين خاصة في هذا الحديث ليس بمرفوع وإنما هو حكاية جعفر بن محمد عن أبيه كما بينه أويس عن جعفر، وكذلك رواه وهيب وابن جربج عن جعفر عن أبيه وقالا: لم يذكر ذلك في حديث جابر).
0
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15340، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 15341
١٥٣٤١ - ثم رجع إلى الركن فاستلمه ثم خرج من الباب إلى الصفا، فلما دنا من الصفا قرا: ﴿إن الصفا والمروة من شعائر الله﴾ [البقرة: ١٥٨] ، (ابدا بما بدا الله به) (١) فبدا بالصفا فرقى عليه حتى راى البيت، فاستقبل البيت ووحد الله وكبره وقال:"لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله وحده، (انجز وعده و) (٢) نصر عبده، وهزم الاحزاب وحده"، ثم دعا بين ذلك، (ثم) (٣) (قال (مثل) (٤) ذلك) (٥) ثلاث مرات، ثم نزل إلى المروة حتى (إذا) (٦) انصبت قدماه إلى بطن الوادي (سعى) (٧) ، حتى إذا صعدنا مشى، حتى اتى المروة ففعل على المروة كما فعل على الصفا، حتى إذا كان آخر (طواف) (٨) ⦗٤١١⦘ (على) (٩) المروة قال:"إني لو استقبلت (من) (١٠) امري ما استدبرت لم اسق الهدي وجعلتها عمرة فمن كان منكم ليس معه هدي فليحل وليجعلها عمرة"، فقام سراقة ا (بن مالك) (١١) بن جعشم فقال: يا رسول الله لعامنا هذا (ام للابد) (١٢) فشبك رسول الله ﷺ اصابعه واحدة في الاخرى وقال:"دخلت العمرة في الحج..." مرتين"لا بل لابد ابد". وقدم علي من اليمن ببدن النبي ﷺ فوجد فاطمة ممن حل ولبست (ثيابا صبيغا (١٣) واكتحلت، فانكر ذلك عليها فقالت: ابي امرني بهذا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ص].
(٢) في [جـ، ص]: (أنجز وعده)، وفي [ز]: (نجز وعده).
(٣) في [أ، ن، ز]: (ثم).
(٤) في [أ، ز]: (بين).
(٥) سقط من: [جـ، ص].
(٦) سقط من: [أ، جـ، ص، ز، ن].
(٧) سقط من: [أ، جـ، ص، ز، ن].
(٨) في [ب، ف]: (طوافه) وفي مسلم (طواف).
(٩) في [جـ]: (عمل).
(١٠) في [ن، ز]: (عن).
(١١) سقط من: [أ، جـ، ص، ز، ن].
(١٢) في [جـ]: (أم لأبد)، وفي [أ، ن]: (أولا بدٍ أبدٍ).
(١٣) في [أ، ز]: (ثياب صبغًا)، وفي [جـ، ص]: (ثيابًا صبغًا).

0
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15341، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 15342
١٥٣٤٢ - قال: فكان علي يقول بالعراق: فذهبت إلى رسول الله ﷺ محرشا على فاطمة للذي صنعت مستفتيا لرسول الله فيما ذكرت عنه، قال: (فاخبرته) (١) (٢) اني انكرت ذلك عليها فقال:"صدقت صدقت"، قال:"ما قلت حين فرضت الحج؟" قال: قلت: اللهم إني اهل بما اهل به رسولك، قال:"فإن معي الهدي فلا تحل" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: (أخبرته).
(٢) في [أ، ن]: زيادة (عن).
(٣) منقطع، قال الخطيب في الفصل للوصل المدرج ٢/ ٦٧١، بعد أن ذكر حديث الباب: (وفيه كلمات لم يسمعها محمد بن علي من جابر فأدرجت في الحديث وهي قول علي: فذهبت محرشًا على فاطمة بالذي صنعت مستفتيًا لرسول اللَّه ﷺ فقال: صدقت، وكان محمد بن علي يرسل هذه الكلمات عن علي ويقول: لم يذكرها جابر بن عبد اللَّه في حديثه؛ بين ذلك وهيب بن خالد وعبد الملك بن جريج ويحيى بن سعيد القطان في روايتهم هذا الحديث عن جعفر بن محمد بن علي)، ثم ساق من أسانيد حديث الباب ما يؤيد قوله هذا؛ وهو يخالف ما في عون المعبود ٥/ ٢٥٩.

