🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. ما قالوا في الرجل يطلق المرأة واحدة فيلقاه الرجل فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! ثم يلقاه آخر فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم!
اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اورآدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے توآدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18183 ترقیم الشثری: -- 18841
١٨٨٤١ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو داود الطيالسي عن عبد ربه عن جابر بن زيد قال: سالته عن رجل طلق امراته تطليقة ثم طلقها اخرى فكانتا (اثنتين) (١) ، ثم لقيه رجل فقال: طلقت امراتك؟ فقال: نعم! قال: فقال: إن كان إنما اراد ما (كان) (٢) طلق فليس عليه شيء.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (اثنين).
(٢) زيادة من: [جـ، ط، ك، هـ].

حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو داود الطيالسي، عن عبد ربه، عن جابر بن زيد، قال: سالته عن رجل طلق امراته تطليقة، ثم طلقها اخرى، فكانتا اثنتين، ثم لقيه رجل، فقال:" طلقت امراتك"؟ فقال:" نعم"! قال: فقال:" إن كان إنما اراد ما كان طلق فليس عليه شيء"
حضرت عبد ربہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا اس نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر ایک اور آدمی ملا اس نے بھی یہی سوال کیا تو اس نے پھر ہاں کہا۔ تو اس کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر دونوں مرتبہ ہاں کہنے میں پہلی طلاق کی نیت تھی تو کچھ لازم نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18841]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18841، ترقيم محمد عوامة 18183)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 18841 in Urdu