مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
204. من قال: ترثه ما دامت في العدة منه إذا طلق وهو مريض
جو حضرات فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت کی حالت میں طلاق دے تو اگر عورت اس کی وفات کے وقت عدت میں ہوتو وارث ہوگی
ترقیم عوامۃ: 19377 ترقیم الشثری: -- 20155
٢٠١٥٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن إبراهيم عن شريح قال: اتاني عروة (البارقي) (١) من عند عمر، في الرجل يطلق امراته ثلاثا في (مرضه) (٢) : إنها ترثه ما دامت في العدة ولا يرثها (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (الباقي).
(٢) في [ب]: (مرطه).
(٣) صحيح.
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے میرے پاس عروہ بارقی آئے اور انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت کی حالت میں تین طلاقیں دے دے تو اگر عورت اس کی وفات کے وقت عدت میں ہو تو وارث ہوگی۔ جبکہ مرد عورت کا وارث نہیں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20155]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20155، ترقيم محمد عوامة 19377)
ترقیم عوامۃ: 19378 ترقیم الشثری: -- 20156
٢٠١٥٦ - حدثنا ابو بكر (نا) (١) جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: ترثه ولا يرثها ما دامت في العدة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، س، ط، هـ]: (عن).
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک عورت عدت میں ہے وہ تو خاوند کی وار ث ہوگی لیکن وہ اس کا وارث نہیں ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20156]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20156، ترقيم محمد عوامة 19378)
ترقیم عوامۃ: 19379 ترقیم الشثری: -- 20157
٢٠١٥٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن ابيه ان (الحسن) (١) بن علي طلق امراته وهو مريض فمات، فورثته (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ز، ط، ك]: (حسن).
(٢) منقطع؛ أبو جعفر لا يروي عن الحسن.
حضرت جعفر رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو مرض الوفات میں طلاق دی اور پھر وہ ان کی وارث ہوئی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20157]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20157، ترقيم محمد عوامة 19379)
ترقیم عوامۃ: 19380 ترقیم الشثری: -- 20158
٢٠١٥٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص بن غياث عن داود واشعث عن الشعبي (عن شريح) (١) قال: إذا طلق ثلاثا في مرضه (ورثته) (٢) ما دامت في العدة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، س، ط، هـ].
(٢) في [س]: (فورثته).
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے اپنی بیوی کو مرض الموت میں طلاق دی تو اگر آدمی کے انتقال کے وقت عورت عدت میں تھی تو وہ وارث ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20158]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20158، ترقيم محمد عوامة 19380)
ترقیم عوامۃ: 19381 ترقیم الشثری: -- 20159
٢٠١٥٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا عباد بن العوام عن اشعث عن الشعبي ان ام (البنين) (١) بنت (عيينة) (٢) بن (حصن) (٣) كانت تحت عثمان بن عفان، فلما (حصر) (٤) طلقها، وقد كان ارسل إليها ليشتري منها ثمنها (فابت) (٥) فلما (قتل) (٦) اتت عليا فذكرت ذلك له فقال: تركها حتى إذا اشرف على الموت طلقها، فورثها (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ط، ك]: (السن)، وفي [أ، ب]: (أنس)، وفي [ز]: (اليس).
(٢) في [س]: (عنية).
(٣) في [ب، س، ك]: (حصين).
(٤) في [أ، س]: (حضر).
(٥) في [ط]: (قامت).
(٦) في [أ]: (قيل).
(٧) منقطع ضعيف؛ أشعث ضعيف، والشعبي عن عثمان منقطع.
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ام بنین بنت عیینہ بن حصن، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کاشانۂ خلافت میں محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے ام بنین کو طلاق دے دی۔ وہ ان کی طرف پیغام بھیجا کرتے تھے کہ ان سے ان کا ثمن خرید لیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد ام بنین نے اس بات کا تذکرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا پھر جب موت کے قریب ہوئے تو اسے طلاق دے دی اور اسے وارث بنادیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20159]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20159، ترقيم محمد عوامة 19381)
ترقیم عوامۃ: 19382 ترقیم الشثری: -- 20160
٢٠١٦٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا علي بن مسهر عن الشيباني (عن الشعبي) (١) ان هشام (بن هبيرة) (٢) كتب إلى شريح يساله عن الرجل يطلق امراته ثلاثا في مرضه، فكتب إليه شريح: إنه فار من كتاب الله، ترثه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س، هـ].
(٢) في [س]: (ابن ميسرة).
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ہشام بن ہبیرہ رحمہ اللہ نے حضرت شریح رحمہ اللہ کو خط لکھا جس میں ان سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت میں تین طلاقیں دے دے تو کیا وہ اس کی وارث ہوگی؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اللہ کی کتاب سے بھاگنا چاہتا ہے، وہ وارث ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20160]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20160، ترقيم محمد عوامة 19382)
ترقیم عوامۃ: 19383 ترقیم الشثری: -- 20161
٢٠١٦١ - حدثنا ابو بكر قال: نا (حميد بن) (١) عبد الرحمن عن (حسن) (٢) عن ليث عن طاوس في (رجل) (٣) طلق امراته ثلاثا في مرضه قال: ترثه ما دامت في العدة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عبد الحميد)، في [ط]: (عبد الرحيم)، وسقط من: [أ، ب، س، ز، هـ].
(٢) في [ز]: (حسين).
(٣) في [هـ]: (الرجل).
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مرض الموت میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اگر اس کی عدت میں آدمی کا انتقال ہوجائے تو وہ وارث ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20161]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20161، ترقيم محمد عوامة 19383)
ترقیم عوامۃ: 19384 ترقیم الشثری: -- 20162
٢٠١٦٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا حاتم بن إسماعيل عن هشام قال: سالت عروة عن الرجل يطلق امراته البتة، ايرث احدهما الآخر؟ وهل لها نفقة؟ فقال: لا يرث احدهما الآخر، ولا نفقة لها، إلا ان (تكون) (١) حبلى فينفق عليها حتى تضع، او يطلق مضارا في (مرض) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (إلا أن يكون).
(٢) في [هـ]: (مرضه).
حضرت ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عروہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو حتمی طلاق دے دے تو کیا وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے؟ اور کیا عورت کو نفقہ ملے گا؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوں گے اور عورت کو نفقہ بھی نہیں ملے گا، البتہ اگر حاملہ ہو تو نفقہ ملے گا۔ آدمی بچے کی پیدائش تک اس پر خرچ کرے گا۔ اسی طرح اگر مرض الموت میں عورت کو نقصان پہنچانے کے لئے طلاق دے تب بھی یہی حکم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20162]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20162، ترقيم محمد عوامة 19384)
ترقیم عوامۃ: 19385 ترقیم الشثری: -- 20163
٢٠١٦٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا يزيد بن هارون قال: انا سعيد بن ابي عروبة عن هشام (بن عروة) (١) عن ابيه عن عائشة انها قالت في المطلقة ثلاثا وهو مريض: ترثه ما دامت في العدة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بن عروبة)، وسقط من: [هـ].
(٢) منقطع؛ سعيد بن أبي عروبة لم يسمع من هشام.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو مرض الموت میں تین طلاقیں دے دے تو اگر عدت میں آدمی کا انتقال ہوجائے تو عورت وارث ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20163]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20163، ترقيم محمد عوامة 19385)
ترقیم عوامۃ: 19386 ترقیم الشثری: -- 20164
٢٠١٦٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن اشعث عن ابن (سيرين) (١) قال: كانوا يقولون: لا (يختلفون) (٢) من فر من كتاب الله رد إليه؛ يعني في (الرجل) (٣) يطلق امراته وهو مريض.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (شيرين).
(٢) في [أ، س، ط، هـ]: (تختلفون).
(٣) في [ك]: (الذي)
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل علم فرمایا کرتے تھے کہ تو اختلاف نہیں کرو گے، جو شخص اللہ کی کتاب سے بھاگے گا اسے اسی کی طرف لوٹایا جائے گا یعنی وہ شخص جو مرض الوفات میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20164]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20164، ترقيم محمد عوامة 19386)