0
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15342، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 15343
١٥٣٤٣ - قال: (فكان) (١) جماعة الهدي الذي قدم به علي من اليمن (والذي) (٢) اتى به النبي ﷺ مائة، قال: فحل الناس كلهم وقصروا إلا النبي ﷺ ومن كان معه هدي، فلما كان يوم التروية توجهوا إلى منى فاهلوا بالجج، وركب رسول الله ﷺ فصلى بها الظهر والعصر والمغرب والعشاء والصبح، ثم مكث قليلا حتى طلعت الشمس وامر بقبة من شعر (فضربت) (٣) له بنمرة، فسار رسول الله ﷺ ولا (تشك) (٤) قريش إلا انه (واقف) (٥) عند المشعر الحرام كما كانت قريش تصنع في الجاهلية، فاجاز رسول الله ﷺ (حتى) (٦) اتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة، فنزل بها حتى إذا زاغت الشمس امر (بالقصواء) (٧) فرحلت له، فاتى بطن الوادي فخطب الناس (فقال) (٨) :"إن دماءكم (واموالكم) (٩) حرام عليكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا، الا كل شيء من امر الجاهلية تحت قدمي موضوع، ودماء الجاهلية موضوعة، وإن اول دم اضع من دمائنا دم (ابن) (١٠) ربيعة ابن الحارث كان مسترضعا في بني سعد فقتلته هذيل، وربا اهل الجاهلية موضوع، واول ربا اضع (ربانا) (١١) ربا عباس بن عبد المطلب فإنه كله موضوع، فاتقوا الله في ⦗٤١٣⦘ النساء، فإنكم اخذتموهن (بامر) (١٢) الله واستحللتم فروجهن بكلمة الله، ولكم عليهن إلا يوطئن فرشكم احدا تكرهونه، فإن فعلن ذلك فاضربوهن ضربا غير مبرح ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف، وقد تركت فيكم ما لن تضلوا بعده إن اعتصمتم به كتاب الله، وانتم تسالون عني فما انتم قائلون؟" قالوا: نشهد ان قد بلغت واديت ونصحت وقال بإصبعه السبابة (يرفعها إلى السماء) (١٣) وينكتها إلى الناس:" (اللهم اشهد) (١٤) ، اللهم اشهد" ثلاث مرات، ثم اذن (ثم) (١٥) (اقام فصلى الظهر ثم اقام فصلى العصر) (١٦) (١٧) ولم يصل بينهما شيئا، ثم ركب رسول الله ﷺ حتى اتى الوقف، فجعل بطن ناقته القصواء إلى الصخرات وجعل (حبل) (١٨) المشاة بين يديه، واستقبل القبلة فلم يزل واقفا حتى (غربت) (١٩) الشمس وذهبت الصفرة قليلا حتى غاب القرص، واردف اسامة خلفه، (ودفع) (٢٠) رسول الله ﷺ وقد (شنق) (٢١) للقصواء الزمام حتى إن راسها ليصيب مورك (رحله) (٢٢) ، ويقول بيده ⦗٤١٤⦘ اليمنى:"ايها الناس السكينة (السكينة) (٢٣) " كلما اتى جبلا من الجبال ارخى لها قليلا حتى (تصعده) (٢٤) حتى اتى المزدلفة فصلى بها المغرب والعشاء باذان واحد وإقامتين ولم يسبح بينهما شيئا، ثم اضطجع رسول الله ﷺ حتى طلع الفجر، (فصلى) (٢٥) حين تبين له الصبح باذان وإقامة، ثم ركب القصواء حتى اتى المشعر الحرام فاستقبل القبلة فدعاه وكبره وهلله ووحده (فلم) (٢٦) يزل واقفا حتى اسفر جدا، فدفع قبل ان تطلع الشمس، واردف الفضل بن عباس وكان (رجلا) (٢٧) حسن الشعر ابيض وسيما، فلما دفع رسول الله ﷺ مرت ظعن يجرين، فطفق الفضل ينظر إليهن، فوضع رسول الله ﷺ يده على وجهه، فحول الفضل وجهه إلى الشق الآخر ينظر، فحول رسول الله ﷺ يده من الشق الآخر على وجه الفضل، (فصرف) (٢٨) وجهه من الشق الآخر ينظر حتى اتى (محسرا) (٢٩) (فحرك) (٣٠) قليلا، ثم سلك الطريق الوسطى التي تخرج إلى الجمرة الكبرى، حتى اتى الجمرة التي عند الشجرة فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها مثل حصى الخذف، رمى (من) (٣١) بطن الوادي، ثم انصرف (إلى) (٣٢) المنحر، فنحر ثلاثا وستين بيده، ثم اعطى عليا فنحر ما غبر (منها) (٣٣) ، واشركه في هديه ⦗٤١٥⦘ وامر (من) (٣٤) كل بدنة ببضعة فجعلت في قدر فطبخت، فاكلا من لحمها وشربا من مرقها، ثم ركب رسول الله ﷺ فافاض إلى البيت فصلى بمكة الظهر، فاتى بني عبد المطلب يسقون على زمزم فقال:"انزعوا بني عبد المطلب، فلولا ان تغلبكم الناس على سقايتكم لنزعت معكم"، فناولوه دلوا فشرب منه (٣٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (وكان).
