صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ مِنَ الْمَيِّتِ لِلصَّلاَةِ عَلَيْهِ:
باب: نماز جنازہ کے لئے امام کس جگہ کھڑا ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 964 ترقیم شاملہ: -- 2235
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّى عَلَى أُمِّ كَعْبٍ، مَاتَتْ وَهِيَ نُفَسَاءُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهَا وَسَطَهَا "،
عبدالوارث بن سعید نے حسین بن ذکوان سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام کعب رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی جو حالت نفاس میں وفات پا گئیں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے اس کے (سامنے) درمیان میں کھڑے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2235]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ِجنازہ پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نماز جنازہ پڑھائی جو نفاس کی حالت میں فوت ہو گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ کے لئے اس کے سامنے درمیان میں کھڑے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2235]
ترقیم فوادعبدالباقی: 964
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 964 ترقیم شاملہ: -- 2236
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى كلهم، عَنْ حُسَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرُوا أُمَّ كَعْبٍ.
ابن مبارک، یزید بن ہارون اور فضل بن موسیٰ سب نے حسین سے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ روایت بیان کی اور انہوں نے ام کعب رضی اللہ عنہا (کا نام) ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2236]
مصنف نے اپنے دوسرے اساتذہ سے بھی اسی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ لیکن انہوں نے ام کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2236]
ترقیم فوادعبدالباقی: 964
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 964 ترقیم شاملہ: -- 2237
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ : لَقَدْ كُنْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا، فَكُنْتُ أَحْفَظُ عَنْهُ، فَمَا يَمْنَعُنِي مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا أَنَّ هَا هُنَا رِجَالًا هُمْ أَسَنُّ مِنِّي، وَقَدْ " صَلَّيْتُ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ وَسَطَهَا "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: " فَقَامَ عَلَيْهَا لِلصَّلَاةِ وَسَطَهَا ".
محمد بن مثنیٰ اور عقبہ بن مکرم عمی نے کہا: ہمیں ابن ابی عدی نے حسین (بن ذکوان) سے حدیث بیان کی اور انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نوعمر لڑکا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (احادیث سن کر) یاد کیا کرتا تھا اور مجھے بات کرنے سے اس کے سوا کوئی چیز نہ روکتی کہ یہاں بہت لوگ ہیں جو عمر میں مجھ سے بڑے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک عورت کی نماز جنازہ ادا کی جو حالت نفاس میں وفات پا گئیں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اس کے (سامنے) درمیان میں کھڑے ہوئے تھے۔ ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے (حسین نے) کہا: مجھے عبداللہ بن بریدہ نے حدیث سنائی اور کہا: آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے اس کے (سامنے) درمیان میں کھڑے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2237]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں نوخیز تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو یاد کرتا تھا اور اب مجھے بات کرنے سے صرف یہی چیز روک رہی ہے یہاں پر بہت سے لوگ عمر میں مجھ سےبڑے (عمر رسیدہ) موجود ہیں، میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک عورت کی نماز جنازہ ادا کی جو حالت نفاس میں فوت ہوئی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ میں، اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے۔ عبداللہ بن بریدہ کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ اس کی نماز کے لیے اس کے درمیان کھڑے ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2237]
ترقیم فوادعبدالباقی: 964
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة