🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. في الرجل يكتب طلاق امرأته بيده
اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18300 ترقیم الشثری: -- 18967
١٨٩٦٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا كتب الطلاق بيده وجب عليه.
حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير، عن مغيرة، عن إبراهيم، قال: " إذا كتب الطلاق بيده وجب عليه"
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھی تو یہ واقع ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18967]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18967، ترقيم محمد عوامة 18300)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18301 ترقیم الشثری: -- 18968
١٨٩٦٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن علي بن الحكم (البناني) (١) قال: حدثني رجل ان رجلا كتب طلاق امراته بيده على وسادة فسئل عن ذلك الشعبي فرآه طلاقا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (النقابي).
حدثنا ابو بكر، قال: نا إسماعيل ابن علية، عن علي بن الحكم البناني، قال: حدثني رجل , ان رجلا كتب طلاق امراته بيده على وسادة، فسئل عن ذلك الشعبي؟" فرآه طلاقا"
حضرت علی رضی اللہ عنہ بن حکم بنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے ہاتھ سے تکیے پر اپنی بیوی کے لئے طلاق لکھی۔ اس بارے میں حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے طلاق قرار دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18968]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18968، ترقيم محمد عوامة 18301)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18302 ترقیم الشثری: -- 18969
١٨٩٦٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الله بن نمير عن عبد الملك عن عطاء انه سئل عن رجل انه كتب (طلاق) (١) امراته ثم ندم فامسك الكتاب، قال: إن امسك فليس بشيء، وإن امضاه فهو طلاق.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: (بطلاق).
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الله بن نمير، عن عبد الملك، عن عطاء، انه سئل عن رجل انه كتب طلاق امراته , ثم ندم، فامسك الكتاب؟ قال:" إن امسك ؛ فليس بشيء , وإن امضاه ؛ فهو طلاق"
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق لکھی، پھر نادم ہوا اور خط کو روک لیا تو طلاق ہوگی یا نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر روک لیا تو طلاق نہیں ہوگی اور اگر جانے دیا تو طلاق ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18969]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18969، ترقيم محمد عوامة 18302)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18303 ترقیم الشثری: -- 18970
١٨٩٧٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الاعلى عن هشام عن الحسن في الرجل يكتب إلى امراته بطلاقها ثم يبدو له ان يمسك الكتاب، قال: ليس بشيء ما لم يتكلم وإن بعث إليها اعتدت من يوم ياتيها الكتاب.
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الاعلى، عن هشام، عن الحسن في الرجل يكتب إلى امراته بطلاقها , ثم يبدو له ان يمسك الكتاب؟ قال:" ليس بشيء ما لم يتكلم , وإن بعث إليها ؛ اعتدت من يوم ياتيها الكتاب"
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کے نام طلاق لکھی، پھر اسے خیال آیا کہ اس خط کو روک دے، تو اگر وہ تکلم نہ کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، اگر خط بیوی کی طرح بھیج دیا تو جس دن سے خط اسے ملے اسی دن سے وہ عورت عدت شمار کرے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18970]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18970، ترقيم محمد عوامة 18303)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18304 ترقیم الشثری: -- 18971
١٨٩٧١ - حدثنا ابو بكر قال: نا غندر عن شعبة عن عبد (الخالق) (١) عن حماد (قال) (٢) : إذا كتب الرجل إلى امراته: إذا اتاك كتابي هذا فانت طالق، فإن لم ياتها الكتاب فليس (هي) (٣) بطالق، (فإن) (٤) كتب: اما بعد فانت طالق (فهي طالق) (٥) قال ابن شبرمة (٦) : (فهي) (٧) طالق.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الخلف).
(٢) في [س]: (وقال).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ز، ك].
(٤) في [جـ]: (وإن).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) تقديم وتأخير في [جـ]: (ابن شبرمة قال)، وفي [س]: (ابن سيرين).
(٧) في [أ، ب، ط، ك]: (هي).

حدثنا ابو بكر، قال: نا غندر، عن شعبة، عن عبد الخالق، عن حماد، قال: " إذا كتب الرجل إلى امراته: إذا اتاك كتابي هذا فانت طالق , فإن لم ياتها الكتاب، فليس هي بطالق , فإن كتب: اما بعد فانت طالق فهي طالق" , قال ابن شبرمة:" هي طالق"
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو خط لکھا اور اس میں تحریر کیا کہ جب میرا یہ خط تمہارے پاس آئے تو تمہیں طلاق ہے، اگر خط اس کے پاس نہ پہنچا توطلاق نہ ہوگی، اور اگر خط میں لکھا: اما بعد! تمہیں طلاق ہے۔ تو اگر خط نہ بھی پہنچے تو طلاق ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18971]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18971، ترقيم محمد عوامة 18304)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں