مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
167. ما قالوا في المرتد عن الإسلام؟ أعلى امرأته عدة؟
کیا مرتد کی بیوی پر عدت لازم ہوگی؟
ترقیم عوامۃ: 19137 ترقیم الشثری: -- 19888
١٩٨٨٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن موسى بن ابي كثير (ابي) (١) الصباح قال: قلت لسعيد بن المسيب: كم تعتد امراته؟ يعني (المرتد) (٢) ، قال: ثلاثة قروء، قلت: فإن قتل؟ قال: (اربعة) (٣) اشهر وعشرا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ف]: (بن).
(٢) في [س]: (مرتد).
(٣) في [هـ]: (فأربعة).
حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن سفيان، عن موسى بن ابي كثير، ابي الصباح، قال: قلت لسعيد بن المسيب: كم تعتد امراته؟ يعني المرتد , قال:" ثلاثة قروء , قلت: فإن قتل؟ قال: فاربعة اشهر وعشرا"
حضرت موسیٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ مرتدشخص کی بیوی کتنی عدت گزارے گی؟ انہوں نے فرمایا کہ تین حیض۔ میں نے پوچھا اگر اسے قتل کردیا جائے تو؟ فرمایا چار مہینے دس دن۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19888]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19888، ترقيم محمد عوامة 19137)
ترقیم عوامۃ: 19138 ترقیم الشثری: -- 19889
١٩٨٨٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن اشعث عن الشعبي والحكم قالا في الرجل المسلم يرتد عن الإسلام ويلحق بارض العدو، قالا: تعتد (امراته) (١) ثلاثة قروء إن كانت تحيض، وإن كانت لا تحيض فثلاثة اشهر، وإن كانت (حامل ان تضع) (٢) حملها ثم تزوج إن شاءت، وإن هو رجع (فتاب) (٣) قبل ان تنقضي عدتها (يثبتان) (٤) على نكاحهما.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: (حاملًا فتضع)، وفي [ط]: (حاملًا أن تضع)، ولعل كان هنا تامة.
(٣) في [ط]: (مطموسة).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (يثيبان)، وفي [س]: (ثبتان).
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الرحيم بن سليمان، عن اشعث، عن الشعبي، والحكم، قالا: في الرجل المسلم يرتد عن الإسلام , ويلحق بارض العدو؟ قالا:" تعتد امراته ثلاثة قروء إن كانت تحيض , وإن كانت لا تحيض ؛ فثلاثة اشهر , وإن كانت حاملا فتضع حملها ثم تزوج إن شاءت , وإن هو رجع فتاب قبل ان تنقضي عدتها ؛ يثبتان على نكاحهما"
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان مرتد ہوکر کافروں کی سرزمین میں چلا جائے تو اس کی بیوی کو اگر حیض آتا ہو تو تین حیض عدت گزارے گی اور اگر حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے۔ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ پھر وہ چاہے تو شادی کرسکتی ہے۔ اگر اس کا خاوند عدت پوری ہونے سے پہلے واپس آجائے اور توبہ کرلے تو ان کا نکاح باقی رہے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19889]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19889، ترقيم محمد عوامة 19138)
ترقیم عوامۃ: 19139 ترقیم الشثری: -- 19890
١٩٨٩٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل عن الحسن قال: إذا ارتد الرجل عن الإسلام فقد بانخا منه امراته بتطليقة بائنة، فليس (له) (١) عليها سبيل إن رجع، وتعتد عدة المطلقة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ز، ك]: زيادة (له)، وفي [س]: (بها).
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الرحيم بن سليمان، عن إسماعيل، عن الحسن، قال: " إذا ارتد الرجل عن الإسلام فقد بانت منه امراته بتطليقة بائنة ؛ فليس عليها سبيل إن رجع وتعتد عدة المطلقة".
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مرتد ہوجائے تو اس کی بیوی کو ایک طلاق بائنہ ہوجائے گی۔ اس کے پاس بیوی سے رجوع کرنے کا حق نہیں ہوگا اور عورت مطلقہ والی عدت گزارے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19890]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19890، ترقيم محمد عوامة 19139)
ترقیم عوامۃ: 19140 ترقیم الشثری: -- 19891
١٩٨٩١ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الرحيم عن إسماعيل عن ابي معشر عن إبراهيم قال: هو بها احق ما دامت في العدة، إن رجع وهي في عدتها فهي امراته.
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الرحيم، عن إسماعيل، عن ابي معشر، عن إبراهيم، قال:" هو بها احق ما دامت في العدة , إن رجع وهي في عدتها ؛ فهي امراته" ,
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک عورت عدت میں ہے وہ اس کا زیادہ حق دار ہوگا اگر عدت میں وہ رجوع کرلے تو وہ اسی کی بیوی رہے گی۔ حضرت ابو معشر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے یہی بات حضرت عبد الحمید بن عبدالرحمن کی طرف مرتد کے بارے میں لکھی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19891]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19891، ترقيم محمد عوامة 19140)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19892
١٩٨٩٢ - قال ابو معشر: فكتب بذلك عمر بن عبد العزيز إلى (عبد الحميد) (١) بن عبد الرحمن في المرتد (بذلك) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [خ]: (عبده حميد).
(٢) سقط من: [هـ].
قال ابو معشر: فكتب بذلك عمر بن عبد العزيز إلى عبد الحميد بن عبد الرحمن في المرتد بذلك
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19892، ترقيم محمد عوامة ---)