مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
444. في الأعجمي يحج ولا يسمي شيئا
عجمی شخص حج کرے اور کسی چیز کا نام نہ لے(یعنی حج و عمرہ میں سے کسی کی تعیین نہ کرے)
ترقیم عوامۃ: 15724 ترقیم الشثری: -- 16189
١٦١٨٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن إبراهيم (بن) (١) نافع (٢) ان امراة اعجمية قدمت فقضت المناسك كلها، غير انها لم تهل (لشيء) (٣) ، فقال عطاء: لا يجزئها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (عن)، وفي [جـ، ز]: (بن).
(٢) في [هـ]: زيادة (عن).
(٣) في [أ، ب، جـ، ز، ط]: (بشيء)، وفي [هـ]: (لشيء).
حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن إبراهيم، بن نافع: ان امراة اعجمية قدمت فقضت المناسك كلها , غير انها لم تهل بشيء , فقال عطاء:" لا يجزئها"
حضرت ابراہیم بن نافع سے مروی ہے کہ ایک عجمی خاتون حج کے لیے آئی اور اس نے تمام مناسک حج ادا کیے لیکن اس نے حج وعمرہ میں سے کسی کی تعیین نہ کی تھی۔ حضرت عطاء نے فرمایا اس کے لیے کافی نہیں ہے، اور حضرت طاؤس نے فرمایا کہ اس کے لیے یہ حج کافی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آسانی پیدا کرو مشکل میں مت ڈالو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 16189]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16189، ترقيم محمد عوامة 15724)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 16190
١٦١٩٠ - وقال طاوس: يجزئها، قال رسول الله ﷺ:"يسروا ولا تعسروا" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) الحديث مرسل؛ طاوس تابعي، وقد ورد من حديث ليث عن طاووس عن ابن عباس مرفوعًا، أخرجه أحمد (٢١٣٦)، والبخاري في الأدب المفرد (٢٤٥)، والطيالسي (٢٠٦٨)، والطبراني (١٠٩٥١)، وسيأتي ٩/ ٦٠.
وقال طاوس: يجزئها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يسروا ولا تعسروا"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16190، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 15725 ترقیم الشثری: -- 16191
١٦١٩١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا محمد بن ابي عدي عن حميد عن بكر ان رجلا اعجميا حج فلم يسم حجا ولا عمرة، وقال: انا مع الناس، فقال: إني لارجو ان يكون قد دخل في احسن ما عملوا.
حدثنا ابو بكر، قال: نا محمد بن ابي عدي، عن حميد، عن بكر، ان رجلا اعجميا حج فلم يسم حجا ولا عمرة , وقال:" انا مع الناس" , فقال: إني لارجو ان يكون قد دخل في احسن ما عملوا"
حضرت بکر سے مروی ہے کہ ایک عجمی شخص نے حج کیا، لیکن اس نے حج یا عمرہ کا نام نہیں لیا تھا، اور کہا میں لوگوں کے ساتھ تھا، راوی فرماتے ہیں کہ بیشک میں امید رکھتا ہوں کہ جن لوگوں نے اچھا کیا ان میں وہ بھی داخل ہوا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الحج/حدیث: 16191]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16191، ترقيم محمد عوامة 15725)