مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
22. ما قالوا في الرجل يطلق المرأة واحدة فيلقاه الرجل فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! ثم يلقاه آخر فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم!
اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اورآدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے توآدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 18180 ترقیم الشثری: -- 18838
١٨٨٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد السلام بن حرب بن مغيرة عن إبراهيم في رجل طلق امراته واحدة، فلقيه رجل فيقول: طلقت امراتك؟ فيقول: نعم، ثم لقيه آخر فقال: طلقت؟ قال. نعم، فقال: إن كان نوى (الاولى) (١) (فهي) (٢) واحدة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ك]: (الأول).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط، ك]: (هي).
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد السلام بن حرب بن مغيرة، عن إبراهيم، في رجل طلق امراته واحدة فلقيه رجل، فيقول" طلقت امراتك"؟ فيقول:" نعم"! ثم لقيه آخر , فقال:" طلقت"؟ قال:" نعم"! فقال:" إن كان نوى الاولى فهي واحدة"
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اور آدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے تو آدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو اگر ان کو جواب دینے میں اس نے پہلی طلاق کی نیت کی تھی تو طلاق ایک ہی رہے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18838]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18838، ترقيم محمد عوامة 18180)
ترقیم عوامۃ: 18181 ترقیم الشثری: -- 18839
١٨٨٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا شريك عن الرجل يطلق المراة فيلقاه الرجل فيقول: طلقت؟ فيقول. نعم، ثم يلقاه آخر فيقول: طلقت فيقول: نعم! فحدثنا ⦗١٢٩⦘ عن ابي إسحاق عن ابن (معقل) (١) والشعبي قالا: إذا اراد (الاول) (٢) فلا باس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، هـ]: (مغفل).
(٢) في [ك]: (الأولى).
حدثنا ابو بكر، قال: نا شريك، عن الرجل يطلق المراة، فيلقاه الرجل فيقول: طلقت؟ فيقول:" نعم" , ثم يلقاه آخر فيقول: طلقت؟ فيقول:" نعم" , فحدثنا عن ابي إسحاق، عن ابن معقل، والشعبي، قالا:" إذا اراد الاول فلا باس"
حضرت ابن معقل رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اور آدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے تو آدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو اگر ان کو جواب دینے میں اس نے پہلی طلاق کی نیت کی تھی اور طلاق ایک ہی رہے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18839]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18839، ترقيم محمد عوامة 18181)
ترقیم عوامۃ: 18182 ترقیم الشثری: -- 18840
١٨٨٤٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن في رجل طلق امراته (١) فلقي (٢) [فقيل (له) (٣) طلقت امراتك؟] (٤) فقال: نعم! فلقي آخر فقيل له: طلقت امراتك؟ فقال: نعم! فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب فقال: ما نوى (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (امرأة).
(٢) في المطبوع: (رجلًا).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) تكرر في: [أ، ب].
(٥) منقطع؛ الحسن عن عمر منقطع.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا عبدة، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، في رجل طلق امراته فلقي فقيل له:" طلقت امراتك؟ قال:" نعم"! فلقي آخر فقيل له:" طلقت امراتك"؟ فقال:" نعم"! فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب، فقال:" ما نوى"
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا اس نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر ایک اور آدمی ملا اس نے بھی یہی سوال کیا تو اس نے پھر ہاں کہا۔ یہ معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کی نیت کا اعتبار ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18840]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18840، ترقيم محمد عوامة 18182)
ترقیم عوامۃ: 18183 ترقیم الشثری: -- 18841
١٨٨٤١ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو داود الطيالسي عن عبد ربه عن جابر بن زيد قال: سالته عن رجل طلق امراته تطليقة ثم طلقها اخرى فكانتا (اثنتين) (١) ، ثم لقيه رجل فقال: طلقت امراتك؟ فقال: نعم! قال: فقال: إن كان إنما اراد ما (كان) (٢) طلق فليس عليه شيء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (اثنين).
(٢) زيادة من: [جـ، ط، ك، هـ].
حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو داود الطيالسي، عن عبد ربه، عن جابر بن زيد، قال: سالته عن رجل طلق امراته تطليقة، ثم طلقها اخرى، فكانتا اثنتين، ثم لقيه رجل، فقال:" طلقت امراتك"؟ فقال:" نعم"! قال: فقال:" إن كان إنما اراد ما كان طلق فليس عليه شيء"
حضرت عبد ربہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا اس نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر ایک اور آدمی ملا اس نے بھی یہی سوال کیا تو اس نے پھر ہاں کہا۔ تو اس کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر دونوں مرتبہ ہاں کہنے میں پہلی طلاق کی نیت تھی تو کچھ لازم نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18841]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18841، ترقيم محمد عوامة 18183)
ترقیم عوامۃ: 18184 ترقیم الشثری: -- 18842
١٨٨٤٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو معاوية عن (الشيباني) (١) عن حماد في رجل قال لامراته: انت طالق، فقالت: اي شيء تقول؟ فقال: انت طالق البتة، فقال حماد: إن كان اراد ان يفهمها فلا باس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (السناني)، وفي [س]: (شيباني).
حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو معاوية، عن الشيباني، عن حماد، في رجل قال لامراته: انت طالق , فقالت: اي شيء تقول؟ فقال: انت طالق البتة، فقال حماد:" إن كان اراد ان يفهمها ؛ فلا باس"
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے۔ اس کی بیوی نے کہا کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اس نے کہا میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں تو اگر محض اسے سمجھا نے کے لئے دوبارہ کہا تو ایک ہی طلاق ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18842]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18842، ترقيم محمد عوامة 18184)
ترقیم عوامۃ: 18185 ترقیم الشثری: -- 18843
١٨٨٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن شعبة قال: سالت الحكم (١) عن الرجل يقول لامراته: انت طالق، انت طالق، انت طالق قال (٢) : (هي ثلاث) (٣) إلا ان يكون نوى الاولى، وإذا قال: اعتدي فمثل ذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سيأتي الخبر برقم [١٨٨٥٩]، وفيه زيادة (وحمادًا).
(٢) في [ك]: (قالا).
(٣) في [س، هـ]: (لها).
حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن شعبة، قال: سالت الحكم، عن الرجل يقول لامراته: انت طالق , انت طالق , انت طالق، قال:" هي ثلاث إلا ان يكون نوى الاولى" وإذا قال:" اعتدي فمثل ذلك"
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ تین طلاقیں ہوجائیں گی اور اگر اس نے ایک کی نیت کی ہو تو ایک ہوگی، اور اگر بیوی سے کہا کہ عدت شمار کر تو بھی یہی حکم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18843]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18843، ترقيم محمد عوامة 18185)
ترقیم عوامۃ: 18186 ترقیم الشثری: -- 18844
١٨٨٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن فضيل عن عقبة (بن) (١) ابي (العيزار) (٢) قال: سالت إبراهيم عن رجل طلق امراته تطليقة او تطليقتين فساله رجل طلقت امراتك كذا وكذا ثلاث او اربع؟ فيقول الرجل: نعم! قال إبراهيم: بانت منه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [هـ]: (العريان)، وفي [س]: (العران).
حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن فضيل، عن عقبة، عن ابي العيزار، قال: سالت إبراهيم، عن رجل طلق امراته تطليقة، او تطليقتين، فساله رجل: طلقت امراتك كذا وكذا، ثلاث او اربع"؟ فيقول الرجل:" نعم"! قال إبراهيم:" بانت منه"
حضرت عقبہ بن ابی عیزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں۔ پھر اس سے کسی آدمی نے سوال کیا تو کیا تو اپنی بیوی کو اتنی اتنی یعنی تین یا چار طلاقیں دے دیں اور آدمی نے جواب میں کہا ہاں تو حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ عورت بائنہ ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18844]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18844، ترقيم محمد عوامة 18186)