مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
164. ما قالوا في (الرجل) يتزوج المرأة على حكمها
ایک آدمی عورت سے اس بات پر شادی کرے کہ مہر کے بارے میں عورت کی فرمائش مانی جائے گی
ترقیم عوامۃ: 17491 ترقیم الشثری: -- 18093
١٨٠٩٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن علي بن مدرك قال: سمعت النخعي قال: تزوج الاشعث امراة على حكمها (فرفع) (١) إلى عمر بن الخطاب فقال: ارضها ارضها (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ز، ك]: (فرجع).
(٢) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك عمر.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا غندر، عن شعبة، عن علي بن مدرك، قال: سمعت النخعي، قال: " تزوج الاشعث امراة على حكمها، فرفع إلى عمر بن الخطاب فقال: ارضها ارضها"
حضرت نخعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اشعث نے ایک عورت سے منہ مانگے مہر پر شادی کی، پھر یہ مقدمہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اسے راضی کرو، اسے راضی کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18093]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18093، ترقيم محمد عوامة 17491)
ترقیم عوامۃ: 17492 ترقیم الشثری: -- 18094
١٨٠٩٤ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي قال: (إذا) (١) تزوج الرجل المراة على حكمها او حكمه فجار في الصداق (او) (٢) جاروا رد ذاك إلى صداق مثلها لا (وكس) (٣) ولا (شطط) (٤) ، (والنكاح) (٥) جائز.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: زيادة (إذا).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (إن).
(٣) في [ز، ك]: (وكن).
(٤) في [أ، س، هـ]: (شطاط).
(٥) في [س]: (ونكاح).
حدثنا هشيم، عن إسماعيل بن سالم، عن الشعبي، قال: " تزوج الرجل المراة على حكمها او حكمه فجار في الصداق او جاروا رد ذاك إلى صداق مثلها لا وكس ولا شطط، والنكاح جائز"
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شادی اس بات پر ہوئی کہ مہر کے معاملے میں عورت یا مرد کے حکم کا اعتبار ہوگا اور بعد میں جھگڑا ہوگیا تو بغیر کمی زیادتی کے مہر مثلی ملے گا اور نکاح جائز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18094]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18094، ترقيم محمد عوامة 17492)
ترقیم عوامۃ: 17493 ترقیم الشثری: -- 18095
١٨٠٩٥ - حدثنا وكيع عن ابي هلال عن محمد بن سيرين قال: خطب عمرو بن حريث إلى عدي بن حاتم ابنته فابى إلا على حكمه فرجع عمرو فاستشار اصحابه فقالوا (له) (١) : اتريد ان تحكم رجلا من طيء في عقدك، فابت نفسه فتزوجها على حكمه ثم انصرف، فحكم عدي سنة النبي ﷺ (٢) ثمانين (واربع) (٣) مائة فبعث إليه عمرو بعشرة آلاف وقال: جهزها (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [جـ، ك]: سقطت.
(٣) في [س]: (أربعة).
(٤) منقطع؛ ابن سيرين عن عمرو منقطع.
حدثنا حدثنا وكيع، عن ابي هلال، عن محمد بن سيرين، قال:" خطب عمرو بن حريث إلى عدي بن حاتم ابنته فابى إلا على حكمه، فرجع عمرو فاستشار اصحابه، فقالوا له: اتريد ان تحكم رجلا من طيئ في عقدك؟ فابت نفسه فتزوجها على حكمه، ثم انصرف فحكم عدي سنة النبي صلى الله عليه وسلم ثمانين واربع مائة، فبعث إليه عمرو بعشرة آلاف وقال: جهزها"
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرو بن حریث رحمہ اللہ نے عدی بن حاتم رحمہ اللہ کی بیٹی کے لئے نکاح کا پیغام بھجوایا۔ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مہر میرے حکم کے مطابق طے ہوگا۔ عمرو بن حریث نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ کیا تم طی کے ایک آدمی کو اپنے نکاح کے معاملے کا حاکم بناؤ گے۔ عمرو بن حریث نے پھر بھی انہیں ہی حکم سونپ دیا تو حضرت عدی نے فیصلہ کیا کہ حضور 5 کی سنت چارسو اسی ہے۔ عمرو نے انہیں دس ہزار بھیجے اور کہا کہ اپنی بیٹی کی رخصتی فرمادیجئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18095]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18095، ترقيم محمد عوامة 17493)
ترقیم عوامۃ: 17494 ترقیم الشثری: -- 18096
١٨٠٩٦ - حدثنا حفص عن اشعث عن ابن سيرين ان الاشعث تزوج امراة على حكمها فساله (عمر) (١) عنها فقال: بت (بليلة) (٢) لا يعلمها إلا الله (مخافة) (٣) ان (تحكم) (٤) علي في مال قيس فقال: ليس ذلك لها إنما لها مهر نسائها (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (عمرو).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (بليله)، وفي [س، هـ]: (ليلة).
(٣) في [س]: (فخافنه).
(٤) في [أ، ب]: (يحكم).
(٥) منقطع ضعيف؛ أشعث ضعيف، وابن سيرين عن عمر منقطع.
حدثنا حدثنا حفص، عن اشعث، عن ابن سيرين، ان الاشعث تزوج امراة على حكمها فساله عمر، عنها؟ فقال: بت ليلة لا يعلمها إلا الله مخافة ان تحكم علي في مال قيس، فقال:" ليس ذلك لها إنما لها مهر نسائها"
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت اشعث رحمہ اللہ نے ایک عورت سے اس کے منہ مانگے مہر پر شادی کی اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کیا کہ میں نے اس کے ساتھ ایک رات گزاری ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے، اس خوف کے ساتھ کہ کہیں وہ مجھ پر قیس کے مال کی فرمائش نہ کردے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ اسے یہ نہیں ملے گا اسے مہر مثلی ملے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18096]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18096، ترقيم محمد عوامة 17494)
ترقیم عوامۃ: 17495 ترقیم الشثری: -- 18097
١٨٠٩٧ - حدثنا يعلى بن عبيد عن عبد الملك عن عطاء في رجل تزوج امراة على حكمه فماتت المراة قبل ان يحكم الرجل، قال: لها صداق نسائها.
حدثنا يعلى بن عبيد، عن عبد الملك، عن عطاء: في " رجل تزوج امراة على حكمه، فماتت المراة قبل ان يحكم الرجل قال: لها صداق نسائها"
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی عورت سے اپنی مرضی کے مہر پر شادی کرے اور مہر کی تقرری سے پہلے آدمی کا انتقال ہوجائے تو عورت کو مہر مثلی ملے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18097]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18097، ترقيم محمد عوامة 17495)
ترقیم عوامۃ: 17496 ترقیم الشثری: -- 18098
١٨٠٩٨ - حدثنا يعلى (عن) (١) عبد الملك عن عطاء في رجل تزوج امراة على حكمه فحكم عشرة دراهم قال: يجوز، (قد) (٢) كان المسلمون يتزوجون على اقل من ذلك واكثر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بن).
(٢) في [أ، ب]: (وقد).
حدثنا يعلى، عن عبد الملك، عن عطاء: في " رجل تزوج امراة على حكمه فحكم عشرة دراهم، قال: يجوز , قد كان المسلمون يتزوجون على اقل من ذلك واكثر"
حضرت عبدالملک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے اپنی مرضی کا مہر دینے پر شادی کی، پھر اس نے دس درہم مہر دیے تو حضرت عطاء رحمہ اللہ نے اسے جائز قرار دیا اور فرمایا کہ مسلمان اس سے کم اور زیادہ مہر پر نکاح کیا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18098]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18098، ترقيم محمد عوامة 17496)