مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
11. المرأة يأبى وليها أن يزوجها
اگر کسی عورت کا ولی اس کا نکاح کرانے سے انکار کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 16258 ترقیم الشثری: -- 16763
١٦٧٦٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن إدريس عن شعبة عن زياد بن علاقة قال: خطب رجل سيدة من بني ليث ثيبا، فابى ابوها ان يزوجها، فكتبت إلى عثمان، ⦗١٨٤⦘ فكتب عثمان: إن كان كفؤا فقولوا لابيها: ان يزوجها فإن ابى ابوها فزوجوها. (١)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ زياد بن علاقة لم يسمع عن عثمان.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن إدريس، عن شعبة، عن زياد بن علاقة، قال: خطب رجل سيدة من بني ليث ثيبا , فابى ابوها ان يزوجها , فكتبت إلى عثمان , فكتب عثمان : " إن كان كفؤا فقولوا لابيها: ان يزوجها، فإن ابى ابوها فزوجوها"
حضرت زیاد بن علاقہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے بنو لیث کی ایک ثیبہ عورت کو نکاح کا پیغام بھجوایا۔ اس کے باپ نے اس کی شادی کرانے سے انکار کردیا۔ اس عورت نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر حکم دیا کہ اگر وہ آدمی اس عورت کا کفو ہے تو اس کے باپ سے کہو کہ اس کی شادی کرادے۔ اگر وہ شادی نہ کرائے تو پھر بھی اس کی شادی کرادو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16763]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16763، ترقيم محمد عوامة 16258)
ترقیم عوامۃ: 16259 ترقیم الشثری: -- 16764
١٦٧٦٤ - حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن قال: إذا اختلف الولي والمراة نظر السلطان، فإن كان الولي مضارا زوجها وإلا رد (امرها) (١) إلى وليها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
حدثنا سهل بن يوسف، عن عمرو، عن الحسن، قال: " إذا اختلف الولي والمراة نظر السلطان , فإن كان الولي مضارا زوجها وإلا رد امرها إلى وليها"
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر ولی اور سلطان کا اختلاف ہوگیا تو سلطان دیکھے گا اگر ولی عورت کو نقصان پہنچا رہا ہے تو اس عورت کی بات معتبر ہوگی اور اگر ایسا نہ ہو تو معاملہ ولی کے سپرد ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16764]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16764، ترقيم محمد عوامة 16259)
ترقیم عوامۃ: 16260 ترقیم الشثری: -- 16765
١٦٧٦٥ - حدثنا عيسى بن يونس عن سليمان التيمي عن ابي جعفر الاشجعي ان امراة اتت شريحا معها امها وعمها، فارادت الام رجلا واراد العم رجلا، فخيرها شريح، فاختارت (الذي اختارت) (١) امها فقال شريح للعم: تاذن؟ قال: لا والله، لا آذن قال: اتاذن قبل ان لا يكون لك إذن؟ قال: لا والله، لا آذن، قال شريح: اذهبي، (فانكحي) (٢) ابنتك من شئت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز، ك].
(٢) في [جـ، ز، ك]: (فأنكحي).
حدثنا عيسى بن يونس، عن سليمان التيمي، عن ابي جعفر الاشجعي:" ان امراة اتت شريحا معها امها وعمها , فارادت الام رجلا واراد العم رجلا , فخيرها شريح , فاختارت الذي اختارت امها، فقال شريح للعم: تاذن؟ قال: لا والله لا آذن، قال: اتاذن قبل ان لا يكون لك إذن؟ قال: لا والله لا آذن , قال شريح: اذهبي , انكحي ابنتك من شئت"
حضرت ابو جعفر اشجعی کہتے ہیں کہ ایک عورت اپنی ماں اور اپنے چچا کے ساتھ حضرت شریح کے پاس آئی۔ اس کی ماں ایک آدمی سے اور اس کا چچا دوسرے آدمی سے اس کا نکاح کرانا چاہتا تھا۔ حضرت شریح نے اس عورت کو اختیار دیا تو اس عورت نے اپنی ماں کی پسند کو اختیار کیا۔ حضرت شریح نے اس کے چچا سے پوچھا کہ کیا تم اجازت دیتے ہو؟ اس نے کہا کہ میں خدا کی قسم! ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ حضرت شریح نے فرمایا کہ کیا تم اجازت دیتے ہو قبل اس کے کہ تمہاری اجازت نہ رہے۔ اس کے چچا نے کہا کہ میں خدا کی قسم! ہرگز اجازت نہیں دوں گا۔ حضرت شریح نے اس عورت کی ماں سے فرمایا تم اپنی بیٹی کو لے جاؤ اور جہاں چاہو اس کا نکاح کرادو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 16765]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16765، ترقيم محمد عوامة 16260)