(٢) في [أ، ن]: (الذي).
(٣) في [أ، جـ، ص]: (فضربت)، وفي [ن]: (تضرب) وهو الموافق لما في صحيح مسلم.
(٤) في [ص]: (يشك).
(٥) في [أ]: (وافق).
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [أ، جـ، ص]: (بالقصوى).
(٨) في [أ، جـ، ز]: (وقال).
(٩) سقط من: [ز].
(١٠) سقط من: [أ، جـ، ص، ن].
(١١) سقط من: [أ، ب، ص، ن].
(١٢) في [ف]: (بأمان).
(١٣) في [جـ، ص]: (إلى السماء يرفعها).
(١٤) سقط ما بين المعكوفين من: [ب].
(١٥) سقط من: [ن].
(١٦) في [أ]: (أقام الظهر فصلى العصر)، وفي [ن]: (أقام الظهر والعصر)، وفي [ز]: (أقام الظهر ثم أقام فصلّى العصر).
(١٧) في [أ]: (يقل).
(١٨) في [أ]: (جبل).
(١٩) في [أ، ز]: (كربت).
(٢٠) في [أ، ن]: (ورجع).
(٢١) في [أ]: (شنف).
(٢٢) في [أ]: (رجله).
(٢٣) في [أ، ف، ن]: سقطت (السكينة).
(٢٤) في [ص، ز]: (تصعد).
(٢٥) سقط من: [أ، ن]، وفي [ف]: (وصلى).
(٢٦) في [ز]: (ولم).
(٢٧) في [أ، ز]: (رجل).
(٢٨) في [أ، ف]: (يصرف).
(٢٩) في [أ، جـ، ز، ن]: (بطن)، وفي [ف]: (بطن محسر).
(٣٠) في [ن]: (فرك).
(٣١) سقط في: [ن].
(٣٢) سقط في: [ن، ف].
(٣٣) في [أ، ن]: (عنها).
(٣٤) في [ب، ف، ن]: (عن).
(٣٥) صحيح؛ وأخرجه مسلم (١٢١٨).

0
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15343، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 14926 ترقیم الشثری: -- 15344
١٥٣٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو (الاحوص) (١) عن ابي إسحاق عن مسروق (قال) (٢) : امرتم في الكتاب بإقامة اربع: بإقامة الصلاة، وإيتاء الزكاة، و (إقام) (٣) الحج والعمرة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ن]: (الأحوض).
(٢) في [أ]: (قالا).
(٣) في [ب، ف، ن]: (إقامة).

حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا ابو الاحوص، عن ابي إسحاق، عن مسروق، قال: " امرتم في الكتاب بإقامة اربع: بإقامة الصلاة , وإيتاء الزكاة , وإقامة الحج , والعمرة"
حضرت مسروق سے مروی ہے کہ کتاب اللہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیا گیا ہے، نماز قائم کرنے کا، زکوٰۃ ادا کرنے کا، حج ادا کرنے کا اور عمرہ کرنے کا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 15344]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15344، ترقيم محمد عوامة 14926)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں