صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
24. باب ثُبُوتِ أَجْرِ الْمُتَصَدِّقِ وَإِنْ وَقَعَتِ الصَّدَقَةُ فِي يَدِ غَيْرِ أَهْلِهَا:
باب: صدقہ دینے والے کو ثواب ہے اگرچہ صدقہ اس کے حقدار کو نہ پہنچے۔
ترقیم عبدالباقی: 1022 ترقیم شاملہ: -- 2362
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ وَعَلَى سَارِقٍ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ، وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے کہا: میں آج رات ضرور کچھ صدقہ کروں گا تو وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا، صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ پر صدقہ کیا گیا، اس آدمی نے کہا: اے اللہ تیری حمد! زانیہ پر (صدقہ ہوا) میں ضرور صدقہ کروں گا، پھر وہ صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک مالدار کے ہاتھ میں دے دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے: ایک مالدار پر صدقہ کیا گیا۔ اس نے کہا: اے اللہ تیری حمد! مالدار پر (صدقہ ہوا) میں ضرور کچھ صدقہ کروں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک چور کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ لوگ صبح کو باتیں کرنے لگے: چور پر صدقہ کیا گیا۔ تو اس نے کہا: اے اللہ! سب حمد تیرے ہی لئے ہے، زانیہ پر، مالدار پر، اور چور پر (صدقہ ہوا)۔ اس کو (خواب میں) کہا گیا تمہارا صدقہ قبول ہو چکا، جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس (صدقے) کی وجہ سے زانیہ اپنے زنا سے پاک دامنی اختیار کر لے اور شاید مالدار عبرت پکڑے اور اللہ نے جو اسے دیا ہے (خود) اس میں صدقہ کرے اور شاید اس کی وجہ سے چور اپنی چوری سے باز آجائے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2362]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی نے کہا: ”میں آج رات صدقہ کروں گا۔“ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک زانیہ کے ہاتھ میں رکھ دیا، صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس آدمی نے کہا: ”اے اللہ! تو ہر حالت میں قابلِ تعریف ہے، میں زانیہ کو صدقہ دے بیٹھا ہوں، آج میں ضرور صدقہ کروں گا۔“ پھر وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک مالدار کو دے دیا، صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ رات مالدار کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے کہا: ”اے اللہ! قابلِ تعریف تو ہی ہے، میرا صدقہ غنی کو ملا، میں ضرور صدقہ کروں گا۔“ پھر وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا تو اسے ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا، لوگ صبح باتیں کرنے لگے کہ چور کو صدقہ دیا گیا، تو اس نے کہا: ”اے اللہ! تیرے لیے ہی حمد ہے، صدقہ زانیہ، غنی اور چور کو ملا۔“ پھر اس کے پاس کوئی (خواب میں) آیا اور اسے بتایا گیا: ”رہا تیرا صدقہ تو وہ قبول ہو چکا ہے؛ رہی زانیہ تو شاید وہ اس کے سبب زنا سے بچ جائے، اور شاید مالدار سبق حاصل کرے اور اللہ نے اسے جو کچھ دیا ہے اس میں سے صدقہ کرے، اور شاید چور اس کے باعث اپنی چوری سے باز آ جائے۔““ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2362]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1022
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة