🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

195. ما قالوا في أم الولد، يموت عنها وهي حامل، من (أين) ينفق عليها؟
اگر ام ولد حاملہ ہو اور اس کا آقا انتقال کرجائے تو اس پر کہاں سے خرچ کیا جائے گا؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19330 ترقیم الشثری: -- 20102
٢٠١٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا إسماعيل ابن علية عن يونس (ان) (١) ابن سيرين (٢) كان يرى لكل حامل نفقة قال: (فولي) (٣) ام ولد يعلى بن خالد فكان يرى لها النفقة، فكره ان ينفق (عليها) (٤) دون القاضي، فارسل إلى عبد الملك بن يعلى فمنعها (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [أ، س، ط، هـ]: زيادة (قال).
(٣) في [هـ]: (توفي)، وفي [أ، ب]: (قولي)، وفي [أ، س، ط، هـ]: زيادة (عن) بعدها.
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [خ]: زيادة (هو).

حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ ہر حاملہ کے لئے نفقہ کے قائل تھے۔ یعلی رضی اللہ عنہ بن خالد کی ام ولد کے لئے انہوں نے نفقہ کی رائے دی تھی لیکن وہ اس بات کو مکروہ خیال فرماتے تھے کہ ام ولد پر قاضی کے بغیر خرچ کیا جائے۔ انہوں نے عبد الملک بن یعلی رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے نفقہ سے منع کردیا۔ حضرت حسن فرمایا کرتے تھے کہ اس پر خرچ کیا جائے گا۔ اگر زندہ بچے کو جنم دے تو اس کا نفقہ بچے کے حصے میں سے ہوگا اور اگر مردہ بچے کو جنم دے تو اسے لغو قرار دے دیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20102]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20102، ترقيم محمد عوامة 19330)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 20103
٢٠١٠٣ - وقال: كان الحسن يقول: ينفق عليها، فإن ولدته حيا فنفقتها من نصيب ولدها، وإن ولدته ميتا الغي ذلك.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20103، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19331 ترقیم الشثری: -- 20104
٢٠١٠٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الوهاب الثقفي عن برد عن مكحول قال: إذا كانت ام ولد فتوفي عنها سيدها؛ فنفقتها من نصيب الذي في بطنها.
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ام ولد کا آقا فوت ہوجائے تو اس کا نفقہ اس کے حصے میں سے ہوگا جو اس کے پیٹ میں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20104]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20104، ترقيم محمد عوامة 19331)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں