مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
216. في رجل أخذ (لصا) (فكلم) فيه (فحلف) بالطلاق فغلبه (فانفلق) منه
اگر ایک آدمی نے کسی چور کو پکڑا اور اس کے بارے میں اس سے بات کی گئی تو اس نے طلاق کی قسم کھالی، پھر وہ اس پر غالب آگیا اور اس سے بھاگ گیا تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 19427 ترقیم الشثری: -- 20208
٢٠٢٠٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن واقد مولى بني حنظلة قال: سئل عطاء بن (ابي) (١) رباح عن رجل اخذ (لصا) (٢) فاجتمع عليه الناس فطلبوا إليه ان يتركه، فقال: إن تركته (فامراته) (٣) طالق ثلاثا، فغلبه على نفسه (فانفلت) (٤) منه قال: فقال عطاء: ليس عليه شيء (٥) إنما (غلبه) (٦) على نفسه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، جـ]: سقطت (أبي).
(٢) في [س]: (نقمًا).
(٣) في [هـ]: (فامرأتي).
(٤) في [س]: (فانقلت)، وفي [ك]: (فانقلبت).
(٥) في [س، ز، هـ]: زيادة (و).
(٦) في [س، هـ]: (غلب).
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص نے کوئی چور پکڑا، پھر لوگ اس کے پاس جمع ہوگئے اور لوگوں نے اس سے مطالبہ کیا کہ اس چور کو چھوڑ دو۔ اس نے کہا کہ اگر وہ اس کو چھوڑے تو اس کی بیوی کو تین طلاق۔ پھر چور اس پر غالب آگیا اور اس سے بھاگ گیا تو حضرت عطاء نے فرمایا کہ اس پر کچھ لازم نہیں وہ اس پر غالب آگیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20208]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20208، ترقيم محمد عوامة 19427)